Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-03 - بوقت: 23:44

یونیورسٹی کیمپس میں بیف فیسٹول کی اجازت نہیں - عثمانیہ یونیورسٹی انتظامیہ

Comments : 0
حیدرآباد
منصف نیوز بیورو
عثمانیہ یونیورسٹی نے آج واضح طور پر کہہ دیا کہ کیمپس میں بیففیسٹول کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ طلباء کی تنظیمیں دس دسمبر کو بیف فیسٹول منعقد کرنا چاہتی ہیں اور اس کے جواب میں ایک سیاسی جماعت کے قائدین گاؤں رکھشنا تقاریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سے کیمپس میں کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں صرف تعلیمی سرگرمیاں کی جانی چاہئے۔ کافی غوروخوض کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ بیف فیسٹول یا گاؤں رکشنا تقریب کی اجازت نہ دی جائے ۔ اس دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ بیف فیسٹول کو مکان یا شادی خانے میں منعقد کرنا چاہئے ۔ یونیورسٹی کے طالب علموں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کیمپس صرف تعلیمی سر گرمیوں کے لئے ہیں ، اس میں سیاست کا کوئی دخل نہیں ۔ا گر طلباء چاہتے ہیں تو وہ فیسٹول مکان یا شادی خانے میں منعقد کرسکتے ہیں ۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروریہوگا کہ بائیں بازو کے طلباء یونینیوں نے10دسمبر کو نیو ریسرچ اسکالرس ہاسٹل کے سامنے بیف فیسٹول منعقد کرنے کا فیصلہ کیاتھا جس میں بیرون ریاست مندوبین کو بھی مدعو کیا گیا ۔ دوسری یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسرس نے بھی شرکت کرنے سے اتفاق کرلیا تھا ۔ بی جے پی کے ایم ایل اے اے راجہ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس فیسٹول کی مخالفت کی اور کہا کہ جوابی طور گاؤں رکھشنا فیسٹول کریں گے ۔ ہندووں کو جمع کرکے کیمپس میں نقص امن پیدا کیاجائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں بی جے پی تلنگانہ صدر کشن ریڈی پر نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا تھا جس سے ہلچل پیدا ہوگئی تھی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی نے اشتعال انگیزی پر گوشہ محل کے بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعہ505کے تحت مقدمہ درج کرلیا ۔ راجہ سنگھ نے ایک پوسٹر کی نمائش کی تھی جس میں خود اپنے آپ کو تلوار کے ساتھ دیکھاتے ہوئے یہ اپیل کی تھی کہ 10دسمبر کو ہندو عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس کی طرف چلیں اور بیف فیسٹول میں گڑ بڑ پید اکردے ۔ 25طلباء یونین کے نمائندوں نے پولیس میں راجہ سنگھ کے خلاف شکایت درج کی تھی ۔ طلباء کا الزام ہے کہ راجہ سنگھ نفرت پھیلارہے ہیں اور پوسٹر کے ذریعہ طلباء کو دھمکی دے رہے ہیں ۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ وہ گائے کا گوشت نہیں بلکہ بھینس اور نر گاؤں کا گوشت پیش کریں گے ۔ راجہ سنگھ کے خلاف پہلے ہی کئی مقدمات درج ہیں ۔ اب ان کے تازہ بیانات سے یونیورسٹی میں کشیدگی پھیلی ہوئی ہے ۔

Osmania University Says No Beef Festival Will Be Allowed On Campus

0 comments:

Post a Comment