Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-28 - بوقت: 23:06

اروناچل پردیش میں صدر راج پر مرکز کو سپریم کورٹ کی نوٹس

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
سپریم کورٹ نے آج ریاست ارونا چل پردیش میں ہند یونین نے جس طرح صدر راج نافذ کیا اس پر اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی ۔ بنچ نے کہا کہ آپ ہمیں بتائے بغیر عجلت میں فیصلے لے رہے ہیں۔ بنچ نے سوال کیا کہ مرکز نے ایسا فیصلہ کیوں کیا جب کہ ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا تھی ۔ آپ کو ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا یہ فیصلہ کرنے سے قبل ہمیں مطلع کرنا چاہئے تھا۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی سے مکمل تعاون بھی طلب کیا۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے29جنوری تک جواب مانگا کہ کن وجوہات نے اسے ارونا چل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے پر مجبور کیا ہے ۔ جسٹس جے ایس کیہر کی زیر قیادت دستوری بنچ نے سماعت کی اگلی تاریخ 2فروری مقرر کی ۔ قبل ازیں صبح سپریم کورٹ نے گورنر جیوتی پرساد راج کھووا سے رپورٹ مانگی تھی کہ کس بنیاد پر سرحدی ریاست میں صدر راج نافذ ہوا۔ اس نے پندرہ منٹ میں یہ رپورٹ مانگی تھی ۔ آئی اے این ایس کے بموجب سپریم کورٹ نے چہار شنبہ کے دن ایک درخواست پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی جس میں ارونا چل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے جو جسٹس جگدیش سنگھ کیہر، جسٹس دیپک مشرا ، جسٹس مدن بی لوکر، جسٹس پناکی چندر گھوش اور جسٹس این وی رمنا پر مشتمل ہے ، نوٹس جاری کی اور مرکز کو جواب داخل کرنے کے لئے 29جنوری تک مہلت دی ۔ کیس کی سماعت پیر کو ہوگی ۔ عدالت نے درخواست گزار کانگریس چیف وہپ ارونا چل پردیش راجیش ٹیکو کو آزادی دی کہ وہ چاہیں تو صدارتی اعلامیہ کو بھی چیلنج کرسکتے ہیں ۔ کانگریس، پیر کو سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی تھی ۔ اس نے ریاستی گورنر جیوتی پرساد راج کھووا کی سفارش پر ارونا چل پردیش صدر راج نافذ کے فیصلہ کو چیلنج کیا تھا ۔ پی ٹی آئی کے بموجب بحران سے متاثرہ ریاست سے رپورٹ مانگی اور کہا کہ یہ بہت زیادہ سنگین معاملہ ہے۔ پانچ رکنی بنچ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ فنی اعتراضات نہ کریں جو اس بات پر زور دے رہے تھے کہ قانون، قانون ہوتا ہے اور یہ سب پر لاگو ہوتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کی سماعت یکم فروری کو مقرر کرتے ہوئے گورنر اور وزارت داخلہ سے جمعہ تک جواب مانگا، سینئر وکلا کی بڑی جماعت بشمول فالی ایس نریمان، کپل سبل ، راجیو دھون اور ویویک تنخواہ نے گورنر کی رپورٹ پر رازداری کی مخالفت کی اور کہا کہ پانچ سے زائد ججس کی وسیع تر بنچ پہلے ہی اس پہلو پر اپنی رائے دے چکی ہے ۔ تاہم گورنر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ست پال جین نے کہا کہ دستاویز کی رازداری برقرار رہنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تصاویر موجود ہیں جن سے گورنر کو لاحق خطرہ کا پتہ لتا ہے جیسے راج بھون کے سامنے جانور ذبح کئے گئے ، ٹائر اور پوسٹر جلائے گئے ۔ جب اٹارنی جنرل مگل روہتگی نے کہا کہ صدر جمہوریہ نے کئی رپورٹس پر عمل کیا ہے تو بنچ نے ان کی توجہ کل کے اعلامیہ کی جانب مبذول کرائی جس میں صرف ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ آپ اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ کئی سفارشیں ہیں لیکن صدر جمہوریہ کے اعلامیہ کو دیکھئے اس میں صرف ایک رپورٹ کا حوالہ دیاگیا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کا مسئلہ آنے والے اجلاس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اٹھے گا ۔ ایوان بالا میں این ڈی اے حکومت کو شکست ہوگی کیونکہ وہاں اسے اکثریت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس کی توثیق نہیں ہوئی تو پھر عدالت کو مرکز کے اقدام کے قانونی جواز پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اگر ریاست میں کوئی نیا چیف منسٹر بنا تو اسے23فروری سے پہلے اکثریت ثابت کرنی ہوگی ۔60رکنی ارونا چل اسمبلی میں کانگریس کے47ارکان ہیں جن میں21نے بغاوت کی ہے ۔ کانگریس کی درخواست کی سپریم کورٹ میں سماعت سے قبل سابق چیف منسٹر ارونا چل پردیش نابم ٹو نے اعتماد ظاہر کیا کہ وہ ریاستی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرکے رہین گے ۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ یقینا ہم ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرکے رہین گے ۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ایک اور پوسٹ میں کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ سچائی کبھی نہیں ہارتی اور حق ہمیشہ فاتح رہتا ہے ۔ اسی دوران ایٹا نگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب صدر راج کے نفاذ کے بعد گورنر ارونا چل پردیش جیوتی پرساد نے ارکان اسمبلی کو تیقن دیا ہے کہ انہیں سیکوریٹی فراہم ہوگی جس کے وہ مجاز ہیں ۔ کانگریس میں بغاوت کے باعث ارونا چل پردیش میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے21ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر نابم ٹو کے خلا ف علم بغاوت بلند کردیاتھا۔

President's rule in Arunachal: SC issues notice to Centre, next hearing on February 1

0 comments:

Post a Comment