Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-27 - بوقت: 23:47

کیا بزنس اسوسی ایٹ نے مودی نواز ملاقات کا انتظام کیا تھا - عمران خان

Comments : 0
اسلام آباد
پی ٹی آئی
پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں نے آج ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک دورہ لاہور کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ تعلقات کا ایک نیا آغاز ہے اور اس سے یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ مودی نے کل افغانستان سے وطن واپسی کے دوران لاہور میں زائد از دو گھنٹے توقف کیا جس کے دوران انہوں نے نواز شریف کے آبائی مکان میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات منعقد کئے ۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی پاکستان پیپلز پارٹی مودی کے دورہ کی حمایت کرتی ہے۔ پی پی پی کے صدر نشین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نریندر مودی کے دورہ پاکستان کا ٹوئٹرپر خیرمقدم کیا اور کہا کہ تمام دیرینہ مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ مستقل روابط برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان کی تحریک انصاف پارٹی کے صدر عمران خان نے بھی مودی کے دورہ کا خیر مقدم کیا اور سوال کیا کہ آیا یہ مفاد کے ٹکراؤ کو کم کرنا ہے اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے سوال کیاکہ آیا ایک بزنس اسوسی ایٹ نے ملاقات کا انتظام کیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مودی کے دورہ کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ علاقہ میں امن اور استحکام کے لئے پر امید دور تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر تنازعہ کے بشمول تمام دیرینہ مسائل حل کرنے کے لے ایسے رابطے جاری رہنے چاہئیں آصف نے کہا کہ پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے ۔ ریڈیو پاکستان نے اطلاع دی کہ پی پی پی کے سابق وزیر اطلاعات قمر زماں کھیرا نے کہا کہ مودی کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان جامع مذاکرات کے انعقاد میں مدد کرے گا ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر زاہد خاں نے کہا کہ مودی کا دورہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان نئے دور کا آغاز ہے ۔ مشہور انسانی حقوق کارکن اسما جہانگیر نے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم کو کشمیر میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی روکنے اور دونوں ملکوں کے درمیان ویزاتحدیدات میں تخفیف کے لئے اپنا رول ادا کرنا چاہئے ۔ دفاعی ماہر ایر وائس مارشل ریٹارئڈ شاہد لطیف نے کہا کہ دونوں قائدین کے درمیان ملاقات ایک مثبت اقدا م ہے ۔ اس سے دونوں نیو کلیر طاقتون کے درمیان اہم مسائل حل کرنے کے لئے راہ ہموار ہوگی ۔ بڑے پیمانہ پر خیر مقدم کے باوجود چند شخصیتوں نے مودی کے دورہ کی مخالفت کی ہے دائیں بازو کی جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کہا کہ یہ بد بختی ہے کہ پاکستان میں مودی کا خیر مقدم کیا گیا ۔ وزیر اعظم پاکستا ن کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے ہندوستانی وزیر اعظم کے دورہ لاہور کو پیرس میں ہونیو الی ملاقات کا تسلسل قرار دیا ہے ، جس کے نتیجہ میں ہند۔ پاک مربوط مذاکرات جامع مذاکرات میں تبدیل ہوئے ۔ سرتاج عزیز نے ایک انٹر ویو میں بتایا کہ پیرس ملاقات میں دونوں قائدین نے طے کیا تھا کہ باہمی تعلقات بہتر ہونا چاہئیں اور مذاکرات کا عمل بحال ہونا چاہئے ۔ انہی طے شدہ معاملات کے مطابق پہلے بنکاک میں قومی سلامتی کے مشیران کی ملاقات ہوئی ، جس کے بعد بھارٹی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے دورے پر آئیں۔

Modi-Sharif meeting has 'conflict of interest': Pakistan Oppn leader Imran Khan

0 comments:

Post a Comment