Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-31 - بوقت: 22:21

ہند آسٹریلیا غیر فوجی نیوکلیر معاہدہ کو منظوری

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
مرکزی حکومت نے آج ملک میں نیو کلیائی توانائی کی پیداوار کے لئے ایندھن کی فراہمی کے لئے آسٹریلیا کے ساتھ غیر فوجی نیو کلیائی تعاون کے معاہدے کو آج منظوری دے دی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں اس سلسلے کی تجویز منظور کی گئی ۔ آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے پر13نومبر کو دستخط کئے گئے تھے ۔ اس معاہدے کے نفاذ سے جڑے انتظامی امور پر بھی معاہدہ ہوا ہے ۔ اس معاہدے سے ملک میں جوہری توانائی کی ترقی کو فروغ ملے گا ۔ مودی حکومت کے دور میں سال2015غیر فوجی نیو کلیائی تعاون کے شعبے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔ جاپان کے وزیر اعظم شنزوآبے کے12دسمبر کے ہندوستان دورے کے موقع پر جاپان اور ہندوستان کے درمیان غیر فوجی نیو کلیائی معاہدہ کیا گیا ۔ جاپان کے علاوہ امریکہ ، روس اور فرانس کے ساتھ بھی غیر فوجی نیو کلیائی توانائی شعبے میں ہندوستان بہت آگے قدم بڑھا چکا ہے ۔ مرکزی کابینہ نے ہند۔ مالدیپ ٹیکس سے متعلق اطلاعات کے تبادلہ کے سمجھوتے کو آج منظوری دے دی ۔ اس سے دونوں ممالک کے مابین ٹیکس چوری روکنے میں مدد ملے گی۔ کابینہ کی میٹنگ میں ہندوستان اور سلووانیہ کے مابین دوہرے ٹیکس کے سلسلے کئے گئے روایتی سمجھوتے میں ترمیم کو بھی منظوری دی گئی ۔ اس سے موجودہ سمجھوتہ میں ٹیکس سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ بھی کیاجاسکے گا اور ٹیکس جمع کرنے میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون بھی کریں گے ۔ ہندوستان اور کناڈا کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے تعاون سے متعلق معاہدے کی تجدید کی تجویز کو بھی مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے ۔ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں موجودہ اشتراک کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی ۔ کابینہ کی میٹنگ میں برکس( بی آر آئی سی ایس) ممالک کی یونیورسٹیوں کے لئے ایک نیٹ ورک قائم کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں برکس ممالک کے وزرائے تعلیم کی ماسکو میں تیسری میٹنگ کے دوران نومبر میں اتفاق ظاہر کیا گیا تھا ۔ اس سے برکس ملکوں کے درمیان سائنسی تحقیق ، اعلی تعلیم ، اطلاع کے تبادلہ اور تجزیہ وغیرہ کے تعاون میں مدد ملے گی۔ حکومت نے مکانات اور بلند عمارتوں چھتوں پر شمسی پینل نصب کرنے کی مہم کو فروغ دینے اور اسے گرڈ کنکشن سے شامل کرنے کے منصوبے کے نفاذ کے لئے پانچ ہزار کروڑ روپے منظور کئے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی کی آج یہاں ہوئی میٹنگ میں قومی شمسی توانائی مشن کے تحت اس منصوبے کی رقم کو600کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ ہزار کروڑ روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس رقم کے استعمال سے آئندہ پانچ سال میں چھتوں پر شمسی توانائی پینل گرڈ سسٹم سے منسلک کرنے کے منصوبے پر عمل کیاجائے گا۔ حکومت کی منصوبہ بندی2019-20تک ملک میں چھتوں پر لگے پینل کے ذریعے4200میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے ۔ اس منصوبے کے تحت ذاتی عمارتوں، سرکاری عمارتوں اور صنعتی عمارتوں کی چھتوں کا استعمال شمسی توانائی کے لئے کرنا ہے تاکہ اس عمارت میں استعمال ہونے والی بجلی کی ضرورت کو اسی عمارت کی چھت پر لگے شمسی توانائی پینل کے ذریعے مکمل کیاجاسکے ۔ حکومت نے امریکہ کی بلو مبرگ فلانتھر وپیز( بی پی) کو اسمارٹ سٹی مشن میں نالج پارٹنر بنانے کو منظوری دے دی ہے ۔ مرکزی کابینہ نے شہری ترقیات کی وزارت اور بی پی کے مابین اس سلسلہ میں معاہدہ پر دستخط کرنے کو منظوری دی ۔ یہ ادارہ اسمارٹ شہروں کی ڈیزائننگ اور اس کے مسائل سے نپٹنے میں وزارت کی مدد کرے گا اس عمل پر آنے والا خرچ بھی وہ خود برداشت کرے گی۔ اس طرح اس معاہدہ سے حکومت پر کوئی فاضل مالی بوجھ نہیں پڑے گا ۔ ملک کے100شہرون کو اسمارٹ بنانے کے لئے مرکزی کابینہ نے اس برس29اپریل کو اسمارٹ شہر مشن کو منظوری دی تھی اور مسٹر مودی نے25جون کو مشن شروع کیا تھا ۔ اسی دن اس کے لئے ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں۔ نالج پارٹنر کے طور پر بی پی شہروں کے میئروں اور مقامی لیڈروں کو مشن میں در پیش آنے والے مسائل سے نپٹنے اور قابل عمل حل دستیاب کرائے گی ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جدت طرازی کو بڑھاوا دینے میں بھی مد د کرے گی۔ مرکزی کابینہ نے ہندوستان اور سلوانیہ کے درمیان دوہرے ٹیکس سے چھوٹ کے معاہدہ کو بھی منظوری دی ۔ اس کے علاوہ ہندوستان اور میانمار کی سرحد پر بشمول تاموکائی گون۔ کالیوا مشترکہ شاہراہ پر69بریجوں کی تعمیر کو بھی منظوری دی گئی۔

Cabinet approves Civil Nuclear Cooperation Agreement with Australia

0 comments:

Post a Comment