Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-27 - بوقت: 23:57

پاکستان سے بات چیت کے دوران وزیر اعظم محتاط رہیں - کانگریس

Comments : 0
بنگلور
یو این آئی
کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک دورہ پاکستان سے بہتر نتائج نکلنے چاہئے اور سرحد پر امن کی طررف واضح طور پر اقدامات کئے جانے چاہئے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے حزب اختلاف کے رہنما ملکارجن کھرگے نے بنگلور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو پاکستان سے بات چیت کے دوران محتاط ہونا چاہئے ۔ ملک کے مفاد میں ہمیں بہتر نتائج چاہئے۔ کھرگے نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ ماضی مٰں مثبت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پاکستان کے وزیر اعظم سے ملاقات اہم نہیں ہے بلکہ اس ملاقات سے کیا نتائج نکلیں گے یہ بات اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اچانک نوازشریف کے مکا چلے گئے اور اس سے کوئی چیز حاصل نہیں ہوسکتی۔ وزیر اعظم کے طور پر انہیں جو مسائل ہیں ان پر توجہ دیتے ہوئے ان کے اچھے نتائج نکالنے کے لئے بات چیت کرنی چاہئے ۔ ایک طرف جب ہندوستان پاکستان سے بات کرتا ہے تو دوسرے ہی دن سرحد پار سے فائرنگ شروع ہوجاتی ہے اور دہشت گرد کی سر گرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کشمیر میں رہنے والوں کاراست یا بالواسطہ طور پر تعاون کرتا ہے ۔ حقیقت میں یہ ایک افسوسناک بات ہے ۔ ہم پڑوسی کو تک نہیں بدل سکتے لیکن پڑوسی کے ساتھ بہتر تعلقات کے اصول پر چل سکتے ہیں ۔ یہ اصول نہرو کے زمانے سے چلے آرہے ہیں ۔ دونوں ممالک کو امن پر توجہ دینی چاہئے اور وزیر اعظم کو اس سمت سوچنے کی ضرورت ہے لیکن اچانک پاکستان چلے جانا اور شادی میں شرکت کرنا مناسب نہیں ہے۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک نے پیرس میں ملاقات کے بعد جامع بات چیت کی شروعات کا فیصلہ کیا ہے ۔
چنڈی گڑھ سے پی ٹی آئی کی اطلاع کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان پر کانگریس نے جہاں تنقید کررہی ہے لیکن کانگریس کے سینئر قائد امریندر سنگھ نے آج کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان امن کے طرفدار ہیں اور اس کی تائید کرتے ہیں ۔ پنجاب کے سابق چیف منسٹر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی بحیثیت چیف منسٹر کے پاکستان جاچکا ہوں ۔ میں مکمل طور پر امن کے حق میں ہوں اور ہمیشہ ہم نے امن کو قائم رکھا ہے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم نے بغیر کسی منصوبہ کے پاکستان کا دورہ کیا ہے تو پنجاب میں کانگریس کے سربراہ نے کہا کہ جب میں پنجاب کا چیف منسٹر تھا اس وقت ہند۔ پاک کھیلوں خے مقابلے ہوئے تھے۔ کرکٹ میاچ دیکھنے کے لئے4,500ویزا جاری کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے دورہ پاکستان کے موقع پرمیں نے اس وقت کے پنجاب کے سابق چیف منسٹر پنجاب پرویز الہی سے ملاقات کی تھی ۔ اس وقت ہم نے ڈاکٹرس، طلبہ وغیرہ کے تبادلہ پر راضی ہوئے تھے ۔ ہم تمام امن کے خواہاں تھے۔ امریندر سنگھ نے کہا کہ میں ایک سپاہی ہوں ، ہر روز جب میں کسی سپاہی کا تابوت اترتے ہوئی تصویر دیکھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرحدوں کو کھول دیاجائے تو تجارت میں بہتری آئے گی اور یہ پنجاب کے مفادات کے لئے بہتر ہوگا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کل ہند کانگریس پر منحصر ہے کہ وہ مودی کے دورہ پر کس طرح کا بیان جاری کرتے ہیں ۔ اسی دوران کانگریس کے قائد و سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے کہا کہ کیپٹن امیرندر سنگھ نے صحیح کہا ہے کہ ہمیں خواہشوں اور پاکستان کے ساتھ معمول کے تعلقات اور جس انداز میں آپ تعلقات چاہتے ہیں اس میں بہت فرق ہے ۔
نئی دہلی سے یو این آئی کی اطلاع کے بموجب معروف فلم ساز مہیش بھٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان دورہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ایک دن عام آدمی بھی اس طرح آنا فاناً میں پاکستان کے دوروں سے لطف اندوز ہوسکے گا ۔ مہیش بھٹ نے ٹویٹر پر کہا کہ انہوں نے(مودی اور شریف نے) وہی کیا جو لاکھوں عوام چاہتے ہیں ۔ ہندستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان اچھے تعلقات کی وکالت کرنے والے کے طور پر مشہور مہیش بھٹ نے کہا کہ ان کی بیٹی اور فلم ساز پوجا بھٹ اپنے دوستوں کے ساتھ کرسمس کا جشن منانے کے لئے ان دنوں پاکستان میں ہی ہیں۔ واضح رہے کہ کل نریندر مودی افغانستان سے لوٹتے وقت پاکستان کے وزیرا عظم نواز شریف کو ان کی سالگرہ اور نواسی کی شادی کی مبارکباد دینے اچانک پاکستان پہنچ گئے تھے۔
سری نگر سے یو این آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر راعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان پر اس ملک کی حزب اختلاف جماعتوں کا رد عمل سمجھدارانہ اور معقول ہے ۔ تاہم انہوں نے ملک کی سیاسی جماعتوں خاص طور پر کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم کے اچانک دورہ پاکستان پر اٹھائے گئے سوالات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ حسب معمول مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مسٹر عبداللہ نے لکھا وزیر اعظم ہند کے دورہ لاہور پر پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سمجھدارانہ اور معقول رد عمل کا اظہار۔ دیکھ کر اچھا لگا۔ عمر عبداللہ سابق پاکستانی وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو اور سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے فرزند بلاول بھٹو زرداری کے ٹویٹ پر اپنا رد عمل ظاہر کررہے تھے ۔ مسٹر بلاول نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا نریندر مودی آپ کا پاکستان میں خیر مقدم ۔ مسلسل مصروفیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے ۔ عمر عبداللہ جو جمون و کشمیر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر بھی ہیں ، نے کل وزیر اعظم مودی کے اچانک دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو استوار کرنے کے لئے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے ۔

Congress warns PM Modi to be 'cautious' on dealing with Pak

0 comments:

Post a Comment