Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-10 - بوقت: 21:28

پاکستان کے نیوکلیر پروگرام پر لگام عالمی ترجیح - نیویارک ٹائمز

Comments : 0
نیویارک
پی ٹی آئی
پاکستان کے نیو کلیر اسلحہ پروگرام میں جاری توسیع پر اب لگام لگانے کو ترجیح دی جانی چاہئے ۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے ایک اداریہ میں یہ احساس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کئی انتہا پسند گروپس کا گہوارہ بن گیا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے پاکستان نیو کلیر نائٹ میئر کے زیر عنوان اداریہ میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ کے پاس فی الوقت120وار ہیڈس موجود ہیں اور اگر اسی انداز سے اس کے توسیعی امور جاری رہے تو آئندہ10برسوں میں وہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا نیو کلیر پاور بن جائے گا۔ نیو کلیر پاور کے حامل ممالک کی فہرست میں اس کا نام امریکہ اور روس کے بعد آجائے گا تاہم چین ، فرانس اور برطانیہ کو اس کے بعد ہی مقامات حاصل ہوں گے ۔ اداریہ کے مطابق اس کے نیو کلیر اسلحہ میں کسی بھی ملک کے مقابلہ میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور جاریہ برسوں کے دوران یہ اور بھی زیادہ ہلاکت خیز ہوچکا ہے کیونکہ اس نے اپنے نیو کلیر اسلحہ ذخائر میں کئی ذیلی چھوٹے چھوٹے اسلحہ کو شامل کرلیا ہے ۔ اس کے نیو کلیئر اسلحہ ہندوستان پر حملہ کے قابل ہیں اور طویل تر فاصلاتی نیو کلیر مزائلس اس سے بھی دور دراز کے ممالک کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں ۔ یہ ایسے حقائق ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کئی انتہا پسند گروپس کا گہوارہ ہے جن میں سے بعض کو سیکوریٹی اداروں کا تعاون حاصل ہے ۔ ان سیکوریٹی اداروں میں ہندوستان کے مکالفین موجود ہین۔ ایسی تمام باتیں مجموعی طور پر جنوبی ایشیاء کے علاوہ سارے عالم کے لئے بڑا خطرہ ہیں ۔ اداریہ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس کے نیو کلیئر پروگرام پر عمل آوری سے گریز کی ترغیب دینا عالمی ترجیحات میں شامل ہے۔ ادارہ میں اس جانب بھی نشاندہی کی گئی کہ دنیا کے 6بڑے ممالک نے ایران کو نیو کلیر عزائم سے دور رکھنے کی ترغیب دینے اور اس کے ساتھ معاہدہ طے کرنے میں دو سال کا طویل عرصہ گزارا جب کے اس کے پاس ایک بھی نیو کلیر اسلحہ موجود نہیں ہے تاہم پاکستان کو اس کی ترغیب دینے میں کوئی کوشش نہیں کی گئی جس نے ہندوستان کے ساتھ ساتھ اپنے نیو کلیئر اسلحہ کو محدود کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ اداریہ کے مطابق ہندوستان کے ساتھ پاکستان کا مقابلہ ہارنے والی بازی کے مترادف ہے اور چین جیسے ممالک کو پاکستان کو اس کی ترغیب دی جانی چاہئے ۔ پاکستان در حقیقت چین کا قریبی حلیف ہے ۔ اداریہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو اسلام آباد کے ساتھ سیکوریٹی مسائل پر بات چیت کی دعوت دینے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ حالیہ کشیدگی کے لئے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔ جنوبی ایشیا میں نیو کلیر اسلحہ کی دوڑ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس پر بین الاقوامی توجہ زیادہ سے زیادہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اوباما انتظامیہ نے اس پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے میں صورت اور اس کی ضرورت پر زور دیا ہے حالانکہ اس راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ اوباما اور پاکستانی وزیرا عظم نواز شریف کے درمیان حالیہ ملاقات کے حوالہ سے بتایا گیا کہ یہ ملاقات کسی بھی پہلو سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ۔ اداریہ میں یہ بھی کہا گیا کہ فی الحال کشمیر اور دہشت گردی کے حوالہ سے دونوں ممالک کے درمیا ن کشیدگی میں اضافہ کے دوران بات چیت پر زور دینا صحیح ثابت نہیں ہوگا۔ امریکی عہدیداروں نے واضح طور پر یہ اعلان کردیا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے طرز پر نیو کلیئر معاہدہ کی پیشکش ہرگز نہیں کی جائے گی۔ پاکستان کو حکمت عملی ، نیو کلیئر اسلحہ کو فروغ دینے کا کام بند کردینا چاہئے کیونکہ ہندوستان کے ساتھ جھڑپ میں تھوڑی بھی شدت کی صورتحال میں اس کا استعمال ممکن ہے ۔ علاوہ ازیں اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ یہ اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں طویل فاصلاتی مزائلس کی ترقی پر روک لگانا ضروری ہے ۔ پاکستان کو نیو کلیئر اسلحہ تجربہ پر امتناع سے متعلق معاہدہ پر بھی دستخط کردینا چاہئے ۔

Reigning in Pak's nuclear programme a global priority: NYT

0 comments:

Post a Comment