Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-17 - بوقت: 19:18

عدم رواداری اور اسٹارٹ اپ ایک ساتھ نہیں چل سکتے - راہول گاندھی

Comments : 0
ممبئی
پی ٹی آئی
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے اپنے ممبئی دورے کے دوسرے دن بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کی جانب سے اسٹارٹ اپ انڈیا نامی پروگرام پر سخت لفظوں میں تنقید کی اور کہا کہ اسٹارٹ اپ کی بات کرنے میں تضاد ہے کیونکہ اس کے نفاذ کے لئے خیالات کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضرورت ہوتی ہے جسے مرکزی حکومت دن بہ دن کسنے کی کوشش کررہی ہے ۔ راہول گاندھی نے ممبئی میں نرسی مونجے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹیڈیز کے طلبہ سے بات چیت کے دوران کہا کہ مرکزی حکومت آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈا نافذ کرنا چاہتی ہے نیز آر ایس ایس کا جو نظریہ ہے وہ ایک کٹر نظریہ ہے اس سے مختلف قوموں کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکے گی جو ملک کی ترقی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہندو اور مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنا چاہتی ہے اور انسانوں کو تقسیم کر کے ان پر ہندو اور مسلمان کا لیبل لگا رہی ہے لیکن آپ نوجوان ہیں آپ کے ہاتھوں میں ملک کا مستقبل ہے اگر آپ اس قسم کے دل فریب نعروں سے متاثر ہوسکیں گے تو ملک تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ جی ایس ٹی بل پر طلبہ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے راہول گاندھی نے آج کہا کہ ان کی پارٹی کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو گر حکومت قبول کرلیتی ہے تو کانگریس، پارلیمنٹ میں گڈس اینڈسرویس ٹیکس ،جی ایس ٹی بل کی تائید کرے گی ۔ راہول گاندھی نے کہا جی ایس ٹی پر حکومت کے ساتھ بات چیت کی میز پر ایک مفاہمت طے کی جاسکتی ہے لیکن حکومت یہ نہیں چاہتی ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن ہماری شرائط منظور کرلی جائیں، ہم جی ایس ٹی بل کو منظور کروالیں گے ۔ اس کے لئے صرف پندرہ منٹ درکار ہیں ۔ جی ایس ٹی بل کی منظوری میں رکاوٹوں کے سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ یہ کانگریس ہی ہے جس نے جی ایس ٹی بل کو قانون سازی کے لئے متعارف کروایا ہے ۔ بی جے پی نے جی ایس ٹی بل کو سات برسوں تک پارلیمنٹ میں رکوادیا تھا اس وقت جیٹلی نے اس بل کو منظور ہونے نہیں دیا، نریندر مودی نے بطور چیف منسٹر گجرات کے اس بل کو منظور ہونے نہیں دیا ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہم ایسا جی ایس ٹی بل نہیں چاہتے جس میں محصول پر کوئی روک ہو، ہم اعظم ترین ٹیکس عائد کئے جانے کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارا یہ کہنا غلط ہوگا کہ تنازعات کے حل کے لئے صفائی اور غیر جانبداری درکار ہے ۔ جیٹلی نے مجھ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ جی ایس ٹی بل اچھا ہے، میں جانتا ہوں کہ یہ اچھا ہے۔ جیٹلی نے برطانیہ میں اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ یہ بی جے پی کی حکمت عملی ہے کہ پارلیمنٹ کو مسدود کردیاجائے ۔ راہول نے کہا کہ یہ کانگریس کی حکمت عملی نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کو روک دیاجائے ۔ راہول گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کے اہم پروگرام اسٹارٹ اپ کی نکتہ چینی کرتے ہوئے آج کہا کہ عدم رواداری کا ماحول اس طرح کے قدم کے لئے مناسب نہیں ہے طلبہ سے بات چیت کے دوران راہول گاندھی نے کہا کہ اسٹارٹ اپ کرنے والے صنعت کار تخلیقی ہوتے ہیں ۔ عدم رواداری اور اسٹارٹ اپ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ کو ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جہاں آزاد خیالات کی ترسیل ہوسکے ۔ اصلی چیلنج ایسے ماحول کو تیار کرنا ہے جہاں چھوٹے کاروبار فروغ پاسکیں زراعت صنعت اور اسٹارٹ اپ سب ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں پر توجہ نہیں دے رہی ہے اور حقیقت میں ان پر دباؤ بنارہی ہے ۔ ڈی ڈی سی اے پر تنازعہ طلبہ کے سوالات پر راہول گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے اداروں کے امور اور ان کی انتظامیہ میں سیاست دانوں کے رول کی مخالف کی۔ مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی اور ڈی ڈی سی اے کے تنازعہ پر طنز کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ میرے خیال میں سیاست دانوں کو کرکٹ انتظامیہ کے آس پاس بھی نہیں ہونا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کرکٹ کا نظم کرکٹروں کو ہی چلانا چاہئے ۔ وہ سابق چیف جسٹس آل انڈیا ارایم لودھا کی قیادت میں بنائے گئے اعلیٰ سطحی پیانل کی اس ضمن میں پیش کی گئی سفارشات سے متفق نظرآئے۔ پنجاب میں پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف مہم کے طریقہ کار کے سلسلہ میں مرکز کی مودی حکومت قومی سلامتی مشیر اجیت دوول پر سوالات کئے ہیں ۔ راہول نے طلبہ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ پ ٹھان کوٹ میں حملہ ہوا تو اس سے کس نے مقابلہ کیا؟ نیشنل سیکوریٹی گارڈ کو یہ مہم چلانی چاہئے تھی نہ کہ نیشنل سیکوریٹی ایجنسی کو ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی واقعہ ہونے پر اس سے نمٹنے کی کارروائی کرتی ہے مگر اس سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی نہیں بتائی۔ قومی سلامتی کے مشیر این ایس اے کا کام کاروائی کرنا نہیں حکمت عملی تیار کرنا ہوتا ہے ۔ انہوں نے حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت اس طرح کی چیزوں سے اسٹرٹیجک طور پر نمٹنے کے بجائے عام واقعہ کی طرح نمٹ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این ایس اے کا کام واقعہ سے نمٹنے کی پالیسی تیار کرنا ہے نہ کہ اس پر عمل درآمد کرنا۔ انہوں نے کہا کہ آپ دہشت گردانہ حملوں کو ایک دم روک نہیں سکتے لیکن ان سے الگ الگ طریقوں سے نمٹ سکتے ہیں ۔

Rahul Gandhi: Startups and intolerance can't go together

0 comments:

Post a Comment