Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-25 - بوقت: 23:32

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی موقف کا مسئلہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور جامعہ ملیہ اسلامیہ( جے ایم آئی) کے لئے اقلیتی موقف کے مسئلہ پر اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کے خلاف اپنے جارحانہ رخ کو تیز کرتے ہوئے این ڈی اے کی چند حلیف جماعتوں سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے، کیوں کہ وہ بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ میں حکومت کو الگ تھلگ کردینے کا منصوبہ رکھتی ہیں ۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، جے ڈی یو ، آر جے ڈی ، این سی پی ، سی پی آئی ، سی پی آئی ایم اور اے اے پی نے جمعہ کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعیہ ملیہ اسلامیہ کو ان کے اقلیتی موقف کو ہٹادینے کے حکومت کے اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔ جب آئندہ ماہ بجٹ اجلاس ہوگا وہ پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر زیادہ اتحاد جٹا سکیں گی۔ جے ڈی یو کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہم این ڈی اے کی چند حلیف جماعتیں جیسے اکالی دل، ٹی ڈی پی ۔ اے جی پی ، پی ڈی پی اور ٹی آر ایس کو ہنموا بنانے کی کوشش کریں گے ۔ ان میں سے کئی یونائیٹیڈ فرنٹ کے دور میں ہمارے ساتھ تھیں ۔ ہم اس طرح کے مسائل پر مماثل خیالات کی ساجھے داری کریں گے ۔ تیاگی نے کہا کہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ بجٹ سیشن کے دوران بڑے پیمانہ پر مسئلہ کو اٹھایاجائے ، تاکہ حکومت کو اے ایم یو اور جے ایم آئی کے اقلیتی موقف کو چھیننے سے روکا جائے۔ اس مسئلہ پر مشتکہ نظریہ رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس بجٹ سیشن سے قبل منعقد کیاجائے گا تاکہ حکمت عملی کو وضع کیاجائے۔ یوگی نے کہا کہ آٹھ پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ جنہوں نے مشترکہ بیان پر دستخط کئے ہیں، ان کے علاوہ انڈین نیشنل لوک دل نے بھی ہماری تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اب ہم این ڈی اے کی چند حلیف پارٹیوں سے رجوع ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور صرف جے ایم آئی اور اے ایم یو کے لئے پابندی نہیں رکھتا ۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے ایک دلت طالب علم کی خود کشی کے واقعہ پر حالیہ برہمی اور سیاسی احتجاجات کے واقعہ کو اس سے جوڑتے ہوئے تیاگی نے کہا کہ یہ مسئلہ تعلیمی اداروں کی خود مختاری کا ہے ، چاہے یہ جامعہ ہو یا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یا اس کے لئے دہلی یونیورسٹی اور جے این یو میں وائس چانسلر س کے تقررات کا معاملہ ہو، حکومت نے مماثل رویہ کی عکاسی کی ہے ۔ اس سے ان اداروں کی خود مختاری کو سلب کرنے کی عکاسی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآبا د واقعہ اس کا افسوسناک نتیجہ ہے ۔ ہم اس رجحان کی سختی سے مخالفت کریں گے ۔ ہم بجٹ سیشن کے دوران ہی اے ایم یو اور جامعہ مسئلہ پر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کریں گے اور انہیں حکومت کے اقدام کے خلاف حاصل کردہ دستخطوں کی فہرست پیش کریں گے ۔ ہم اسی سیشن میں ایک دستخطی مہم بھی چلائیں گے ۔ تیاگی نے رواں ماہ کے اوائل میں صدر اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلرعہدہ کے لئے ناموں کی سفارش کرنے کے لئے قائم کردہ سرچ کمیٹی کو برخواست کیاجائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس میں شرائط و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ اسی دوران ارکان پارلیمنٹ نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے بیان کی بھی مذمت کی ہے، جس مین انہوں نے کہا تھا کہ یہ دونوں تعلیمی ادارے اقلیتی نہیں ہیں ۔ ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں اٹھائیں گے اور دستور ہند میں اقلیتوں کودی گئی بنیادی حقوق کی طمانیت کے تحت لڑیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیکولر ذہن رکھنے والی تمام سیاسی پارٹیوں سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے حکومت سے کہا تھا کہ دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ اقلیتی تعلیمی ادارہ نہیں ہے ، کیوں کہ اس کی تخلیق پارلیمنٹ میں ایک قانون کے ذریعہ ہوئی ہے ۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ لیجسلیچر کا یہ ارادہ نہیں تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ بنایاجائے ۔ اس مسئلہ پر خیال طلب کرنے کے لئے وزارت ایچ آر ڈی ، وزارت قانون سے رجوع ہوئی ہے ۔ اس پر وزارت قانون نے اے جی سے ان کی قانونی رائے طلب کی ۔ پندہ روز قبل روہتگی نے عدالت عظمیٰ کو یہ بھی بتایا تھا کہ حکومت کے خیال میں اے ایم یو، اقلیتی تعلیمی ادارہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس طرح نہیں دیکھا جانا چاہئے کہ وہ ایک سیکولر ریاست میں اقلیتی تعلیمی ادارہ قائم کرے ۔

Parties confront government to save minority status of AMU, Jamia

0 comments:

Post a Comment