Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-21 - بوقت: 23:56

روہت کی خودکشی دلت بمقابلہ غیر دلت نہیں - سمرتی ایرانی کی پریس کانفرنس

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے ایک دلت ریسرچ اسکالر کی خود کشی پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقیدوں کا سامنے کرنے والی مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتیا یرانی نے آج الزام لگایا کہ جذبات کو بھڑکانے کے مقصد سے اس واقعہ کو دلت بمقابلہ غیر دلت مسئلہ کی حیثیت سے پیش کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ۔ ایرانی نے آج دو سینئر کابینی رفقائء تاور چند گیہلوٹ اور نرملا سیتا رامن کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا کہ دلت طلباء کے خلاف کارروائی کے لئے انہوں نے یونیورسٹی حکام پر دباؤ ڈالا تھا یا اس معاملہ میں کوئی مداخلت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دلت بمقابلہ غیر دلت مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ جذبات کو بھڑکانے کے لئے بعض افراد کی جانب سے پیش کیاجارہا ہے ۔ ذات پات کی لڑائی کے طور پر پیش کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے جب کہ در حقیقت ایسا نہیں ہے ۔ ایرانی نے کہا کہ روہت ویمولا کی جانب سے لکھے گئے خود کشی نوٹ میں بھی کسی رکن پارلیمنٹ یا سیاسی پارٹی کو اس کے انتہائی اقدام کے لئے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے ۔ کانگریس پر مسئلہ کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر فروغ انسانی وسائل نے وزارت کو کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیمنت راؤ کی جانب سے ستمبر2014کو لکھے گئے مکتوب کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے گزشتہ چار برسون میں یونیورسٹی میں کمزور طبقات کے طلبہ کی خود کشیوں کے بارے میں لکھا تھا۔ایرانی نے کہا کہ کانگریس اس مسئلہ کو لے کر آگے بڑھنا چاہتی تھی لیکن بد قسمتی سے خود کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ مسئلہ چار سال سے پایاجاتا ہے ، اگر وہ( کانگریس) اس مسئلہ سے چار سال قدیم نمٹ لی ہوتی تو یقینا روہت کی زندگی کو بچایاجاسکتا تھا۔ وزیر نے کہا کہ حقائق کا پتہ چلانے2رکنی کمیٹی یونیورسٹی کو بھیجی گئی ہے جو آج رات لوٹے گی اور اپنی رپورٹ وزارت فروغ انسانی وسائل کو پیش کرے گی۔ اس کے بعد ہی اس کی تفصیلات کا پتہ چلے گا ۔ ذات پات کی لڑائی کے دعوؤں کا رخ موڑتے ہوئے ایرانی نے کہا کہ جن طلباء پر امبیڈ کر اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے ارکان نے مبینہ طور پر حملہ کیا تھا وہ بھی اتفاق سے دیگر پسماندہ طبقات کے تھے ۔ یونیورسٹی کی اکزیکٹیو کونسل نے روہت کے بشمول پانچ طلباء کے اخراج کو منظوری دی اور ایک عاملہ ذیلی کمیٹی جس میں ایک سینئر دلت فیکلٹی رکن شامل تھے معاملہ کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لئے تشکیل دی گئی جس نے سزا کو برقرار رکھا ۔ ایرانی نے مخالف دلت جانبداری کے الزام کو رد کرنے کے لئے ہاسٹل وارڈن کے بشمول کئی دلت عہدیداروں کی موجودگی کا حوالہ دیا اور یقین ظاہر کیا کہ منصفانہ تحقیقات کے ذریعہ انصاف کو یقینی بنایاجائے گا۔ تنقیدوں کا رخ کانگریس کی طرف موڑتے ہوئے جس نے اس مسئلہ پر حکومت کے خلاف زبردست مہم شرو ع کردی ہے ایرانی نے کہا کہ عاملہ کونسل موجودہ حکومت نے تشکیل نہیں دی ہے بلکہ کونسل کے ارکان کو سابق یوپی اے حکومت نے نامزد کیا تھا۔ اس دوران احتجاج کی قیادت کرنے والے طلباء قائدین نے سمرتی ایرانی کے بیان کو مسترد کردیا۔ ایک احتجاجی لیڈر نے کہا کہ ہم سمرتی ایرانی کے ایک ایک نکتہ کو مسترد کرتے ہیں ۔ سمرتی ایرانی کی پریس کانفرنس کے بعد طلباء نے آپس میں مشاورت کی ۔ اس دوران کانگریس نے دلت اسکالر کی خود کشی کے سلسلہ میں وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ ان کے خلا ف ہائی کورٹ کے بر سر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کرانی چاہئے ۔ کانگریس ترجمان جتیندر سنگھ ہوڈا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنی خاموشی توڑنی چاہئے اور اس سلسلہ میں کارروائی کرنی چاہئے ۔ انہیں مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ کو برطرف کرنا چاہئے ۔

Smriti Irani claims Hyderabad student's suicide 'not a Dalit vs non-Dalit' issue

0 comments:

Post a Comment