Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-13 - بوقت: 23:48

سعودی عرب میں تاریخی بلدی انتخابات - خاتون امیدوار بھی میدان میں

Comments : 0
ریاض
یو این آئی
سعودی عرب کے بلدی انتخابات میں پہلی مرتبہ خواتین نے ووٹ ڈالے۔ سعودی عرب میں یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ عرب نیو زکے مطابق ووٹرس کی مجموعی تعداد14لاکھ80ہزار میں مرد ووٹر جہاں13لاکھ 50ہزار ہیں ، وہیں خاتون ووٹروں کی تعداد صرف ایک لاکھ تیس ہزار دکھائی گئی ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران بھی خواتین امید واروں نے پردے کے پیچھے سے اپنے خیالات کا اظہار کیایا پھر کسی مرد نے ان کی نمائندگی کی ۔ انتخابی نتائج کا اعلان آئندہ دو روز میں کردیاجائے گا ۔ سعودی عرب کی زائد از 3کروڑ کی آبادی میں55.2فیصد مرد اور44.8فیصد خواتین ہیں ۔ سعودی عرب میں ہونے والے تیسرے بلدیاتی انتخابات ہیں ۔ قبل ازیں2005اور2010میں بلدی انتخابات ہوچکے ہیں ۔ جن میں صرف مردوں کو ہی ووٹ ڈالنے کی اجازت تھی ۔ اس بار8.82 خواتین ووٹرز بھی اپنا حق رائے دہی استفادہ کیا ۔ پورے سعودی عرب میں284کونسلز میں 319نشستیں ہین جن میں سے2106نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں جب کہ1053نشستوں پر بادشاہ کے نمائندے نامزد ہوتے ہیں ۔ میونسپل کونسل کے انتخابات کے لئے موجودہ2106نشستوں پر6917امید وار حصہ لے رہے ہیں جن میں سے979خواتین امید وار بھی میدان میں ہیں۔ اس سے قبل2010ء میں بلدیاتی انتخابات میں امید کی جارہی تھی کہ خواتین کو حق رائے دہی کی اجازت مل جائے گی مگر اس وقت ایسا نہ ہوسکا تھا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب میں انتخابات بذات خود ایک نایاب عمل ہے ۔ ہفتہ کو ہونیو الے انتخابات سعودی عرب کی تاریخ کے تیسرے انتخابات ہیں۔1965ء سے2005ء کے درمیان چالیس سال تک انتخابات منعقد نہیں ہوئے تھے ۔ خواتین کو وٹ دینے کا حق دینے کا فیصلہ مرحوم سعودی بادشاہ عبداللہ نے کیا تھا اور ان کے اس فیصلے کی سیاسی وراثت کے اہم حصہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے کہا تھاکہ سعودی عرب میں خواتین نے ایسے مواقعوں پر ثابت کیا ہے کہ ان کی رائے اور مشورے درست ہیں ۔ جنوری میں ان کے انتقال سے قبل انہو ںنے ملک کی اعلیٰ مشاورتی شوری کونسل میں 30فیصد خواتین کو تعینات کیا تھا۔

Historic Saudi Arabia municipal poll free, fair and peaceful

0 comments:

Post a Comment