Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-07 - بوقت: 23:03

جب تک عدلیہ آزاد ہے خوف کی ضرورت نہیں - چیف جسٹس ٹھاکر

Comments : 0
CJI-Thakur
نئی دہلی
پی ٹی آئی
عدم رواداری کے بڑھتے قضیہ کی بابت چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے آج کہا ہے کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے اور جب تک عدلیہ آزاد ہے اور قانونی قواعد کا غلبہ ہے کسی خوف کی ضرورت نہیں ہے ۔ سی جے آئی نے یہاں اخباری نمائندوں کے ساتھ ایک غیر رسمی بات چیت میں کہا یہ سیاسی پہلو ہیں ۔ہم قانونی قواعد رکھتے ہیں ، جب تک قانونی قواعد برقرار ہیں تب تک آزادانہ عدلیہ رہے گا و نیز جب عدالتیں حقوق اور ذمہ داریاں برقرا رکھی ہوئی ہیں میں نہیں سمجھتا کہ کوئی خوف کرے گا ۔ میں ادارہ کی قیادت کررہاہوں، جو قانونی قواعد برقرا ررکھتا ہے اور ہر شہری کے حقوق محفوظ رہیں گے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم عوام کے مختلف طبقات کے حقوق کا تحفظ کرنے کے اہل ہیں ۔ میرا ادارہ شہریوں کے حقوق برقرا ررکھنے کا اہل ہے ۔ سی جے آئی نے کہا عدم رواداری، نظریہ کا معاملہ ہے اور سیاسی لوگ اس کا کیسے اپ یوگ(استعمال) کرتے ہیں میں کچھ نہیں کہنا چاہوں گا ۔ انہوں نے کہا ہندوستان ایک بڑا ملک ہے اور ہمیں کسی چیز سے ڈرنا نہیں چاہئے ۔ یہ سب معاملات نظریات کے ہیں۔جب تک عدلیہ آزاد ہے کسی خوف کی ضرورت نہیں ۔ ہم قانونی قواعد اور سماج کے تمام شہریوں اور تمام عقائد و مذاہب سے متعلق عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے کے پابند ہیں۔ سماج کے کسی بھی طبقہ کے لئے کوئی خوف نہیں ہے ۔ اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کہ بعض حقوق غیر ملکی شہریوں بشمول دہشت گردوں کو دستیاب ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ قانونی قواعد کے استفادہ کنندگان ہیں اور ان پر قانون کی مطابقت میں مقدمہ چلایاجاسکتا ہے اور ضروری طریقہ عمل کے بغیر انہیں پھانسی پر لٹکایا نہیں جاسکتا ۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم اس طرح کی رکاوٹیں نہیں رکھتے ، ہم اس کا تعصب اور اس طرح کا تذبذب نہیں رکھتے ۔ ہم تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات عدم رواداری کے مسئلہ پر حالیہ رجحانات پر پوچھے گئے سوالات کا خاص طور پر جواب دیتے ہوئے کہی ۔یہ بات واضح کرتے ہوئے کہ وہ کسی مخصوص واقعہ کا حوالہ نہیں دے رہے ہیں ، سی جے آئی نے کہا یہ ملک تمام مذاہب کا اور ان کا بھی گھر ہے جن پر دیگر ملکوں میں ظلم ہوا ہے اور وہ یہاں آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس پارسی ہیں، جن کا بڑا تعاون رہا ہے ، ہم قانونی مشاہیر اور صنعت کار رکھتے ہیں ۔ ہمارے ہاں قانونی قواعد برقرار رکھنے والے افراد ہیں جیسے ایف ایس نریمن ، نانی پالکی والا اور آپ ان کے تعاون کے بارے میں جانتے ہیں ۔
نئی دہلی سے آئی اے این ایس کی علیحدہ اطلاع کے بموجب چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججس قومی صدر مقام میں فضائی آلودگی کے سد باب میں مدد کرنا چاہتے ہیں اور وہ عدالت پہنچنے کے لئے بس میں سوار ہونے سے بھی نہیں ہچکچائیں گے ۔ اس طرح پولنگ کارس(ساتھی ججس کے ساتھ) کا استعمال ایک درست پیام ثابت ہوگا ۔ انہوں نے بڑھتی فضائی آلودگی روکنے کی کوشش کے تحت یکم جنوری سے ہر متبادل روز دہلی میں چند کاریں ہی چلانے کی اجازت دینے سے متعلق دہلی حکومت کے فیصلہ کی تائید کی ۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی کہ وہ موتی لال نہرو مارگ پر واقع اپنی رہائش گاہ سے سپریم کورٹ تک پیدل جائیں یا کسی بس میں سوار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا ایک جج پول کارس کا استعمال کرتا ہے تو عوام کو یہ پیغام ملے گا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم پیدل بھی جا سکتے ہیں ، یہاں تک کہ بس میں بھی سفر کرسکتے ہیں ۔
نئی دہلی سے آئی اے این ایس کی علیحدہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر اروند کجریوال نے آج کہا کہ دہلی میں یکم جنوری سے ہر متبادل دن طاق اور جفت نمبرات کی کارس چلانے کی اجازت دینے کے فیصلہ کی چیف جسٹس ایس ٹھاکر نے تائید کی ہے۔ اس فارمولے کے لئے ان کی تائید کا خیر مقدم ہے اور اس سے بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ کجریوال نے ٹوئٹر پر یہ بات تحریر کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ ججس کا ایک ساتھ کار میں ساجھے داری کے اقدام سے ہزاروں لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی تحریک ملے گی ۔ قبل ازیں ٹھاکر جو تین روز قبل چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں ۔ کاروں کے محدود سسٹم کا خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے انہوں نے سپریم کورٹ کے ججس پر زور دیا کہ وہ کار پولنگ کریں۔ اس سے عوام کو ایک درست پیغام ملے گا ۔ ہفتہ کو کجریوال نے کہا تھا کہ انہوں نے عدالتی مداخلت کے باعث یہ فیصلہ کیا ہے ۔ یہ دیکھنے کے لئے یہ فارمولہ کامیاب ہوگا یا نہیں ہم شروع میں10تا15دن تک کاروں پر تحدیدات عائد کریں گے ۔

Tolerance must, no need to fear as long as judiciary is there: new CJI

0 comments:

Post a Comment