Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-20 - بوقت: 23:30

دلت طالب علم کی خود کشی - وزرا کو بر طرف کرنے کانگریس کا مطالبہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس نے آج مطالبہ کیا کہ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی اور مرکزی وزیر محنت دتاتریہ کو برطرف کردیاجائے ۔ جن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ۔ پارٹی ترجمان کماری شیلجا نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایرانی اور دتاتریہ دونوں کومستعفیٰ ہوجانا چاہئے ، ورنہ وزیر ارعظم نریندر مودی کو انہیں برطرف کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر فروغ انسانی وسائل نے سارے ملک کو گمراہ کیا ہے ، کیوں کہ انہوں نے اس مسئلہ پر متعدد خطوط تحریر کئے تھے اور دتاتریہ اے بی وی پی کو فروغ دینے دلت طلباء کے مخالف تھے ۔ جو کچھ نظر آرہا ہے اس کے پس پردہ بہت کچھ ہے ۔ وزیر اعظم کو اس معاملہ پر لب کشائی کرنی چاہئے اور وزراء کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔ شیلجا نے کہا کہ عوامی سطح پر دستیاب حقائق سے بلا شبہ شک و شبہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دتاتریہ، بی جے پی رکن اسمبلی رام چندر راؤ اور اے بی وی پی کا رکن عمداً ایسے حالات پیدا کرنے کی پوری طرح ذمہ دار ہیں ، جن کے نتیجہ میں ویمولا کی المناک خود کشی کا واقعہ پیش آیا ۔ یہ خوفناک واقعہ محروم اور غریب طبقات ، بالخصوص درج فہرست ذاتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے حقوق کو متاثر کرنے مودی حکومت کے مستقل ایجنڈا کا حصہ ہیں ۔ گزشتہ 19ماہ کے دوران یہ ایجنڈا کھل کر سامنے آیا ہے ۔ ایک اور اطلاع کے مطابق کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ نے دلت طالب علم کی مبینہ خود کشی کے سلسلہ میں حکومت کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے آج الزام عائد کیا کہ بی جے پی ۔ آر ایس ایس نے وائس چانسلر وں کا چن چن کر انتخاب کیا ہے ۔ انہوں نے طلباء گروپس سے کہا کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کرنے متحد ہوجائیں ۔ڈگ وجئے سنگھ نے جو پارٹی کے جنرل سکریٹری ہیں ، اپنے سلسلہ وار پیامات میں کہا کہ یہ تو صرف ابتدا ہے، بی جے پی اور آر ایس ایس نے وائس چانسلر کا چن چن کر انتخاب کیا ہے اور وہ تعلیم کے بجائے اے بی وی پی کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھیں گے۔ تمام طلباء گروپ کو متحد ہوجانا چاہئے ، تاکہ کیمپس میں فرقہ پرست طاقتوں کا مقابلہ کیاجاسکے ۔ بی جے پی نے راہول گاندھی کے دورہ حیدرآباد اور احتجاج سے متاثر یونیورسٹی کیمپس کے دورہ کے بعد کانگریس قائد پر الزام عائد کیا کہ وہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم کی خود کشی کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں اور زور دے کر کہا کہ اس مسئلہ کا طالب علم کے پسماندہ طبقات سے ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں ۔
ترنمول کانگریس کے دو رکنی وفد کی پارٹی رکن پارلیمنٹ اور قومی ترجمان ڈیرک اویرائن کی قیادت میں آج شام حیدرآباد آمد ہورہی ہے تاکہ مبینہ طور پر خود کشی کے اخلاف احتجاج کرنے والے طلباء سے خیر سگالی کا اظہار کیاجائے ۔ طلباء کا ایک گروپ کیمپس میں روہت کی یادگار نصب کرنے کی بھی کوشش کررہا ہے ۔ ایک طالبہ نے کہا کہ ہم اپنے تمام مطالبات کی تکمیل تک یونیورسٹی بند رکھیں گے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس پوری تبدیلی کے پس پردہ ذات پات کی ذہنیت کارفرما ہے ۔ ایک اور طالب علم نے کہا کہ اے بی وی پی قائد بشمول سشیل کمار پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ۔ یہ ایک سیاسی ایجنڈا ہے ۔ وہ (دتاتریہ) ہمارے طلباء کے خلاف ایچ آر دی کو مکتوب تحریر کرنے میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی دوران پونے میں ایف ٹی ٹی آئی کے طلباء کے مبینہ طور پر واقعہ پر احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ کی گیٹ کے باہر ایک روز کی بھوک ہڑتال شروع کی ۔ بھوک ہڑتال کا آغاز8طلباء سے ہوا اور بتدریج دیگر طلباء بھی اس احتجاج میں شامل ہوتے گئے۔ یہ بات ایف ٹی ٹی آئی اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے صدر ہری شنکر نچی موتو نے بتائی ۔ ایک او ر طلباء تنظیم کے نائندے یشوی مشرا نے کہا کہ احساس ہے کہ روہت ویمولا کی موت جیسا بد بختانہ واقعہ ناپسندیدہ ادارہ جاتی قتل ہے ۔ اس المیہ کے تخیل کے خلاف لڑنا چاہئے ۔ ہم طلبا برادری کے ساتھ ہیں کہ تعلیم کے معیار پر اور ذات پات سے اور طبقات سے بالاتر ہوکر لڑیں ۔ ہم ناراضگی کی آوازوں کو دبانے کی حکومت کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں ۔ اس بحران کے وقت ہم طلباء برادری کے ساتھ ہین۔ دلت طالب علم کی موت کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ممبئی میں کئی طلباء نے کلینا ایریا میں ممبئی یونیورسٹی کے دفتر کے باہر احتجاج منعقد کیا ۔ این سی پی کی اسٹوڈنٹس ونگ نے بھی مہاراشٹرا کے مختلف مقامات پر احتجاجات منعقد کئے ۔ آڑ پی آئی قائد رام داس اٹھاولے طالب علم کے خاندان کو تعزیت پیش کرنے کے لئے کل حیدرآباد کا دورہ کریں گے ۔ دلت طالب علم کی مبینہ خود کشی کے سلسلہ میں سائبرآباد پولیس میں کل دتاتریہ، اپاراؤ اور دیگر تین کے نام ایف آرئی آر درج کئے گئے ۔ اس مسئلہ نے سیاسی موڑ لیا ہے۔ یہ الزام عائد کیاجارہا ہے کہ انتہائی اقدام دلت طلباء کے خلاف امتیازی سلوک کا نتیجہ تھا اور دتاتریہ کی ایماء پر ایسا ہوا ۔ انہوں نے وزیر فروغ انسانی وسائل کو ایک مکتوب تحریر کیا تھا جس کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کی مخالف قوم سرگرمیوں کے خلاف ایکشن لیاجائے ۔

Dalit student suicide: Congress seeks probe into Smriti’s conduct

0 comments:

Post a Comment