Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-05 - بوقت: 23:57

مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون سے ہی ملک کی ترقی ممکن - وزیراعظم مودی

Comments : 0
نئی دہلی

پی ٹی آئی، یو این آئی

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی پر سکون طریقہ سے چلنا ایک اچھی خبر ہے اور کہا کہ اس کا سہرا تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے ۔ وزیر اعظم نے ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمٹ سے یہاں اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ بہت دنوں کے بعد پارلیمنٹ میں کام کاج مناسب طریقہ سے ہورہا ہے ۔ یہ ایک اچھی کبر ہے اس کا سہرا تمام سیاسی جماعتوں کو جاتا ہے۔ انہوں نے ملک کے مضبوط وفاقی ڈھانچہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ریاستی حکومتیں مرکز کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں۔ ملک کو ترقی کے راستہ پر لے جانے کے لئے یہ بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک مرکز یہ طے کرتا تھا کہ ریاستی حکومتیں کن اشیاء میں کیا خرچ کریں گی ، لیکن اب یہ نظام بدل چکا ہے ۔ اب ریاستوں کے چیف منسٹر اس کا فیصلہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا اس لئے کیا گیا ہے تاکہ دنیا کو ہندوستان کے ساتھ ساتھ اس کی ریاستوں کی طاقت کا بھی پتہ چل سکے کیونکہ ہندوستان ان ہی ریاستوں سے مل کر بنا ہے ۔ وزیر اعظم نے اکثریت سے ان کی حکومت کو اقتدار میں لانے کے لئے ملک کے عوام کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے ایک مضبوط حکومت کا ہونا ضروری ہے، ایسے میں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت کو واضح رائے عامہ دے کر عوام نے ایک بہت بڑا کام کیا ہے ۔ اس رائے عامہ سے ہی ملک کی تصویر بدلے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کا یہ سفر روشن مستقبل کے لئے ہے ۔ گزشتہ چند برسوں کے مقابلہ میں ملک آج جس مضبوطی سے کھڑا ہے اس کوعالمی منظر نامہ میں دیکھا جانا چاہئے ۔مودی نے اقتصادی اصلاحات پر اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے اپنی حکوت کی کچھ اہم اقتصادی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور اس تناظر میں گھریلو بنیادی پیداوار کی ترقی کی شرح7.4پر پہنچنے اور کاروبار کے لئے طریقہ کار کو آسان بنائے جانے کا نمایاں ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری ماحول کے سدھرنے کے پیچھے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون کا بڑا کردار ہے ۔ یہ با اختیار بنانے کے لئے14ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق ریاستوں کو اضافی مالی مدد دی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر پکوان گیس کے لئے سبسیڈی کی رقم سے فائدہ اٹھانے والوں کے کھاتوں میں براہ راست پہنچائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہزاروں کروڑ روپے کی بچت ہورہی ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ40لاکھ خاندانوں نے ان کی ایک اپیل پر ایل پی جی سبسیڈی سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ اس بچت سے حکومت مزید غریبوں کو گیس سبراہ کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ مودی نے اس موقع پر ریلوے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اس کے ذریعہ بہار میں2انجن فیکٹری بنائے جائیں گے ۔ مودی نے ملک کے بجلی سے محروم 18ہزار مواضعات میں برقی سربراہی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ گرامین ودیواتی کرن ایکٹ استعمال کرنے والا ہر شخص اس سمت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو دیکھ سکتا ہے ۔ مودی نے 40منٹ کی اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان صرف ریاستوں کے مضبوط کندھوں پر ہی آگے بڑ ھ سکتا ہے صرف ایک دہلی ملک کو ترقی کی سمت نہیں لے جاسکتا۔ مودی نے کہا کہ ان کی حکومت100 شہروں میں ایل ای ڈی لائٹس نصب کرنے کے منصوبہ پر عمل کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے21,500میگا واٹ برقی کی بچت ہوگی ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر میں21,500میگا واٹ برقی پیدا کرنے کے لئے نئے پراجکٹس کا اعلان کرتا تو یہ اخبارات کی سرخیوں میں ہوتا، لیکن ایل ای ڈی کی وجہ سے ہونے والی بچت کا کہیں ذکر نہیں کیاجارہا ہے ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ جو برقی1.25لاکھ کروڑ روپے خرچ کرکے پیدا کی جاسکتی تھی ، اسے ہم نے ایل ای ڈی بلب تبدیل کرنے کے ذریعہ ہی حاصل کرلیا۔ برقی پیداوار کا ریکارڈ اس حکومت نے توڑ دیا ہے ۔85بڑے پراجکٹس پر کام شروع ہوگیا ہے ۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ فرٹیلائزرس پر80ہزار کروڑ روپے کی سبسیڈی دی جارہی ہے لیکن کوئی یہ دیکھنے والا نہیں ہے کہ یوریا کسانوں کے پاس جارہا ہے یا نہیں۔ اسے کس طرح روکا جائے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے یوریا کو راست کسانوں تک پہنچانے کے لئے100فیصد اقدامات کئے ہیں ۔

PM Modi calls for more cooperation between Centre and states

0 comments:

Post a Comment