Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-08 - بوقت: 23:53

حکومت جی ایس ٹی بل کو منظور کروانا نہیں چاہتی - کپل سبل

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی ، یو این آئی
ٹیکس قوانین میں اصلاحات سے متعلق اشیاء اور خدمات بل( جی ایس ٹی) پر اصل اپوزیشن جماعت کانگریس کی تجاویز کو قبول کرنے کے حکومت کے اعلان کے بعد کانگریس نے کہا کہ جی ایس ٹی بل پر اس کی تجاویز پر کسی پیشرفت کی تردید کی ۔ کانگریس کے ترجمان کپل سبل نے کہا کہ جی ایس ٹی کے معاملہ پر اپوزیشن کو ہموار کرنے کی غرض سے حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے اقدام کو دکھا وا قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود مودی حکومت اس بل کو منظور کروانا نہیں چاہتی ہے اور اس لئے وہ اس پر سخت اڑیل رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے سینئر قائد نے آج یہاں خصوصی نیوز کانفرنس میں کہا کہ حکومت شراب ، تمباکو وغیرہ کو اس بل کے دائرے سے باہر رکھنا چاہتی ہے جب کہ ان اشیاء سے35فیصد ٹیکس ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سودیشی جاگرن منچ اور آر ایس ایس اس بل کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی بل کانگریس کی دین ہے اور وزیر اعظم بننے سے قبل نریند رمودی نے اس کی مخالفت کی تھی ۔ کانگریس اس کی منظوری میں رکاوٹ نہیں بن رہی ہے لیکن بی جے پی حکومت نے بل کو تبدیل کیا ہے اور اس وجہ سے عوامی مفاد کے مد نظر اس میں کچھ تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے اس کی مطالبہ پر اڑیل رخ اختیار کرلیا ہے اورا سکے رویہ سے ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ خود اس بل کو منظور کروانا نہیں چاہتی ۔ انہوں نے مرکزی وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو کی اس تعلق سے آج کانگریس اور سونیا گاندھی سے ہوئی ملاقات کو محض فوٹو کھنچوانے کا ایک موقع بتایا۔ مجوزہ گڈس اینڈ سرویس بل ہندوستان کی آزادی کے بعد سے مالیہ سے متعلق سب سے بڑی تبدیلی ہوگی ۔ اس کے ذڑیعہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے عائد کئے جانے والے محصولات کو تبدیل کرتے ہوئے ملک کے1.2بلین عوام کے لئے یکساں ٹیکس حاصل کیاجائے گا ۔ اس بل کی تائید کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس کے ذریعہ ہندوستان کی معاشی ترقی کو2 فیصد تک آگے بڑھایاجاسکتا ہے۔کانگریس پارٹی جس نے در اصل اس اصلاحی بل کو مدون کیا ہے ، کہا کہ این ڈی اے حکومت کی جانب سے لائے گئے جی ایس ٹی بل میں کئی خامیاں ہیں۔ کانگریس نے آج کہا کہ جی ایس ٹی بل میں کوئی واضح پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے آج صدر کانگریس سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کے قائدین کو بتایا کہ جی ایس ٹی کے سلسلے میں ان کے تین اعتراض تھے ، ان کو وزیر فینانس ارون جیٹلی نے حل کردیا ہے ۔ کانگریس نے نائیڈو کے اس بیان کو اس مسئلہ پر بی جے پی کی دیدہ دلیری قرار دیا ۔ کانگریس کے ترجمان کپل سبل نے آج دعویٰ کیا کہ جی ایس ٹی بل پر بی جے پی اپوزیشن پارٹی سے کسی بھی مفاہمت کے لئے تیار نہیں ہے ۔ جس پر آر ایس ایس اور سوادیشی جاگرن منچ نے بھی اس کی مخالفت کی ہے ۔ کپل سبل سے جب یہ پوچھا گیا کہ آیا حکومت نے کانگریس کے مطالبہ کو قبول کرلیا ہے اس پر کپل سبل نے استفسار کیا کہ کون سی تجویز کو قبول کیا گیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی اگر حکومت ہمارے مطالبات کو قبول کرتی ہے تو کیوں وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ راجیہ سبھا میں کانگریس کی عددی قوت کو گھٹاتے ہوئے جی ایس ٹی بل کو منظور کرلیاجائے گا۔ یہ صرف دکھاوا ہے ، نائیدو نے آکر سونیا گاندھی سے ملاقات کی ، انہیں یہ سب کچھ بتانا چاہئے تھا، آیا کوئی بھی چیز اس میں حقیقی ہے ، آیا کوئی واضح تیقن دیا گیا ہے ، وزیر اعظم کو اس پر پہلے کہنا چاہئے ۔ وزیر فینانس نے اپنے بلاک اور ٹوئٹ پر آکر کچھ کہا ہے ۔ کپل سبل نے کہا کہ اس بات کو مسترد کردیا کہ حکومت حکومت نے کسی قسم کا کوئی پیشکش کیا ہے اور کانگریس کے مطالبات پر راضی ہوگئی ہے ۔ کانگریس کے ایک اور قائد نے کہا کہ یہ سب کچب دکھاوا پٹھان کوٹ حملہ سے عوام کی توجہ کو مبذول کرنے کے لئے کیاجارہا ہے ۔
کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اس کے وزیرو ں کو ٹوئٹ کرکے پیغام دینے کا سلسلہ بند کرنے کی صلاح دیتے ہوئے آج کہا کہ ٹوئٹر بازی بہت ہوگئی ہے اور اب وزیر اعظم کو عوامی مفادات کے امور کو سلجھانا چاہئے نہ کہ تاریخ بنانے کی کوشش میں رہنا چاہئے ۔ کپل سبل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹوئٹ بازی میں ماہر وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں کو ٹؤٹ کرنے کا سلسلہ بند کردینا چاہئے ۔ ٹوئٹ بازی بہت ہوگئی ۔ انہیں ملک کے سامنے موجود مسائل کے حل کے لئے اقداماتکرنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی تاریخ سے سبق لئے بغیر تاریخ بنانا چاہتے ہیں ۔ پٹھان کوٹ کے دہشت گردانہ حملہ کے خلاف اس حکومت نے جس طرح کی کارروائی کیا ہے اس سے مودی کی حکومت میں وزیر اعظم کے دفتر کے معیار کا پتہ چلتا ہے ۔ کانگریس کے رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نے اچانک جنم دن کی پارٹی میں شامل ہونے کے لئے لاہور پہنچتے ہیں اور وہاں کے وزیر اعظم سے بات چیت کرتے ہیں ، لیکن ملک کو اس کی اطلاع نہیں دیتے ہیں ۔ وزیر اعظم کا کابل دورہ تو ٹھیک ہے لیکن لوٹتے وقت وہ کسی کو بتائے بغیر لاہور کیسے پہنچے ، یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم اس طرح کیسے پاکستان پہنچتے ہیں، اس کا جواب ملنا چاہئے ۔

Modi government using only optics, not serious about GST: Kapil Sibal

0 comments:

Post a Comment