Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-08 - بوقت: 23:27

تلنگانہ میں تلگو دیشم کو مستحکم کرنے چندرا بابو نائیڈو کی توجہ مرکوز

Comments : 0
حیدرآباد
یو این آئی
تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کے لئے تلگو دیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے توجہ مرکوز کردی ہے ۔ پارٹی آفس این ٹی آر ٹرسٹ بھون میں تلنگانہ تلگو دیشم کے لیڈروں کی میٹنگ کی چندرا بابو نائیڈو نے صدارت کی ۔ اس میٹنگ میں پ ارٹی کی تنظنو ، ورنگل لوک سبھا، نارائن کھیڑ اسمبلی کے ضمنی انتخابات اور گریٹر حیدرآباد بلدیہ کے انتخابات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹی آر ایس حکومت کی ناکامی ، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ پر سی بی آئی کے الزامات عوام مخالفت حکومت کے رویہ کے مسئلہ پر تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ یہ میٹنگ ایک طویل مدت کے بعد منعقد ہوئی ۔ دیہی منڈل اور ضلع سطح پر کمیٹیوں کی رپورٹ پر بھی بات چیت کی گئی ۔ گریٹر حیدرآباد بلدیہ کے حدود میں رائے دہندوں کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے نکالنے ، وارڈز کی از سر نو حد بندی کے سلسلے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کسانوں کی خود کشی ، خشک سالی کی صورتحال ، پر انہیتا چیوڑلہ کے پراجیکٹ کی ڈیزائن میں تبدیلی کے علاوہ تلنگانہ تلگو دیشم کے لیڈروں دیاکر راؤ اور ریونت ریڈی کے درمیان حالیہ عرصہ میں ہوئے اختلافات کو بھی دور کرنے کے مسئلہ پر بات کی گئی۔
حیدرآباد سے یوا ین آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب آندھر اپردیش کی اصل حزب اختلاف جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے اعادہ کیا ہے کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو کو عوامی مسائل پر کوئی فکر نہیں ہے اور وہ شخصی و سیاسی ایجنڈہ پر عمل کررہے ہیں ۔ پارٹی کے سینئر لیڈر بوتسا ستیہ نارائنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ اور کسانوں کو ان کی فصل پر اقتل ترین امدادی قیمت کی ٹھوس یقین دہانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نے دہلی کے دورہ کئے لیکن اس کے نتائج کے بارے میں کسی کو بھی نہیں بتایا گیا ۔ ریاست کے عوام خصوسی درجہ کے علاوہ آندھر اپردیش تنظیم جدید بل میں شامل یقین دہانیوں پر کئی امیدیں اور خواہشات رکھتے ہیں ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو اور چندرا بابو نائیڈو آندھر اپردیش تنظیم نو قانون میں تزکرہ کئے گئے مسائل پر برعکس بیانات دے رہے ہیں ۔

--

0 comments:

Post a Comment