Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-05 - بوقت: 18:01

کیلیفورنیا حملہ آور کے شدت پسندوں سے تعلقات کا شبہ

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
پاکستانی نژاد حملہ آور جس نے کیلی فورنیا میں 14افراد بشمول اس کی پاکستانی اہلیہ کے ساتھ قتل کردیا تھا ، تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس حملہ آور کے مبینہ طور پر دہشت گردوں سے تعلقات کا پتہ چلا ہے ۔ عہدیداروں نے آج بتایا کہ یہ دونوں حملہ آور میاں بیوی شدت پسندوں سے ربط میں تھے ۔ عہدیدار نے مزید بتایا کہ حملہ آور کے مکان سے بر آمد ہتھیاروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک اور حملہ کرنا چاہتا تھا ۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور جوڑا28سالہ سید رضوان فاروق اور اس کی اہلیہ27سالہ تاشفین ملک کے اپارٹمنٹ کی تلاشی کے دوران پتہ چلا کہ یہ ان کے مکان میں ہتھیاروں اور دھماکو مادہ بشمول پائپ بم اور ہزار راؤنڈ گولیاں کا ذخیرہ برآمد ہوا ۔ اے ایف پی کے بموجب مسلمان شادی شدہ جوڑا ممکنہ طور پر نہ صرف جنگجویانہ ذہنیت کا حامل تھا بلکہ یہ امکان بھی ہے کہ اس کے مشتبہ دہشت گردوں سے روابط بھی تھے۔ امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی نے چہار شنبہ کے دن سان برنارڈینو میں رونما ہونے والی اس خونریز واردات کی تحقیقات کا ذمہ اٹھایا ہے ۔ ایف بی آئی نے کہا ہے کہ اس واقعہ کو دہشت گردی قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ایف بی آئی نے کہا کہ اس نے چاہر شنبہ کو سان برنیڈو کیلی فورنیا میں ہوئے اس حملہ کی تحقیقات کی ذمہ داری حاصل کرلی ہے ۔ ایجنسی اس واقعہ کی وجہ معلوم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کس دہشت گرد تنظیم سے تھا یا نہیں ۔ بنیادی طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے سید رضوان فاروق اور اس کی بیوی تاشفین ملک نے کیلی فورنیا کے ان لینڈ ریجنل سنیٹر سوشل سرویس ایجنسی میں اندھا دھند گولیاں چلائیں۔ اس حملے میں چودہ افراد ہلاک اور اکیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔ بعد میں پولیس کے ساتھ لڑائی میں حملہ آور جوڑا بھی مارا گیا ۔ اس واقعہ کی وجہ ابھی معلوم نہیں کی جاسکی ہے اور تفتیش کاراس بات کی جانچ کررہے ہیں کہ یہ حملہ دہشت گردانہ حملہ تو نہیں تھا اور حملہ آور کا تعلق کسی دہشت گردانہ تنظیم سے تو نہیں تھا ۔ تفتیش سے متعلق ذرائع نے بتایا کہ ابھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ حملہ آور کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک تھے ۔ لیکن ان کے گھر سے ملے الیکٹرانک اشیاء کی جانچ کے بعد یہ معلوم کرنے کی کوشش کی اجئے گی کہ یہ لوگ جہادی ویب سائٹ تو نہیں دیکھتے تھے اور سوشیل میڈیا میں اس طرح ذہن کے لوگوں سے رابطے میں تو نہیں تھے ۔ حالانکہ سی این این ٹی وی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں ایک خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فاروق شدت پسند تھا اور دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ کے ساتھ فون اور سوشل میڈیا کے ذریعہ رابطے میں تھا یہ مبینہ خفیہ ایجنسی کی نظر میں ہے ۔ حملے کے بعد امریکی صدر بارک اوباما نے کہا تھا کہ یہ دہشت گرد حملہ ہوسکتا ہے لیکن اس سے متعلق کچھ واضح نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق فاروق کا گزشتہ ریکارڈ صاف ستھرا ہے اور وہ اس کاؤنٹی میں ہیلتھ انسپکٹر کے عہدے پر فائز تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کیا مقاصد تھے ۔ پولیس نے بتایا ہے کہ اس حملے کے کچھ حد تک منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ سان برنارڈ ینو پولیس کے سربراہ جیر ڈبرگوان کا کہنا ہے کہ ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ دونوں مشتبہ افراد ایک اور حملہ کرنے کی تیاری کررہے تھے ۔ ان دونوں مشتبہ افراد نے پولیس کے ساتھ مقابلہ میں76گولیاں فائر کیں جب کہ پولیس نے380گولیاں برسائیں ۔ اس مقابلہ میں دو پولیس ملازمین بھی زخمی ہوئے ۔ امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں اور دہشت گردی کے امکانات کو فی الحال مسترد نہیں کیاجاسکتا ۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ملنے والے ثبوتوں سے حقیقت تک پہنچنے میں مدد ملے گی ۔ امکان ہے کہ حکام جمعرات کے روز سے اس حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کی معلومات جاری کرنا شروع کریں گے ۔ امریکہ میں پیدا ہونے والے رضوان فاروق کے بارے میں ان کے ساتھی کارکنوں نے لا س اینجلس ٹائمز کو بتایا کہ رضوان نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں سے ایک نئی بیوی کے ساتھ واپس امریکہ آئے ۔ رضوان فاروق کی نئی بیوی سے اولاد بھی ہے ۔ پولیس کے مطابق رضوان کی ساتھی خاتون کے بارے میں نام اور عمر کے علاوہ مزید معلومات فی الحال دستیاب نہیں ہیں ۔ امریکی بارک اوباما کا کہنا ہے کہ مقامی حکام نے تحقیقات کی تمام تر ذمہ داری ایف بی آئی کے حوالے کردی ہے ۔
واشنگٹن سے رائٹر کی علیحدہ اطلاع کے بموجب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیلی فورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ایک سوشل سینٹر پر اپنے شوہر رضوان فاروق کے ہمراہ حملہ کرنے والی خاتون تاشفین ملک کو امریکی ویزا پاکستان سے جاری کیا گیا تھا اور وہ ممکنہ طور پر پاکستانی شہری ہی تھیں ۔ اسی دوران پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے تاشفین ملک کے بارے میں معلومات کے لئے اب تک حکومت پاکستان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ۔ رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین نے چہار شنبہ کو ذہنی معذوری اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز ان لینڈریجنل سینٹر میں جاری تقریب میں گھس کر فائرنگ کی تھی جس سے چودہ افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہوگئے تھے ۔ یہ دونوں واقعے کے کچھ گھنٹے بعد پولیس سے ایک مقابلے کے دوران مارے گئے تھے جبکہ اس مقابلے میں دوپولیس ملازمین بھی زخمی ہوئے تھے ۔ جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران تاشفین ملک کی قومیت کے بارے میں سوال پر محکمہ کے ایک ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ میرے علم میں یہی ہے کہ وہ ایک پاکستانی شہری تھی ۔ رضوان فاروق کے بارے میں حکام پہلے ہی تصدیق کرچکے ہیں کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئے تھے اور مقامی محکمہ صحت میں پانچ برس سے ملازم تھے ۔ مارک ٹونر نے کہا کہ میں یہ توثیق کرسکتا ہوں کہ تاشفین کے ون( منگیتر کو دیاجانے والا) ویزا دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ویزا کب جاری ہوا تھا تاہم انہیں یہ ویزا پاکستان سے ملا تھا ۔ جس سے وہ امریکہ کا سفر کرسکیں ۔ اس پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے تو ہزاروں لاکھوں لوگوں کو یورپ اور امریکہ کے ویزے جاری کئے جاتے ہیں ۔ ہم سے جب کوئی رابطہ کرے گا تو پھر دیکھیں گے ۔

US authorities look for militant links to shooters in California

0 comments:

Post a Comment