Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-25 - بوقت: 22:38

کبھی گناہ سے پہلے کبھی گناہ کے بعد

Comments : 0
indian-muslim-women-education
عفت آپا کے گھر نئی بہو کو آئے ہوئے دو مہینے بھی پورے نہیں ہوئے کہ بہو بیمار پڑ گئی ۔ ڈاکٹر سے رجو ع ہوکر دوا لی گئی لیکن افاقہ نہیں ہورہا تھا اور بہو کی طوالت پکڑتی ہوئی بیماری دو گھروں میں جھگڑے کا سبب بنتی جارہی تھی ۔ عفت آپا کا الزام تھا کہ ان کی بہو شادی سے پہلے ہی بیماریوں سے متاثر تھی اور ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ، لڑکی کی بیماری کو چھپاکر اس کی شادی کروادی گئی اور اب انہیں اور ان کے لڑکے کو مصیبت جھیلنی پڑ رہی ہے۔ بہو نے جب دیکھا کہ اس کی ساس اپنی ہی بات پر اڑی ہے تو اس نے بھی یہ بات واضح کردیکہ اس کو کوئی بیماری نہیں بلکہ الرجی ہے اور الرجی کوئی بیماری نہیں ہے ۔ اب چونکہ اس کا شوہر سگریٹ پیتا ہے اس وجہ سے اس کی الرجی شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ عفت آپا کا لڑکا سگریٹ نوشی چھوڑ دے ۔ اپنی بہو کے منہ سے یہ بات سن کر ان کا لڑکا سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ تو آپے سے باہر ہوگئیں اور اپنی نئی نویلی بہو پر ہی الزام تراشیاںکرنے لگیں کہ ان کے معصوم سے بچے پر غلط عادتوں کا الزام لگا رہی ہے ۔ ہمارے ایک شناسا نے یہ واقعہ سنایا جس میں نام تو فرضی ہے مگر بقیہ حالات جوں کے توں بیان کئے گئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ کچھ مہینوں میں ہی دو خاندانوں کی رشتہ داریاں ختم ہوگئیں اور دشمنی شروع ہوگئی۔
اس واقعہ سے ہمارے سماج کے ایک ایسے مئلے کی نشاندہی ہوتی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ ایسے ہی سنگین مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے انگریزی اخبار ٹائم آف انڈیا کی حیدرآبادی نامہ نگار بشریٰ بصیرت نے17مارچ کو ایک خصوصی رپورٹ شائع کی۔Difficul to find grooma for Hyderabad's over qualified Muslim womenاپنی رپورٹ میں بشری بصیرت نے لکھا ہے کہ فری تعلیم اور فیس ری ایمبرسمنٹ کی اسکیمس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے پیمانہ پر مسلم لڑکیوں نے ایک سے بڑھ کر ایک اور اعلیٰ سے اعلیٰ پروفیشنل تعلیم حاصل کرلی۔ یہاں تک کہ ہر سال دس لڑکیوں میں سے7لڑکیاں اعلیٰ تعلیمی اسناد رکھتی ہیں اور اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ان اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لئے اسی مناسبت سے مناسب رشتے نہیں مل پارہے ہیں کیونکہ مسلم سماج میں لڑکیاں تو تعلیم حاصل کررہی ہیں لیکن لڑکے تعلیم کے میدان میں کافی بچھڑ چکے ہیں ۔ اب جو لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکی ہیں وہ اپنے سے کم تر قابلیت والے لڑکے سے شادی کے لئے با دل نخواستہ ہی آمادگی کا اظہار کرتی ہیں۔ کیا انگریزی اخبارات ہمیشہ کی طرح اس مسئلہ پر بھی مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہیں اور مسلم لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیمی یافتہ ہونے کو مسئلہ بنا کر پیش کررہے ہیں؟ اور یہ ایسے ہی مزید سوالات سے مسلسل بے چین کئے ہوئے تھے میں نے اپنے آج کے کالم میں اسی موضوع پر قلم اٹھانے کے بارے میں سوچا۔ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کیا واقعہ ایک مسئلہ بن چکی ہے ، اس سوال کا جواب جاننے کے لیے جب ہم نے خود ایک خاتون پروفیسر فاطمہ بیگم پروین سے ربط پیدا کیا تو انہوں نے کہا ہاں یہ سچ ہے کہ عام طور پر مسلم سماج میں لڑکیاں اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں اور لڑکے میدان تعلیم میں پیچھے ہوتے جارہے ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کے بعد شادی کے سلسلے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ کیا اس کا حل یہ ہے کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم سے منع کردیاجائے ، اس سوال پر پروفیسر فاطمہ بیگم نے کہا کہ نہیں لڑکیوں کو تعلیم سے منع کردینا اس مسئلہ کا حل نہیں بلکہ کم عقلی کی نشاندہی کرتا ہے ۔
والدین، سرپرستوں اور خود لڑکیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈگریاں ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہیں ۔ موجودہ دور میں باکردار اور اچھے اخلاق و عادات کا مالک ہونا بھی بہت بڑی بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کو جانچنے کا پیمانہ نہیں ہے ۔ تعلیم ایک چیز ہے اور رشتہ الگ چیز ہے ۔ پڑھ لکھ کر بھی اکثر لوگ جہالت کے علمبردار بنے ہوئے ہوتے ہیں ان لوگوں سے تو بہتر وہ نوجوان ہے جس کے ہاں اعلیٰ تعلیم سند نہیں لیکن بہترین اخلاق و کردار ہیں۔لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسی مناسبت سے مسلم اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے نہیں مل رہے ہیں، ایسا سوچ کر لڑکیوں کی تعلیم ترک کرواکر ان کو گھر پر بٹھا لینا بھی مناسب نہیں ہے بلکہ لڑکیوں کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہئے کہ وہ رشتوں کے انتخا ب میں لڑکوں کی تعلیمی قابلیت کاہی لحاظ نہ کریں ۔ پروفیسر فاطمہ بیگم کے مطابق ہمارے سماج میں ایسی نظیر بھی ہے جہاں لڑکا اور لڑکی ہر د و اعلیٰ تعلیم یافتہ قابلیت کے مالک تھے لیکن شادی کے بعد ان دونوں میں ذرا بھی ہم آہنگی نہیں رہی اور شادی کرنا ایک جنجال بن گیا اور بات علیحدگی تک پہونچ گئی ، ان کے مطابق لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کا مسئلہ صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگوں میں بھی عام ہے ۔ٹائمز آف انڈیا کی نامہ نگار بشری بصیرت اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ دوسروں کے مقابل مسلم کمیونٹی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ زیادہ سنگین نوعیت کا ہے ۔ پروفیسر بیگ احساس اس احساس سماجی مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم سماج میں لڑکے نہیں پڑھ رہے ہیں اور لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں ، ایسے میں لازمی بات ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لئے ان کی مناسبت سے رشتے نہیں مل سکتے ہیں ۔ جب پروفیسر بیگ احساس سے دریافت کیا گیا کہ آخر کیا وجہ مسلم سماج میں لڑکیاں ہی اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ کسی بھی اسکول و کالج کا تجزیہ کرلیجئے کہ ہر کلاس میں لڑکوں کی بہ نسبت نہ صرف لڑکیاں حاضری میں پابند ہوتی ہیں بلکہ تعلیم کے تئیں زیادہ اور عملی دلچسپی کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کے بر خلاف لڑکوں میں لاڈ و پیار نے اس قدر بری عادتون کو پروان چڑھا دیا کہ وہ لوگ تن آسانی چاہتے ہیں ، سنجیدگی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے زیادہ انہیں خلیجی ممالک کے ریال اور امریکہ کے ڈالر کمانے میں زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے ۔ ان پر کشش چیزوں کے حصول کی عملی کوششوں سے زیادہ لطف ہمارے نوجوانوں کو اپنی تخیلاتی دنیا سجانے اور بسانے میں آتا ہے ۔ پروفیسر بیگ احساس کے مطابق حیدرآباد کے نوجوانوں میں جو بیماری عام ہوگئی ہے وہ رات رات بھر جاگنا اور گھروں سے باہر وقت گزارنا ان کے الفاظ میں جو نوجوان رات بھر گھر سے باہر وقت گزاراا ہے صبح سویرے گھر آکر اس کو سونا اچھا لگتا ہے اور تعلیمی اداروں میں جاکر آگے پڑھنا ان کے بس کی بات نہیں ۔ مسلم لڑکوں میں پھیل رہے بگاڑ کا سبب کیا ہے؟ کیا والدین کا لاڈو پیارہی انہیں تباہی کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے ؟ اس سوال پر پروفیسر بیگ احساس نے کہا کہ ان کی دانست میں ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں بھی ہمار بچوں کو جلد ہی تعلیم سے دور کرنے کا سبب بن رہی ہیں ۔ انہوں نے انجینئرنگ کرنے والے بچوں کی مثال دی کہ کالجس کی بہتات اور انتظامیہ کی نااہلی کے سبب بچے کسی طرح سند تو حاصل کررہے ہیں مگر ان کے اندر نہ تو خود اعتمادی ہی جھلک رہے اور نہ یہ کسی اچھی جگہ روز گار حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی بات اعلیٰ تعلیم کی تو یہ نوجوان جانتے ہیں کہ کس طرح اور کون سے طریقے ہیں جن کو بروئے لاکر انہوں نے اپنی ڈگری تو پوری کرلی، اب اس سے آگے پڑھنا ان کے بس کی بات نہیں ۔پروفیسر بیگ احساس نے ایک بڑا ہی اہم نکتہ بیان کیا کہ لڑکیاں جتنی اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ، اس حساب سے لوگوں کے لئے ان کی عمروں کا اندازہ لگانا آسان ہورہا ہے ، یوں پوسٹ گریجویشن پاس لڑکی کے لئے پوسٹ گریجویٹ کامیاب لڑکا نہیں مل پارہا ہے ۔ پھر اس مسئلہ کا آپ کی دانست میں حل کیاہے اس سوال پر وفیسر بیگ احساس کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم سے منع کردینا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ لڑکوں کو تعلیم سے جوڑنا اور لڑکوں میں معیاری اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ تب ہی جاکر ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لئے مناسب اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں کے رشتے فراہم کرسکتے ہیں ۔ پروفیسر فاطمہ بیگم کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو اپنے سے کم تر قابلیت والے لڑکے سے بھی شادی کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ پروفیسر بیگ احساس لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم کی جانب راغب کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ میری دانست میں مسلم سماج میں شادیوں کا مسئلہ یو یا اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لئے مناسب رشتہ کی دستیابی کا ایک ماہر نفسیات کی رائے ہم سب کے لئے بہت بڑی رہبری کا کام کرسکتی ہے اور جب رائے ممتا زماہر نفسیات عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر مجید خان صاحب کی ہو تو وہ سب پر مقدم درجہ رکھتی ہے ۔
ڈاکٹر مجید خان صاحب کا یہ حسن سلوک ہے کہ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود بھی ہماری درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہیں ۔ مسلم لڑکیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کی شادی مسئلہ بنتی جارہی ہے اس سوال پر ڈاکٹر صاحب نے واضح کردیا کہ ہر مسئلہ کی طرح اس مسئلہ پر عام رائے نہیں دی جاسکتی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ آج کل حیدرآبادلڑکیوں کے لئے مرضی کے مطابق رشتہ ملنا مشکل ہوتا جارہا ہے ، ان کے مطابق یہ بھی ایک حقیقت ہے ۔ لڑکیاں جب اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیتی ہیں تو ان کے مزاج میں اپنی پسند اور ناپسند کو لے کر احساس مضبوطی اختیار کرلیتا ہے ، ان کے مطابق موجودہ دور میںIncom[atibilityبڑھتی جارہی ہے اور تعلیم یافتہ لڑکی شادی کو اب مجبوری نہیں مان رہی ہے ۔ وہ اپنے آپ کو با اختیاراور خود پر بھروسہ کرنے لگتی ہے۔ اس سارے پس منظر میں لڑکیوں کی شادیاں مسئلہ بن گئی ہیں۔ ڈاکٹر مجید خان نے ایک بڑا ہی اہم نکتہ یہ بتلایا کہ لڑکیوں میں تعلیم عام ہونے کے سبب ان کی نالج کی سطح بھی بڑھ گئی ہے اور ان کی سوچ بھی ماڈرن بن گئی ہے اس کے بر خلاف لڑکے لاکھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں ان کی سوچ اور عادات و افکار بدستور روایتی ہیں، وہ آج بھی چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی اطاعت پسند ہو اور میری بات سننے کے لئے آمادہ رہے تعلیم یافتہ لڑکی شادی کو دوسرے نقطہ نظر سے دیکھنے لگی ہے ، وہ ا پنے آپ کو پہلے بیوی کے ادب میں اور پھر بہو کے درجہ میں دیکھنا چاہتی ہے ۔ اور مسلم سماج یں سسرال والے لڑکی چاہے کتنی ہی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو ، اس کو پہلے گھر کی بہو کی شکل میں اور بعد میں بیٹے کی بیوی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔ تعلیم یافتہ لڑکیاں اپنی شادی شدہ زندگیوں میں دخل نہیں چاہتی ہیں اور اپنی نجی زندگی کے بارے میں حساس ہوتی ہیں ۔ مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر مجید خان صاحب کہتے ہیں کہ مسلمان زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کریں اور شادی سے پہلے ہی لڑکے اور لڑکی کے مزاجوں مین یکسانیت اور مطابقت کو دیکھیں کیونکہ شادی اس دنیا کا یک قدیم ترین سماجی ادارہ ہے اس کو در پیش خطرات کا ٹالنا ضروری ہے ۔ مسئلہ کا حل کیا ہے؟ ڈاکٹر مجید خاں کہتے ہیں کہ مزاج ہمارے جس طرح سے بدل رہے ہیں ایسی ہی تبدیلیاں ہمیں اپنے اندر لانی ہوں گی ۔ ان کے مطابق اب لڑکے لڑکیوں کی اسم نویسی کے طریقے کو بدلنا بھی ہوگا ، صرف باپ دادا کا نام ہی نہیں بلکہ لڑکے اور لڑکیوں کی پسند اور ناپسند کو بھی اسم نویسی میں شامل کرناہوگا ۔ لڑکے کی اسم نویسی میں نام اور تعلیمی قابلیت کے ساتھ اس کے LikesاورDislikesکو بھی جگہ ملنی چاہئے تاکہ شادی سے پہ لے ہی جب پتہ لگ جائے کہ لڑکے اور لڑکی کی پسند اور ناپسند میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو ایسی خطرناک شادی کا خطرہ ٹالاجاسکتا ہے ۔ واقعی ڈاکٹر مجید خان نے لاکھ پتے کی بات کہی اگر ہم اس واقعے پر غور کریں جس کا میں نے اپنے کالم کے آغاز میں ذکر کیا ہے ۔ عفت آپا اپنے لڑکے کے بائیو ڈاٹا میں بچے کی عادات یا پسند ناپسند کو بھی لکھ دیتیں یا لڑکی کے بائیو ڈاٹا میں اس کے مزاج کی طبی الرجی کا بھی ذکر ہوتا تو مگر ہم پھر سے اپنے اسی مزاج میں جاکر پھنس رہے ہیں کہ ایسا ہوتا تو اچھا ہوتا ، ویسا ہوتا تو ایسا ہوتا لیکن ایک چیز ہر کوئی چاہتاہے کہ ہمارے سماج میں شادیاں آسان ہوں اور دیرپا بھی ثابت ہوں ۔ دانشور حضرات نے اپنی رائے دی ، ڈاکٹر صاحب نے اپنا تجزیہ بیان کردیا اور مشورہ بھی دیا ۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ کب تک مردہ دلی کی زندگی جئیں گے ، معلوم نہیں کب جاگے کا ضمیر؟ بقول اقبال
ضمیر جاگ ہی جاتا ہے اگر زندہ ہو
کبھی گناہ سے پہلے کبھی گناہ کے بعد

***
پروفیسر مصطفیٰ علی سروری
اسوسی ایٹ پروفیسر ، ڈپارٹمنٹ آف ماس کمیونکیشن اور جرنلزم ، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد۔
sarwari829[@]yahoo.com
موبائل : 9848023752
مصطفیٰ علی سروری

Over qualified Muslim girls marriage problems. Article: Prof. Mustafa Ali Sarwari

0 comments:

Post a Comment