Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-18 - بوقت: 23:48

اقوام متحدہ میں پاکستان نے حیدرآباد دکن کے آزاد ہند سے الحاق کا مسئلہ اٹھایا

Comments : 0
اقوام متحدہ
آئی اے این ایس
حیدرآباد کے رہنے والے سید اکبر الدین اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ہیں ۔ اس کے باوجود بعض مسائل اب بھی برقرار ہیں ۔ سال2016ء کا جب کہ آغاز ہوچکا ہے اس کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا مسئلہ برقرار ہے اور فی الحال اس کی یکسوئی کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ ہندوستان کو آزاد ہوئے67سال ہوگئے ہیں ، اسلام آباد کی جانب سے سلامتی کونسل میں اس مسئلہ کو پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستان، حیدرآباد ، کے الحاق اور نظام کے دور حکومت کے موقف کی یاددہانی کراتا آرہا ہے ۔ سال1948کے حالات اور ملک کی تقسیم کے علاوہ نظام دور حکومت کے اختتام کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان اس وقت کے ہندوستان کے موقف کی یاددہانی کررہا ہے اور وہ تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی وجہ سے اب بھی بعض مسائل برقرار نظر آتے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ پاکستان بعض امور اور مسائل کو بھول رہا ہے اور متواتر ایسے امور اور مسائل پر توجہ دے رہا ہے جس کی یکسوئی کے لئے دونوں ممالک نے رضا مندی کا اظہار کیا تھا ۔ پاکستان کی مستقل نمائندہ ملیحہ لودھی سلامتی کونسل سے یہ کہہ رہی ہیں کہ سیکولر ہندوستان میں شاہی ریاست کے الحاق کے مسئلہ کو برقرا ررکھا جائے ۔ نظام میر عثمان علی خان آصف جاہ نے سال1948میں سلامتی کونسل سے کہا تھا کہ آزاد ہندوستان سے حیدرآباد کو علیحدہ رکھاجائے ، تاہم بعد میں ان کا موقف تبدیل ہوگیا۔ نظام کے اس طرح کے عمل پر عوام نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ لیکن صورتحال کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ آخر کار نظام کو حکومت ہند کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبو رہونا پڑا اور جب الحاق ایک حقیقت بن گیا تو نئی دہلی کے ساتھ معاہدہ طے پایا ۔ نظام نے سلامتی کونسل میں اپنا جو ادعا پیش کیا تھا اس سے دستبرداری اختیار کرلی اور آخر کار حکومت ہند کے ساتھ انہوں نے اتحاد کرکے تنازعہ اور مسئلہ کی یکسوئی کرلی ۔1948میں انہوں نے اپنے موقف کے تعلق سے لامتی کونسل کو بھی مطلع کیا اور کہا کہ حیدرآباد کے تعلق سے مسئلہ کی یکسوئی ہوگئی ہے ۔

Pakistan rakes up Hyderabad's 1948 accession to India at UN

0 comments:

Post a Comment