Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-24 - بوقت: 16:57

اردو اخبارات کے مسائل اور قارئین کی شکایات - فیس بک مکالمہ

Comments : 0
khabrein-urdunewspaper-debate
شائع شدہ: روزنامہ "خبریں" (نئی دہلی) ، بروز اتوار - 24/جنوری 2016ء
اخبار لنک
بشکریہ : زین شمسی

پروفیسر مصطفی علی سروری (اسوسی ایٹ پروفیسر ، ڈپارٹمنٹ آف ماس کمیونکیشن اینڈ جرنلزم ، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) کے قائم کردہ فیس بک گروپ "آپ کی بات آپ کا خیال" کا ایک مکالمہ
اختر حسین
بعض حضرات اردو اخبارات میں پائی جانے والی غلطیوں پر شدید تنقید کرتے ہیں۔ آج کا ٹائمس آف انڈیا ملاحظہ فرمائیے، جس میں کل ہند مجلس تعمیر ملت کے صدر مولانا عبدالرحیم قریشی کے انتقال کی خبر تو دی گئی ہے لیکن تصویر مکہ مسجد کے امام اور خطیب مولانا عبداللہ قریشی کی شائع کردی گئی۔

سید زین
انگریزی اخبارات میں غلطیاں شاذ و نادر ہوتی ہیں، تاہم وہ بھی قابل گرفت ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا شاید کل اعتذار شائع کر دے۔ جبکہ اردو اخبارات نہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں نہ ہی نادم ہوتے ہیں۔

مصطفیٰ علی سروری
لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم ایک غلطی کو جواز نہیں بنا سکتے اور ایک اردو پر بس نہیں انگریزی صحافت میں بھی بہت ساری غلطیاں ہو رہی ہیں لیکن زین صاحب نے بجا کہا ہے وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں اور ہم؟

وصی بختیاری
کل کے اخبار میں اس غلطی کا اعتراف اور ازالہ شائع ہو جائے گا، پروفیسر سروری اور زین صاحب نے بجا فرمایا۔

مکرم نیاز
ہوتی ہوں گی بھائی انگریزی ہندی تیلگو اخبارات میں بیسوں پچاسوں غلطیاں۔۔۔ لیکن کیا وہ ہمارا مسئلہ ہے؟ اردو اخبارات کی غلطیوں پر ہماری نشاندہی، نکتہ چینی یا تنقید کا یہ واحد مطلب نہیں کہ ہم ذمہ داران کا مضحکہ یا مذاق اڑانا چاہتے ہیں بلکہ ہم درست و فصیح زبان کے متعلق آج کے قاری میں شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ۔۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ہم میں سے چند احباب سرخی یا خبر کا ٹکڑا لگا کر اس میں موجود خامی کو بیان و درست کرنے کو کہتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم ایسے احباب کے احسان مند ہوں، ان پر معترض ہونا دراصل اپنے مالکان کی ذہنی غلامی کے مترادف بھی ہو جاتا ہے۔ برسبیل تذکرہ انگریزی اخبار کی متذکرہ غلطی کا تعلق زبان و بیان یا صرف و نحو سے نہیں بلکہ انتظامیہ کی کم علمی لاپرواہی سے ہے!

سید زین
مکرم نیاز کا تجزیہ قابل توجہ ہے۔ میں ان کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرنا چاہوں گا۔

اختر حسین
اردو ہو یا انگریزی اخبار غلطیاں ڈیسک پر ہوتی ہیں، اس کا مالک یا انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جہاں تک اردو اخبارات میں غلطیوں کا تعلق ہے، بعض حضرات تنقید برائے تنقید پر عمل پیرا ہیں، جن حضرات کو ڈیسک پر کام کرنے کا تجربہ ہے وہی جانتے ہیں کہ اخبار ایک ایسا پراڈکٹ ہے، جو چند گھنٹوں میں تیار کیا جاتا ہے۔ اکثر لمحہ آخر میں ایک خبر آتی ہے جسے کافی کم وقت میں تیار کرنا پڑتا ہے، اب ایسی صورتحال میں اکثر غلطیاں ہونے کا امکان تو رہتا ہی ہے۔

سید زین
مالک یا انتظامیہ بالواسطہ طور پر ذمہ دار اس لیے ہے کہ تقررات کا عمل وہی انجام دیتا ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ قابلیت اور تجربہ کی بنیاد پر تقرری کرے نہ کہ اڈے پر ملنے والے کم اجرتی اور ناتجربہ کار مزدور کی اساس پر۔ رہی بات لمحہ آخر والی خبر ہو یا پہلے آنے والی خبر۔ پروف ریڈنگ بھی ایک جاب ہوتا ہے۔ ایک اخبار تیار ہونے میں 10 تا 12 گھنٹے صرف ہوتے ہیں جبکہ دو چار گھنٹے میں تو ضمیمہ نکلتا ہے۔

اختر حسین
ضروری نہیں کہ تقرر مالک ہی کرے۔ ویسے حیدرآباد کے اردو اخبارات میں برسر خدمت افراد اتنے ہی قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہیں جیسے انگریزی یا تلگو اخبارات میں ہوتے ہیں۔

سید زین
جو تعلیم یافتہ ہیں وہ میرے نشانے پر نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ایسے باصلاحیت افراد کی موجودگی کے باوجود ہمارے اردو اخبارات اغلاط کا مجموعہ کیوں ہیں؟

ارشد حسین
اردو اخبارات کے معاملے میں مکرم نیاز صاحب کے نقطہ نظر سے میں متفق ہوں۔ "اڈے کا مزدور " سے بھی بری حالت ہے اردو صحافیوں کی۔ دوسری زبانوں کے اخبارات کی طرح اردو اخبارات میں کام تقسیم نہیں ہوتا۔ پروف ریڈرس تک دستیاب نہیں رہے۔ ایک ہی شخص کئی ذمہ داریاں مثلاً: ڈی ٹی پی آپریٹر کم سب اڈیٹر کم پروف ریڈر کم رپورٹر ۔۔۔ وغیرہ نبھاتا ہے۔

یحییٰ خان
میں سید زین صاحب اور اختر حسین صاحب دونوں کے نقطہ نظر سے اتفاق رکھتا ہوں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اب اردو صحافت، اردو صحافیوں ، اردو اخبارات کی انتظامیہ ، اردو صحافیوں کی کسمپرسی پر بحث کی جائے تو بہت طویل ہو جائیگی۔ یہی وجہ ہیکہ نئی نسل نہ اردو کی جانب راغب ہو رہی ہے اور نہ ہی اردو صحافت کی جانب۔ حقیر معاوضہ اسکی ایک وجہ ہے۔ دوسرا اردو صحافی کو کہیں بھی کوئی "نذرانہ" وصول نہیں ہوتا سوائے پریس کانفرنسس کے وہ بھی دیگر زبانوں کے میڈیا والوں کیساتھ ۔۔۔۔۔۔

ارشد حسین
خان صاحب معمول وصول کرنا بھی ایک فن ہے۔ معمول اور بخشیش میں کافی فرق ہے۔ اردو صحافی فن معمول میں ابھی بہت پیچھے ہے۔ البتہ کچھ نام نہاد اردو صحافی چاپلوسی میں ماہر ہوتے ہیں۔

یحییٰ خان
ارشد صاحب، پہلے تو اردو صحافی کو کوئی سرکاری محکمہ یا خانگی ادارے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے، یہاں تک کہ سرکاری دفاتر میں چائے تو دور کرسی تک پیش نہیں کی جاتی جناب۔ ہاں، اگراردو صحافی کی اپنی ایک منفرد شناخت ہو تو یہ الگ بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکرم نیاز
اختر حسین بھائی کی بات سے اس لیے اتفاق نہیں ہے کہ ان کا بتایا گیا مسئلہ تو ہر زبان کے اخبار کے ساتھ ہے۔ مگر دیگر زبانوں کے اخبارات کی کوشش بہتری اور نقائص سے پاک کی طرف ہوتی ہے ۔۔۔ جس میں انتظامیہ اور مالکان اخبار کا بھی مناسب رول ہوتا ہے۔ حیدرآباد کے چار مشہور اردو اخبارات ہی ہماری اس بحث کا مرکزی موضوع ہیں۔ اور ان کے مالکان یا انتظامیہ ماشاء اللہ ایسا گرا پڑا بھی نہیں کہ اوسط سے کچھ بہتر لائف اسٹائل نہ گزار سکے۔ تو جناب! کوئی مجھے بتائے کہ جب ایک اخبار کی کمائی کے ذریعے آپ ایک بہتر اور مناسب و موزوں زندگی گزارنے کے لائق ہوتے ہیں تو ۔۔۔۔ تو اسی اخبار کے معیار پر توجہ دینا اور زبان و بیاں پر سختی برتنا کیا آپ کی ذمہ داری نہیں بنتی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ پچیس تیس برس قبل کے مدیران اور سب ایڈیٹرس کی قابلیت و لیاقت کا جو معیار تھا وہ آج ڈھونڈے نہیں ملتا؟

اختر حسین
بعض حضرات شائد اس لیے بھی اردو اخبارات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ان کے مضامین کو شائع نہیں کیا جاتا!!!!

مکرم نیاز
مجھے آپ کی اس بات سے بھی اتفاق نہیں ۔ تنقید اگر "بے جا" ہو اور دلیل سے خالی ہو تب بآسانی گمان کیا جا سکتا ہے کہ نقد کا پس منظر کسی دشمنی کے زیراثر ہے۔ دوسری طرف مضمون/مضامین کو شائع نہ کرنے والی بات بھی کسی سنگین مذاق سے کم نہیں۔
حیدرآباد کے چاروں اخبارات میں سے ایک تو ایسا ہے جو دھڑلے سے اپنے ہفتہ بھر کے سپلیمنٹ کو پاکستانی اخبارات و رسائل کے مشمولات سے بنا حوالہ بھرتا ہے۔
ایک اخبار نے ایسے مقامی علاقائی مضمون نگاروں کو ترجیح دے رکھی ہے جنہیں نہ بامحاورہ اردو کا پتا ہے، نہ عصر حاضر کے بدلتے ادبی سماجی منظر نامے کا اور نہ زبان و بیان صرف و نحو پر انہیں کچھ خاص گرفت حاصل ہے بلکہ ٹی وی پر بولی جانے والی زبان کو ہی یہ لوگ "عصری اردو" باور کرتے ہیں ۔ اور رہا تیسرا اخبار، وہ تو مانگے کا اجالا ہے بھائی۔ سنڈے ایڈیشن میں نصف سے زائد تعداد کے مضامین محض ترجمہ ہوتے ہیں دوسری زبانوں کے مضامین کے! رہ گیا چوتھا "علاقائی" اخبار۔۔۔ تو چونکہ اس کا نیٹ ایڈیشن نہیں نکلتا لہذا اس پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں۔

اختر حسین
چلیے آج ہم سب مل کر یہ عہد کرلیں کہ اب سے اردو اخبارات کا مطالعہ ہی ترک کردیا جائے۔ نہ رہے بانس نہ۔۔۔!!!

مکرم نیاز
بالکل نہیں۔ آپ تو خواہ مخواہ بھڑک گئے ہیں۔ اور یہ بھی ایک خاص خوبی ہے اردو جرنلسٹس کی ۔۔ کہ اصلاحی تنقید برداشت نہ ہو تو منفی طرز عمل کا اظہار فرماتے ہیں۔ میرا لڑکا اگر مسلسل نافرمانی کرتا رہے تو یقین کیجیے کہ میں اسے پھر بھی عاق نہیں کروں گا بلکہ جب تک سانس میں سانس ہے اس کو اپنے رویے مزاج اور برتاؤ میں تبدیلی لانے کی ہدایت تسلسل سے کرتا رہوں گا، چاہے وہ کتنا بھی بیزار کیوں نہ ہو جائے! اور پھر اس طرح/طرز کی تعلیم بھی ہمیں سیرت نبوی سے ملتی ہے ۔

اختر حسین
زین صاحب! آپ نے برسوں اردو اخبارات کے لیے مضامین تحریر کئے ہیں۔۔۔ درحقیقت صحافتی حلقوں میں آپ کی شناخت کی ایک وجہ بھی شاید یہی ہے۔

سید زین
جی ہاں۔ میں نے اردو اخبارات اور نیوز ایجنسیوں میں بھی کام کیا لیکن وہ تب کی بات تھی اور یہ بحث آج کی ہے۔ یقیناً میری پہچان اردو اخبارات کی مرہون منت ہے۔ مگر آج کے اردو اخبارات ۔۔۔ توبہ توبہ۔

اختر حسین
بات بھڑکنے کی نہیں ہے مکرم نیاز صاحب، بلکہ ایسے افراد جو پابندی سے اردو اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں، وہی اگر حقائق کو سمجھنا نہیں چاہتے تب کوئی اور کیا کرسکتا ہے؟

ارشد حسین
انٹرنیٹ کے اس دور میں تقریباً تمام اردو اخبارات آن لائین موجود ہیں۔ لیکن باسی مضامین اور خبروں کی وجہ سے ان پر انحصار مشکل ہے۔ میرے خیال سے گھروں میں خواتین یا بزرگ حضرات ٹائم پاس کے لئے ہی خریدتے ہیں۔ ہاں البتہ گلی کے لیڈرس اپنا نام دیکھنے کے لئے دس بیس کاپی ضرور خرید لیتے ہیں۔ ہمارے محلے فرسٹ لانسر مسجد قادریہ کے بالکل بازو بعد نماز فجر 1000 کے قریب اردو اخبار ریٹیل فروخت ہوتے ہیں۔ اور ان خریداروں میں عموماً بزرگ ہی دیکھائی دیتے ہیں۔

سید زین
انگریزی اخبارات سے خبریں نقل کرتے ہیں اردو اخبارات جس میں کوئی دو رائے نہیں۔

یحییٰ خان
اتنا بھی مت گرائیں اردو اخبارات کو ارشد حسین صاحب۔ آج بھی ایک بڑا طبقہ اردو اخبارات پڑھتا ہے۔ یہاں تانڈور میں صرف 6 بجے کی حیدرآباد جانے والی ٹرین کے وقت پر 90 کاپیاں راشٹریہ سہارا کی فروخت ہوتی ہیں جبکہ دیگر اخبارات کی فروختگی الگ۔ تو کیا اس کا مطلب سارے مسافرین ضعیف، سیاستداں یا خواتین ہوتی ہیں؟

سید زین
سکندرآباد اسٹیشن پر کوئی ایک اردو اخبار دلا دیجیے، 100 روپے میں خریدنے تیار ہوں۔

ارشد حسین
1000 کاپی سے زائد ایک مسجد کے پاس فروخت ہوتے ہیں۔ لیکن خریدار کون اور اس اخبار سے کتنے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں؟ ہاں سنڈے ایڈیشن ضرورت رشتہ کے کے لئے ماڈرن گھرانوں میں بھی خوب پڑھا جاتا ہے۔

یحییٰ خان
تو کیا اب اردو اخبارات بند کر دئے جائیں؟ پھر ہمارا کیا ہوگا جناب عالی۔۔۔ میں تو خیر کسی تلگو اخبار میں کام کرلوں گا کہ تلگو جانتا ہوں جبکہ زیادہ تر اردو کے صحافی (شہری) تلگو نہیں جانتے!

ارشد حسین
نہیں۔ میرے خیال میں آج کی پہلی ضرورت ہے کہ اخبار دولسانی ہو۔ کم سے کم اس بہانے نئی نسل اردو تو پڑھے گی۔


Urdu Newspapers problems and readers complaints, a dialogue on FaceBook.

0 comments:

Post a Comment