Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-11 - بوقت: 23:59

مستقل روزگار کا فروغ ہندوستانی حکمت عملی کا اٹوٹ حصہ

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
دیہی ترقی اور مستقل روزگار کا فروغ ہمہ جہت ترقی کی ہندوستانی حکمت عملی کا اٹوٹ حصہ ہے جو سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔ اس تمہید کے ساتھ اقلیتی امور کی مرکزی وزیر نجمہ ہبت اللہ نے یہاں لائیولی ہڈ(ذریعہ معاش) ایشیا چوٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے سماجی تحفظ کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے ، مالی وسائل میں سب کو شریک کرنے، تعلیم و صنعت کاری، صحت صفائی ، ماحول کے تحفظ اوررہائش کی سہولیات کے فروغ کے لئے جو مختلف اسکیمیں بنائی ہیں ان پر سنجیدگی سے عمل کیاجارہا ہے تاکہ ہمہ جہت ترقی یقینی بن سکے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جن دھن یوجنا، میک ان انڈیا، اسکل انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، سوچھ بھارت وغیرہ جیسی اسکیمیں ہندوستانی عوام کو غریبی سے نکال کر بہتر روزگار کی جانب قدم بڑھانے کا راستہ ہیں اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اقلیتی امور کی وزارت، وزارت ملک کے اقلیتی فرقوں کی روزگار سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کئی اسکیموں پر عمل پیرا ہیں ۔ بیشتر اسکیموں کو اس انداز میں بنایا گیا ہے کہ ان کا فائدہ اقلیتوں کے مستحق طبقوں تک کسی رکاوٹ کے بغیر پہنچ سکے۔ ایسی ہی ایک اسکیم ہے جس کا نام ہے استاد (ترقی کے لئے روایتی مہارتوں کا فروغ اور روایتی فنون، دستکاریوں کی تربیت) جس کا مقصد روایتی مہارتوں کا فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صلاحیت سازی کے دیگر اقدامات کے ذریعے روزگار کے مواقع کو بہتر بنانا ہے ۔ وزیر اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہبت اللہ نے اس موقع پر اس یقین کا بھی اظہار کیا کہ دیہی ترقی اور غریبی کو دور کرنے کی ایسی ہی اسکیمیں چونکہ خطے کے دوسرے ممالک میں بھی لاگو کی جارہی ہیں اس لئے اس چوٹی کانفرنس سے ہم سبھی کو اپنے خطے کے لوگوں کو در پیش اہم مسائل سے متعلق ا پنے تجربات سے ایک دوسرے کے ساتھ با خبر کرنے کا موقع ملے گا ۔ اقلیتی امور کی وزیر نے اس موقع پر ایک سے زیادہ بہبود رخی کوششوں کا حوالہ دیا اور امید ظاہر کی کہ لگن کے ساتھ کام کیاجائے تو امکانات کو روشن سے روشن تر کیاجاسکتا ہے ۔


--

0 comments:

Post a Comment