Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-05 - بوقت: 18:48

وی کے سنگھ کے دلت مخالف ریمارکس پر اپوزیشن کا احتجاج

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
راجیہ سبھا میں آج وی کے سنگھ کے مبینہ مخالف دلت ریمارکس پر بی جے پی نے پرزور احٹجاج کیا جب کہ ایس پی نے ایودھیا میں رام مندر پر آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت کے مبینہ ریمارکس پر طوفان کھڑا کیا۔ چنانچہ آج ایوان کو دو مرتبہ ملتوی کرنا پڑا ۔ ایوان شروع ہونے پر سابق رکن ایم اے ایم راما سوامی کے انتقال پر انہیں تعزیت پیش کی گئی ۔ اس کے بعد فہرست میں شامل پیپرس رکھے گئے ۔ اس کے فوری بعد بی ایس پی صدر مایاوتی اپنی نشست سے اٹھیں اور کہا کہ سنگھ کے تبصروں پر حکومت کا رویہ انتہائی افسوسناک اور بدبختانہ ہے ۔ جب نائب صدر نشین پی جے کورین نے انہیں اجازت نہیں دی اور ان سے کہا کہ بیان کے لئے نوٹس دیں تب ان کے پارٹی ارکان ایوان کے وسط میں داخل ہوئے اور مخالف حکوتمت نعرے لگانے لگے۔ اس موقع پر نریش اگروال( ایس پی) نے مندر کی تعمیر کے بارے میں بھاگوت کے مبینہ بیان کا مسئلہ اٹھایا۔ کورئین نے انہیں بھی کہنے کی اجازت نہیں دی اور ان سے کہا کہ وہ وقفہ صفر کے دوران بیان دیں ۔ انہوں نے کہا یہ قواعد کے خلاف ہے ۔ براہ کرم نوٹس دیں ، آپ نوٹس کے بغیر بیان نہیں دے سکتے ۔ اس کے فوری بعد ایس پی کے ارکان ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرے لگانے لگے ۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ جب سے بی جے پی اقتدار مین آئی ہے ملک میں سماجی اور فرقہ وارانہ ماحول بگڑ گیا ہے ۔ حکومت فتنہ انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ایسے مسائل کے لئے نرمی سے کام لے رہی ہے ۔ اسی دوران بی ایس پی ارکان نے دلت ورودھی سرکار نہیں چلے گی ، نہیں چلے گی، وی کے سنگھ مردہ باد کے نعرے لگائے جب نائب صدر نشین کی جانب سے نظم و ضبط کی برقراری کے لئے کی گئی درخواست کا اثر بی ایس پی ارکان پر نہ ہوا تب انہوں نے ایوان کو15منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔11:30بجے دورباہ ایوان شروع ہونے پر مماثل قسم کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ بی ایس پی کے ارکان ایوان کے بیچوں بیچ جمع ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔ رام گوپال یادو ایس پی نے کہا جہاں ایودھیا میں رام مندر کا مسئلہ عدالتوں میں زیر التوا ہے بھاگوت کے بیان سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال تخلیق ہوئی ہے ۔ حکومت اور آر ایس ایس کے درمیان ملی بھگت کا الزام عائد کرتے ہوئے ایس پی کے چندر ارکان بطور احتجاج ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے۔ اس موقع پر مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت ایودھیا مسئلہ پر عدالت کے فیصلہ کا احترام کرتی ہے لیکن عوام کا بنیادی حق ہے کہ وہ مندر کی تعمیر کے لئے اپنے عہد کو دہرائیں ۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ تعمیر عدالت کے فیصلہ بموجب ہوگی۔ سنگھ کے مبینہ ریمارکس پر نقوی نے کہا کہ وزیر نے بار بار یہ وضاحت کی ہے کہ انہوں نے کوئی مخالف دلت بیان نہیں دیا ہے ۔ لیکن وہ نعرے لگانے والوں کی آواز کو روک نہ سکے ۔ چند کانگریسی ارکان بھی ایوان کے وسط میں پہنچ گئے جس کے بعد کورین کو ایوان کی کارروائی12بجے تک ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ دوبارہ ایوان شروع ہونے پر صدر نشین حامد انصاری نے وقفہ سوالات کا اعلان کیا۔ لیکن بی ایس پی ارکان پھر ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور دلت بچوں کی ہلاکت پر انہیں کتے کہنے کے مبینہ ریمارک پر وی کے سنگھ کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا اس طرح کے وزیر کو مرکزی کابینہ کا ایک منٹ کے لئے بھی رکن نہیں رہنا چاہئے اور نہ ہی انہیں بطور پارلیمنٹ کارکن ہونا چاہئے ۔ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ وی کے سنگھ کو نہ صرف کابینہ سے بلکہ پارلیمنٹ سے بھی ہٹائے ۔ انہوں نے کہا کہ وی کے سنگھ نے دلت بچوں کی ہلاکت کی مذمت کرنے کے بجائے ان کا تقابل کتوں سے کیا ہے ۔ یہ پورے ملک اور ساتھ ہی ایوان کے لئے بے حد خراب بات ہے ۔ اسی دوران مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت دلتوں کے فروغ اور درجہ بڑھانے کی پابند ہے اور پچھڑے ہوئے افراد کے احساسات کو مجروح کرنے کی کوشش نہیں کرتی ۔ ہم اس بات کے خلاف ہیں کہ پچھڑے ہوئے طبقات اور دلتوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور اس طرح کی بات کی ہم مذمت کرتے ہیں ، لیکن وی کے سنگھ نے دلتوں کے خلاف کوئی بات نہیں کہی۔ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کئی بار وضاحت کی ہے کہ انہوںنے دلتوں یا سماج کے کسی طبقے کے احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی کبھی کوشش نہیں کی ہے ۔ اسی لیے ہمیں یہ احساس ہے کہ صرف سیاسی فائدہ کے لئے یہ سب کیاجارہا ہے ۔ اسی دوران انصاری نے ایوان کو ایک بجے دن تک ملتوی کردیا ۔ دوبارہ ویوان شروع ہونے پر پھر ایک بار بی ایس پی کے ارکان چند کانگریسی ارکان کے ساتھ ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور کابینہ کے عہدہ پر سنگھ کی برقراری کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر حامد انصاری نے ایوان کو2:30بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

Opposition Protests Over Remarks of VK Singh, RSS Chief Disrupts Rajya Sabha

0 comments:

Post a Comment