Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-29 - بوقت: 23:29

افغان امن مذاکرات کی آئندہ ماہ بحالی متوقع - رپورٹ

Comments : 0
اسلام آباد
پی ٹی آئی
پاکستان کے طاقتور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کے بعد، جس کے دوران ان کے اور افغانستان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان طالبان کے ساتھ تعطل کے شکار مذاکرات کی بحالی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ، اطلاع ہے کہ افغان امن مذاکرات کا آئندہ ماہ احیاء ہوسکتا ہے ۔ جنرل شریف کے دورہ کے دوران رہنماؤں نے افغانستان ، پاکستان، چین اور امریکہ کے درمیان نتیجہ خیز امن کے لئے جامع روڈ میاپ تیار کرنے آئندہ چو طرفہ اجلاس پر اتفاق کیا ۔ واضح رہے کہ طالبان قائد ملا عمر کی موت کے باضابطہ اعلان کے بعد30جولائی سے امن مذاکرات کا سلسلہ معطل ہے۔ اولین اور واحد مذاکرات اسلام آباد سے قریب مری میں ماہ جولائی میں منعقد ہوئے تھے۔ ڈان نے ایک ذریعہ کے حوالے سے کہا کہ جنوری میں چو طرفہ اجلاسوں کا سلسلہ چلے گا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر منتج ہوگا ۔ مقام اور نمائندگی کی سطح کا فیصلہ چار ممالک کریں گے ۔ ایک عہدیدار نے افغان امن مذاکرات کی آئندہ ماہ بحالی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا ۔ دونوں فریقوں کو سیاسی حل کی فوری ضرورت کا احساس ہوگیا جس سے ملک میں تشدد کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ اس نے کہا کہ یہ بات سب پر واضح رہے کہ امکان کا تنگ راستہ ہے اور مذاکرات کے ٹیبل پر فریقین کے درمیان سنجیدگی درکار ہے ۔ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ جنرل شریف کی بات چیت میں اتفاق کیا گیا کہ مذاکرات میں صلح پسند طالبان کو شامل کیاجائے گا جب کہ دیگر کے ساتھ باہمی رضا مندی سے نمٹا جائے گا۔ پاکستان کے فوجی ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا نے یہ بات کہی۔دریں اثناء واشنگٹن سے پی ٹی آئی کی ایک علیحدہ اطلاع کے بموجب پاکستان میں اپنے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی کے بغیر طالبان ، افغانستان کے اندر حملے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اعلیٰ امریکی ماہرین نے یہ بات کہی۔ افغانستان اور پاکستان کے لئے سابق اعلیٰ عہدیدار ڈوڈسیڈنی نے پی بی ایس کو انٹر ویو میں کہا تھا کہ یہ کارروائیاں پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کے ذریعہ کی جاتی ہیں ۔ سیڈنی نے دلیل دی کہ یہ مختلف طالبان گروہوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی اور افغانستان میں نئے عصر داعش کے سبب بھی ہیں جو یہاں اپنی زمین تلاش کرنے کی خواہاں ہے ۔ ایک اور ماہر ڈارنیٹ روبین نے کہا کہ اگر پاکستان میں ان کے محفوظ ٹھکانے نہ ہوتے تو طالبان یہ ساری کارروائیاں نہیں کرسکتے تھے اگرچیکہ وہ موجودہ رہین گے اور ان سے سیاسی طور پر نمٹنا چاہئے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اور اس کی وجوہات پاکستان کے برے یا دہشت گردوں کے حامی ہونے کے علاوہ اس ملک کے خطہ میں مفادات ہیں ۔

General Raheel Sharif meet Afghan leaders, agree to revive peace talks with Taliban

0 comments:

Post a Comment