Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-25 - بوقت: 23:44

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا جمعرات سے آغاز

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
پارلیمنٹ کے 26نومبر سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس میں حکومت کو عدم رواداری سے بڑھتی مہنگائی تک مختلف مسائل پر گھیرنے کے لئے اپوزیشن جماعتیں متحد ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور کانگریس قائدین کی بات چیت ہوچکی ہے بالخصوص جنتادل یو،عدم رواداری اور گھر واپسی جیسے مسائل بڑے پیمانہ پر اٹھانے والی ہے ۔ صدر جنتادل یو شرد یادو نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اب گورنر آسام نے دستوری عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود اہانت آمیز ریمارکس کئے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ برسر اقتدار حکومت نے بہار کی شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لو جہاد ، گھر واپسی اور بڑھتی عدم رواداری کے مسائل اٹھائیں گے ۔ انہوں نے یہ بھی ٹوئٹ کیا کہ ان کی پارٹی، تحفظات پالیسی کا مسئلہ بھی اٹھائے گی ۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ پالیسی پر ٹھیک طرح عمل نہیں ہورہا ہے ۔ جنتادل یو نے دالوں، خوردنی تیل اور ترکاریوں کی بڑھتی قیمتوں کا مسئلہ اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کے ابتدائی دو دن ہندوستانی دستور اپنانے(26نومبر1949) کی یاد منانے اور اس کے معیار بی آر امبیڈ کر کو خراج ادا کرنے پارلیمنٹ کی خصوصی دو روزہ بیٹھک ہوگی ۔ اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ یہ دستور کی روشنی میں مختلف امور سے نمٹنے کے حکومت کے طریقہ کار میں خامیاں ڈھوندنے کا بہترین موقع ہے ۔ صدر جنتادل یو نے کہا کہ موجودہ حکومت کے 18ماہ کے اقتدار میں گھر واپسی ، دادری اور عدم رواداری کے دیگر واقعات کے بشمول سبھی مسائل اٹھائے جائیں گے ۔ پارٹی، نوٹس دے گی کہ عدم رواداری پر پارلیمنٹ میں بحث ہو ہو۔ حکومت نے کل11بجے دن کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔ سرمائی اجلاس 26نومبر کو شروع ہوگا اور 23دسمبر کو ختم ہوگا ۔ بہار الیکشن میں این ڈی اے کی ہار کے بعد یہ پہلا پارلیمانی اجلاس ہے جس نے مخالف بی جے پی طاقتوں کو کسی حد تک متحد ہونے کا موقع فراہم کیا۔ یو این آئی کے بموجب اپوزیشن کانگریس، عدم رواداری کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث کے لئے نوٹس پہلے ہی دے چکی ہے اور جمعرات سے شروع ہونے والے سرمائی اجلاس میں ہر موقع پر اسے موثر طور پر اٹھانے کا اس نے فیصلہ کیا ہے ۔ لوک سبھا میں پارٹی قائد ایم ملیکارجن کھرگے نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ حکومت اس مسئلہ پر بحث کے لئے غور کررہی ہے ۔ ہم بحث میں اپنی بات رکھیں گے ۔ ہم نے اس مسئلہ پر تحریک التوا کی نوٹس بھی دے دی ہے اور زور دیں گے کہ ہمیں بات کرنے کا موقع ملے ۔ کھرگے نے کہا کہ26نومبر کو یوم دستور کے موقع پر بحث کے دوران بھی پارٹی ارکان، عدم رواداری کا مسئلہ، موثر انداز میں اٹھائیں گے ۔ عامر خان کے تبصرہ کے حوالہ سے کھرگے نے کہا کہ اگر کوئی فرد یہ کہتا ہو کہ وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے تو وہ کیوں ایسا محسوس کرتا/کرتی ہے، اس کا پتہ چلانا لازمی ہوجاتا ہے ۔

Winter Session of Parliament set to be stormy as Opposition keen to raise 'intolerance' issue

0 comments:

Post a Comment