Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-22 - بوقت: 23:50

نرسمہا راؤ نے بابری مسجد کارسیوکوں کے خلاف سخت کاروائی سے انکار کیا تھا - شردپوار

Comments : 0
اس وقت کے کانگریس قائد شرد پوار نے بحیثیت وزیر دفاع ، فوجی انٹلی جنس کو حکم دیا تھا کہ وہ6دسمبر1992کو ایودھیا میں بابری مسجد کی انہدامی کارروائی کی ویڈیو فلم تیار کریں ۔ پوار نے حال ہی میں جاری کردہ اپنی خود نوشت سوانح” آن مائی ٹرمس” میں کہا ہے کہ اس بات سے ناواقف رہتے ہوئے کہ اس دن کیا واقعات پیش آئے گے جب وشوا ہندو پریشد( وی ایچ پی) نے16ویں صدی عیسوی کی مسجد کے مقام پر کارسیوا کا اعلان کیا تھا ، پوار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کو سخت موقف اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن راؤ طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں تھے ۔ انہوں نے میری اس تجویز کو مسترد کردیاکہ احتیاطی اقدام کے طور پر ہمیں متنازعہ مقام پر فوجی پلاٹون تعینات کرنا چاہئے ۔ میری تجویز مسترد کئے جانے کے بعد میں نے فوج کے انٹلی جنس شعبہ سے کہا تھا کہ6دسمبر کو متنازعہ مقام پر پیش آنے والے واقعات کی فلمبندی کرلے ۔ اس فلم مین کارسیوکوں کی جانب سے انہدامی کارروائی کے مختلف مراحل کو قید کرلیا گیا اور اس میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کے قائدین نے انہیں کس طرح اکسایا تھا ۔ موجودہ طور پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر نے کہا کہ اس انہدامی کارروائی سے بحیثیت قائد نرسمہا راؤ کی کمزوری بے نقاب ہوگئی ۔ وہ یقینا یہ نہیں چاہتے تھے کہ انہدام ہو لیکن انہوں نے اسے روکنے ضروری اقدامات بھی نہیں کئے۔ پوار کے مطابق جب معتمد داخلہ نے نرسمہا راؤ کو انہدامی کارروائی کی تفصیلات سے واقف کرایا تو وزیر اعظم میٹنگ میں اس طرح بیٹھے رہے جس طرح وہ بد حواس ہوگئے ہوں۔

Army intelligence filmed Babri razing: Sharad Pawar

0 comments:

Post a Comment