Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-08 - بوقت: 23:09

داعش کو تباہ کر دینے اوباما کا عہد

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
اسلامک اسٹیٹ، داعش کو تباہ کردینے کا عہد کرتے ہوئے صدر بارک اوباما نے آج امریکیوں کو جو کیلی فورنیا قتل عام کے بعد گھبرائے ہوئے ہیں، دوبارہ یہ یقین دلانا چاہا کہ امریکہ دہشت گرد حملہ کے نئے مرحلہ پر قابو پالے گا جو یہاں اور دنیا بھر میں عوام کے ذہنوں کو زہر آلود کرنا چاہتا ہے۔ وائٹ ہاؤز کے اپنے اوول آفس سے قوم سے شاذو نادر خطاب میں اوباما نے کہا کہ دہشت گردی سے لاحق خطرہ حقیقی ہے لیکن امریکہ اس پر قابو پائے گا۔ انہوں نے تاہم شام اور عراق کو زائد فورسس بھیجنے کو خارج از بحث قرار دیا۔ اوباما نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ کوتباہ کرنے کی ان کی حکمت عملی، امریکی فورجی کمانڈرس اور انسداد دہشت گردی ماہرین نے65ممالک کے ساتھ مل کر تیار کی ہے، جو دہشت گرد تنظیم کو نشانہ بنانے امریکہ کی زیر قیادت اتحاد میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلامک اسٹیٹ یا کسی بھی دوسری تنظیم کو جو ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تباہ کردیں گے ۔ ہماری جیت، سخت لب و لہجہ یا اپنی اقدار سے انحراف یا خوفزدہ ہونے پر منحصر نہیں ہوگی جس کی اسلامک اسٹیٹ جیسے گروپس امید کرتے ہیں ۔ اس کے بجائے ہم طاقتور ، ہشیار، متحمل اور انتھک جدو جہد کرنے والے ہونے کے ناطہ ان پر قابو پائیں گے ۔ ہم امریکی طاقت کے ہر پہلو سے استفادہ کریں گے ۔ اپنے پرائم ٹائم خطاب میں اوباما نے کہا کہ ہمیں عراق یا شام میں مہنگی اور طویل مدتی زمینی جنگ میں پھر نہیں الجھنا ہے جو کہ اسلامک اسٹیٹ جیسے گروپس چاہتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ ہمیں میدان جنگ میں ہر ا نہیں سکتے ۔ اسلامک اسٹیٹ کے لڑاکے اس شورس کا حصہ ہیں جو ہم عوام میں جھیل چکے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ہم بیرونی سر زمین پر قبضہ کرلیں تو وہ سالوں تک شورش جاری رکھ سکتے ہں۔ ہمارے ہزاروں فوجیوں کو مار سکتے ہیں ، ہمارے وسائل ضائع کرسکتے ہیں ۔ اور ہماری موجودگی کو نئی بھرتیوں کے لئے استعمال کرسکتے ہیں ۔ اوباما نے مزید کہا کہ ہم فضائی حملوں، خصوصی فورسس اور مقامی فورسس کے ساتھ مل کر لڑائی کی جو حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں اس سے ہمیں مزید دیر پا جیت ملے گی اور اس کے لئے ہمیں امیرکیوں کی نئی نسل کو بیرونی سر زمین پر مزید دس برس لڑنے اور مرنے کے لئے بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ اسلامک اسٹیٹ اسلامی نہیں ہے ۔ انہوں نے دنیا بھر کے اسلامی رہنماؤں سے خواہش کی کہ وہ اس دہشت گرد تنظیم اور اس کی آئیڈیالوجی کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کسی بھی ملک میں جہاں بھی ضروری ہو دہشت گرد منصوبہ سازوں کو ڈھونڈنکالنا جاری رکھے گی۔ عراق اور شام میں فضائی حملے ، اسلامک اسٹیٹ قائدین ، بھاری اسلحہ، تیل ٹینکرس اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ گزشتہ چند برس میں دہشت گرد خطرہ، نئے دور میں داخل ہوگیا ہے ۔ عراق اور بعد ازاں شام میں افرا تفری کے درمیان اسلامک اسٹیٹ جیسے گروپس طاقتور ہوئے ۔ انٹر نیٹ نے ممالک کے درمیان فاصلے مٹا دئیے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دہشت گرد، عوام کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ اوول آفس سے سات سال میں اوباما کا تیسر ا خطا ب تھا۔ پچھلی دو تقریروں میں جو2010میں ہوئی تھیں، انہوں نے سمندر کی تہہ میں تیل کے اخراج اور عراق میں فوجی کارروائی کے خاتمہ پر روشنی ڈالی تھی۔ اوباما نے اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے کی اپنی حکمت عملی کا پرزور دفاع کیا لیکن امریکی پالیسی میں تبدیلی کی کوئی بات نہیں کی۔ اوباما نے کہا کہ ریپبلکن اکثریتی کانگریس اگر مانتی ہے کہ امریکہ ، اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے تو اسے آگے بڑھنا چاہئے اور ووٹ دینا چاہئے تاکہ حکام یا ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ امریکہ، اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہا سلامک اسٹیٹ کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ وہ ٹھگ اور قاتل ہے ۔ وہ دنیا بھر کے ایک بلین سے زائد مسلمانوں کی جملہ تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں۔ کئی ملین محب وطن مسلم امریکی بھی اسلامک اسٹیٹ کی نفرت انگیز آئیڈیالوجی کو مسترد کرتے ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ بعض مسلم برادریوں میں انتہا پسند نظریات ھپیلے ہیں ۔ یہ حقیقی مسئلہ ہے جس سے مسلمانوں کو کسی حیلہ، بہانہ کے بغیر نمٹنا ہوگا ۔ اوباما نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسی تجویز کو مسترد کردیں جس میں کہا جارہا ہے کہ مسلم امریکیوں کے ساتھ برتاؤ کچھ الگ ہو ۔ امریکہ کی مسلم برادری نے اوول آفس خطاب میں امریکی صدر کے اسلام سے غیر ضروری خوف کو مسترد کردینے کا خیر مقدم کیا۔

Obama: We will destroy ISIS and anyone else who tries to harm us

0 comments:

Post a Comment