Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-17 - بوقت: 19:18

تلنگانہ کی تاریخ سے متعلق کتابوں کی مانگ میں زبردست اضافہ

Comments : 0
حیدرآباد
منصف نیوز بیورو
تلنگانہ کی ثقافت ، تاریخ اور زبان سے متعلق کتابوں کی تحریر اور اشاعت پر مصنفین و پبلشروں نے کتابوں کی اشاعت کے ذریعہ کروڑہا روپے کمارہے ہیں اور ایک اندازہ کے مطابق تلنگانہ حکومت کی جانب سے پبلک سرویس کمیشن اور دوسرے امتحانات کے نصاب میں تبدیلی کے بعد ابتدائی تین مہینوں میں پبلشروں نے ایک سو کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ تلنگانہ حکومت نے تقررات کے لئے امتحانات میں تلنگانہ سے متعلق معلومات کو لازمی قرار دیا ہے ۔ پروفیسرس و لیکچررس اس تعلق سے کتب کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ لاکھوں کتابیں شائع کئے جارہے ہیں ، کتابوں کی قیمت فی کتاب پانچ ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے اور وہ چند گھنٹوں میں فروخت ہوجارہی ہے۔ حال ہی میں تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے منعقدہ امتحانات کے موقع پر تلنگانہ سے متعلق کتب کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور مارکٹ میں چند گھنٹوں میں کتابیں فی کتب پانچ ہزار روپے کے حساب سے فروخت ہوگئیں ۔ محکمہ آبپاشی ، ٹرانسکو ، جینکو ، پولیس فائرڈپارٹمنٹس میں تقررات کے لئے ایک لازمی پرچہ تلنگانہ سے متعلق ہے جس کی وجہ سے تلنگانہ سے متعلق کتب کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اس سے قبل مارکٹ میں کوئی کتاب نہیں تھی ۔ پبلشروں نے پروفیسرس اور سینئر لیکچررس کے ذریعہ کتب لکھانا شروع کردیا اور اس کی اشاعت کے ذریعہ کروڑوں روپے کمالیا۔ ایک اندازہ کے مطابق20لاکھ بے روزگار نوجوانوں امتحانات کی تیاری کررہے ہیں ۔ تین ماہ کے دوران100کروڑ روپے کی کتابیں فروخت ہوئیں۔ کوٹھی سلطان بازار میں واقع ایک بک سیلر نے یہ بات بتائی۔ کوچنک کے مراکز سینئر لیکچررس اور پروفیسرس سے ربط قائم کر کے تلنگانہ کی تاریخ سے متعلق کتب تحریر کروارہے ہیں اور پانچ کتب کے ایک سیٹ کے لئے7ہزار روپے حاصل کئے جارہے ہیں اور تحریر کرنے والے کو20ہزار روپے ادا کئے جارہے ہیں۔ ایسے پروفیسرس جن کا دیہی پس منظر ہے اور جو تلگو کلچر سے اچھی طرح واقف ہیں ، ان کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ عثمانیہ اور کاکتیہ یونیورسٹی کے پروفیسروں کو تلنگانہ کی تاریخ تحریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔

Books on Telangana history in huge demand

0 comments:

Post a Comment