Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-21 - بوقت: 23:34

یمن میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں میں 75 ہلاکتیں

Comments : 0
دبئی
یو این آئی
یمن میں گزشتہ تین دنوں کے دوران سیکوریٹی فورسیس اور باغیوں کے درمیان تصادم میں35فوجی اور40باغی ہلاک ہوگئے ہیں ۔ یمن کے فوجی ذرائع اور عینی شاہدین نے یہ اطلاع دی ۔ ذرائع کے مطابق شمالی یمن میں سعودی عرب کی سرحد کے قریب حجہ صوبہ میں فوج اور باغیوں کے اتحادی گروپوں کے درمیان تصادم میں چالیس باغیوں کے ساتھ ہی 35فوجیوں کی موت ہوگئی ۔ تصادم کے دوران دونوں فریقوں کے 50سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حملہ میں درجنوں کی تعداد میں ٹینک اور مسلح گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے وفد کے درمیان گزشتہ منگل سے موثر جنگ بندی کے لئے عزم کولے کر سوئٹزر لینڈ میں منعقد امن مذاکرات جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد تحلیل ہوگئی تھی جس کے بعد یمن کی حالت پھر سے ابتر ہوگئی ۔ اقوام متحدہ نے یمن میں تشدد روکنے اور بات چیت جاری رکھنے کے لئے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے۔ فریقین جنگ بندی وقفہ کی خلاف ورزی کے لئے ایک دوسرے پر الزام عائد کررہے ہیں۔ یمن میں تشدد کے اس تازہ سلسلہ کی وجہ سے وہاں قیام امن کی عالمی کوششوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ اقواممتحدہ نے زور دیا ہے کہ یمنی تنازعہ کے تمام فریق جنگ بندی کا احترام کریں ۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کیمون نے مذاکرات کا خیر مقد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خانہ جنگی کے خاتمہ کا واحد راستہ ہیں ۔ گزشتہ سال ستمبر میں حوثی باغیوں نے صدر عبد ربہ ہادی منصور کی سرکاری فورسیس کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد عرب دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ اب تک اس خانہ جنگی میں5700افراد کی زندگیاں ضائع ہوچکی ہیں۔ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر رواں سال مارچ میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور باغیوں کو اپنے زیر تسلط علاقہ عدن سے پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ لیکن دارالحکومت پر اب بھی حوثیوں کا قبضہ ہے ۔

Fierce fighting in northern Yemen kills at least 75 over 3 days

0 comments:

Post a Comment