Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-16 - بوقت: 19:23

سیاسی فنڈس کو باقاعدہ بنانے موجودہ قوانین ناکافی - چیف الیکشن کمشنر

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے آج کہا کہ ہندوستان میں انتخابات میں مقابلہ کرنے والے بیشتر امید وار اپنے مصارف کم ظاہر کرتے ہیں اور سیاسی فنڈس کو باقاعدہ بنانے ناکافی قوانین کی وجہ سے ایک خوفناک صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔ جہاں ادارے پیسہ کے زیر کنٹرول ہوجائیں اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کا انعقاد دشوار ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ وصول ہونے والے عطیوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اکٹھا کئے گئے فنڈس کو باقاعدہ بنانے موجودہ قوانین زیادہ مانع نہیں ہیں اور یہ کالے دھن اور غیر قانونی ترغیبات میں رکاوٹ نہیں بنتے، جو رائے دہندوں کو رِجھانے اور ملک میں انتخابی عمل کے لئے مساوی میدان فراہم کرنے میں خلل ڈالتے ہیں ۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انتخابات مہنگے ہوتے جارہے ہیں ۔ عام شہری جو غیر معمولی شخصی اور عوامی خدمات کا ریکارڈ رکھتے ہیں ، انتخابات میں مقابلہ کرنے کا خواب تک نہیں دیکھ سکتے ۔ چند سیاسی جماعتیں اور ان کے امید وار تمام دستیاب وسائل پر قبضہ کررہے ہیں ۔ یہ صورتحال جماعتوں کو پیسے کی طاقت پر انحصار کرنے والا بنارہی ہے اور اس کے سماج و سیاست پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ ایسے قوانین کے فقدان کے سبب یہ اندیشہ ہے کہ مختلف ادارے پیسے کے کنٹرول کے تحت ہوجائیں گے اور آزادانہ ومنصفانہ انتخابات کا انعقاد مزید دشوار ہوجائے گا ۔ نسیم زیدی یہاں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ہندوستانی انتخابی منظر نامہ کا ذکر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ان کے پاس موجود اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ امید وار اپنے مصارف کم اور مقررہ حد کے اندر ظاہر کررہے ہیں ۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں535کامیاب امید وار وں کے منجملہ بیشتر کامیاب امید واروں نے الیکشن کمیشن کو اپنے مصارف صرف40تا80فیصد ہی بتائے ہیں۔ حقیقتاًجیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ، امید وار انتخابی مہم چلانے اپنی قانونی حد سے کئی گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کرنے والا کوئی بھی امید وار 70لاکھ روپے تک خرچ کرسکتا ہے ، جب کہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والا امید وار زیادہ سے زیادہ28لاکھ روپے خرچ کرسکتا ہے ۔ نسیم زیدی جنوب ایشیائی ممالک کی علاقائی کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے ۔ یہ کانفرنس، سیاست میں پیسہ کا استعمال اور عوامی نمائندوں پر اس کے اثرات ، کے موضوع پر منعقد کی جارہی ہے۔ مصارف کی حد پار کرنے امید واروں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے مختلف طریقوں میں پیڈ نیوز کی مثالیں بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختفل امید وار پیڈ نیوز میں ملوث ہوتے ہوئے اپنی مقررہ حد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گزشتہ چند سال کے دوران ان کے ٹیموںنے پیڈ نیوز کے سینکڑوں واقعات کا پتہ چلایا ہے اور اس پر ہونے والے مصارف کو امید واروں کے مصارف میں جوڑ دیا گیا ہے ۔ بہر حال چونکہ امید وار ہر صورت میں اپنے مصارف کم ظاہر کرتے ہیں اسی لئے ان مصارف کے جوڑنے کے باوجود ان کے کھاتے مقررہ حد سے متجاوز نہیں ہوتے اور یہی وجہ کہ امید وار قانونی تنقیح سے بچ جاتے ہیں ۔

CEC Nasim Zaidi seeks more transparency in poll funding

0 comments:

Post a Comment