Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-21 - بوقت: 23:28

امریکہ میں ہندو سکھ اور مسلمان گروپوں کے اتحاد کی تشکیل

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
وائٹ ہاؤس کی جانب سے کی گئی پہل پر بین عقیدہ اتحاد میں ہندو، سکھ اور مسلمان گروپ شامل ہوگئے جس کا مقصد امریکہ میں ہمہ مذہبی تہذیب کا تحفظ ہے ۔ کیلی فورنیا میں دہشت گرد حملوں کے بعد جس میں14افراد ہلاک ہوگئے تھے ، جس کے بعدمذہبی اقلیتوں کے خلاف ایک تازہ مخالفت کی لہر کے پیش نظر یہ اتحاد تشکیل دیاجارہاہے ۔ نفرت پر مبنی تشدد اور امتیاز کے لئے تہذیب یافتہ سماج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ ہمارے وفاقی شہری حقوق قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ امریکی محکمہ انصاف میں سیول رائٹس ڈیویژن کی صدر وینیتا گپتا نے اعلیٰ مذہبی قائدین کے اجتماع سے اپنے خطاب میں یہ بات کہی اور کہا کہ سان برنارڈینو اور پیرس میں دہشت گرد اور المناک حملوں کے بعد حالیہ ہفتوں میں کیلی فورنیا کا دہشت گرد حملہ9/11کے بعد ویسا ہی رہا جو ہم نے دیکھا ہے اور مذہبی عوام رواداری کی خلاف ورزی میں اضافہ کے درمیان کمیونٹی ارکان اور وکلاء نے امریکی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کئے گئے نفرت سے متعلق واقعات میں اضافہ کی اطلا ع دی ہے اور لوگ صحیح یا غلط انداز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ ہم نے مسلمان والدین سے سناہے کہ انہیں اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے ان کے بچوں کے تحفظ کے لئے تشویش ہے اور ہم نے مجرمانہ دھمکیوں اور مساجد، بچوں اور بالغوں کے خلاف تشدد کی اطلاعات کے تعلق سے بھی سنا ہے۔ گپتا نے کہا کہ ہم ایسے واقعات کی تحقیقات جاری رکھیں گے ۔یہ امتیازی سلوک نہ صرف امریکہ میں لاکھوں مسلمانوں کے لئے خطرہ کا باعث ہے جو پر امن طور پر اپنے مذہب پر عمل کررہے ہیں ، یہ مسلمانوں کی وجہ سے ہم تمام کے لئے بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام امریکی ہمارے مقامی کاروبار میں کام کرتے ہیں ، ہمارے اسکولوں میں پڑھاتے ہیں اور ہماری اسپورٹس ٹیموں میں مقابلہ کرتے ہیں اور ہمارے ملک کے دفاع میں اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈالتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنے عوام کے ہمہ مذہبی ہونے کی وجہ سے اس کی خوشحالی اور طاقت و سلامتی حاصل کی ہے ۔

Hindu, Sikh, Muslim groups join to protect religious pluralism in U.S.

0 comments:

Post a Comment