Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-31 - بوقت: 23:47

وزیر اعظم مودی کی کارکردگی مایوس کن - اچھے دن ہنوز خواب

Comments : 0
نئی دہلی
امولیہ گنگولی، آئی اے این ایس
نریندر مودی کے بیشتر حامیوں کے لئے جن میں بھگوا خیمہ کے باہر کے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے ان کے معاشی ایجنڈہ کا خیر مقدم کیا تھا ، وزیر اعظم کی میعاد تا حال مایوس کن رہی ہے ۔ مودی نے عوام کی بے چینی کو محسوس کرلیا ہے ۔ یہ بات فرائض اچھی طرح نہ نبھانے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی ان کی ہدایت سے ظاہر ہے ۔ عہدیداروں کو پابند ڈسپلن بنانے کے علاوہ ان سے توقع ہے کہ وہ ایسی سختی دکھائیں جو انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر گجرات دکھائی تھی ، جس کے نتیجہ میں کیشو بھائی پٹیل جیسے اپنے پیشروؤں کو درکار اور وشوا ہندو پریشد( وی ایچ پی) کے پروین توگڑیا جیسے زبان دراز کو خاموش کرپائے تھے ۔ دہلی میں انہوں نے یوگی آدتیہ ناتھ جیسے مسائل پیدا کرنے والوں کے خلاف ایسی ہی موثر کارروائی کی اور لگتاہے کہ انہوں نے راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سربراہ مہون بھاگوت کو ترغیب دی کہ وہ یہ کہنے سے باز رہیں کہ تمام ہندوستانی، ہندو ہیں۔ ان کا یہ کام ادھورا ہے کیونکہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد( اے بی وی پی) کارکنوں نے الہ آباد یونیورسٹی میں حال ہی میں غنڈہ گردی کی جہاں انہوں نے ایک سینئر صحافی کو وائس چانسلر کے دفتر میں یرغمال بنالیاتھا تاکہ وہ سمینار مین حصہ نہ لے سکے۔ صحافی کے خلاف ان کا الزام یہ تھا کہ وہ قوم دشمن ہے۔ یہی لیبل انہوں نے دلت طالب علم ویمولا روہت کو بدنام کرنے کے لئے لگایا تھا جس نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں حال ہی میں خود کشی کرلی۔ آر ایس ایس کی شاکھاؤں میں خود کو حب الوطنی کا مرکز سمجھنے کا درس لینے والے یہ بھگوار کارکن ان کی ہاں میں ہاں نہ ملانے والے کسی بھی شخص کو قوم دشمن کہہ دیتے ہیں ۔ حیرت کی بات نہیں کہ ایک اوپینین پول میں مودی کی ریٹنگ بی جے پی سے زیادہ بتائی گئی ۔ کوئی شبہ نہیں کہ قومی سطح پر بیشتر لوگوں کو مودی کے موافق ترقی پروگرامس پر قابل لحاظ اعتماد ہے چاہے وہ پروگرام شروع ہی نہ ہوئے ہوں ۔ مغربی بنگال، کیرالا ، ٹاملناڈو اور پڈوچیری جیسی ریاستوں میں جہاں جاریہ سال الیکشن ہونے والا ہے ، بی جے پی کی راہ آسان نہیں ۔ آسا م سے وہ کچھ توقع رکھ سکتی ہے ۔ اتر پردیش میں بھی بی جے پی کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ مسلمانوں اور دلتوں کا بڑا حصہ، دادری اور روہت واقعہ کے بعد دور ہوچکا ہے ۔ وزیر اعظم کو بھگوا بنیاد پرستوں سے سختی سے نمٹنا ہوگا۔ انتہا پسندوں کازور چلتا رہا تو اچھے دن لانے کے لئے8فیصد شرح ترقی بھی ان کے کام نہیں آئے گی۔

Amidst Saffron Fundamentalism, Modi’s ‘Achhey Din’ a Mirage?

0 comments:

Post a Comment