Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-02 - بوقت: 23:32

ترکی میں پارلیمانی انتخابات کے لئے رائے دہی

Comments : 0
ترکی کے عوام گزشتہ پانچ مہینے میں دوسری بار پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ جون میں ہوئے انتخابات میں صدر رجب طیب اردگان کی اے کے پارٹی مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی ۔ ترک انتخابات اور معیشت کی بہتری کے وعدے اس کے بعد سے اتحاد کی حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں ۔ ان انتخابات میں کرد جنگجوؤں کے ساتھ تصادم اور تشدد کی لہر کے علاوہ داعش کی جانب سے مبینہ بم حملوں کے پیش نظر سیکوریٹی اہم مسئلہ ہے ۔ رجب طیب اردگان نے اپنی پارٹی کی جانب سے حکومت کی تشکیل پر ملک کو استحکام کا وعدہ کیا ہے ۔ استنبول کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد انہوں نے کہا یہ انتخاب ملک میں استحکام اور اعتماد کے لئے ہورہا ہے ۔ رجب طیب اردگان نے انتخابت کے نتائج کا احترام کرنے کا عہد کیا ہے تاہم ان کے ناقدین نے واضح اکثریت حاصل ہونے کی صورت میں ان کے مطلق العنان ہونے کے بارے میں متبنہ کیا ہے۔ اگر اے کے پارٹی ان انتخابات میں بھی تنہا اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے ملک کی اہم سیکولر سٹ پارٹی سی ایچ پی یا نیشنلسٹ پارٹی ایم ایچ پی کے ساتھ بات چیت کی میز پر آنا پڑے گا ۔ خیال رہے کہ ترکی کی پارلیمان550سیٹوں پر مشتمل ہے اور جون کے انتخابات میں اردگان نے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کی بات کہی تھی تاکہ ملک کو صدارتی جمہوریہ میں تبدیل کرسکے لیکن ان کی پارٹی یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ کرد نواز پیلز ڈیمو کریٹک پارٹی( ایچ ڈی پی) نے10فی صد ووٹ کی سطح حاصل کرکے ان کے ارادوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ صدر طیب اردگان نے پارلیمانی انتخابات میں حکمراں جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہونے کا یقین ظاہر کیا ہے ۔

Turkish general election, November 2015

0 comments:

Post a Comment