Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-24 - بوقت: 23:07

کشمیر مسئلہ پر اوباما سے گفت وشنید کا اعتراف - پاکستانی فوجی ترجمان عاصم باجوا

Comments : 0
اسلام آباد
پی ٹی آئی
پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران ملک میں مبینہ ہندوستانی مداخلت سے متعلق ڈوزیئرس پر امریکی قیادت سے تبادلہ خیال نہیں کیا۔ ایک میڈیا رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ۔ فوجی ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوا نے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ جس سے مناسب سطحوں پر سفارت خانہ کی جانب سے نمٹا جاتا ہے اور اسے امریکی قائدین کے ساتھ ملاقاتوں میں نہیں اٹھایا گیا ۔ پاکستان نے گزشتہ ماہ ہندوستان کو تین ڈوزیئرس دئیے تھے جس میں سابق سرکاری بیانات کے مطابق بلو چستان ، وفاقی زیر انتظام قبائلی علاقے فاٹا اور کراچی میں مبینہ ہندوستانی مداخلت کے تعلق سے ثبوت تھے ۔ بعد ازاں انہیں اقوام متحدہ اور امریکی عہدیداروں سے مشترک کیا گیا ۔ باجوا جو گزشتہ ہفتہ دورہ امریکہ میں جنرل راحیل شریف کے زیر قیادت وفد کا حصہ تھے ، نے کہا کہ ملاقاتوں میں کشمیر کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا گیا کیوں کہ یہ کلیدی تنازعہ ہے اور خطہ میں امن اور استحکام کے قیام کے لئے اس کی یکسوئی ضروری ہے ۔ جنرل شریف نے اپنے طور پر امریکہ کا دورہ کیا تھا اور انہیں نہ تو ان کے امریکی ہم منصب اور نہ ہی پینٹگان نے سرکاری طور پر مدعو کیا تھا۔ اپنے دورہ کے دوران جنرل شریف نے امریکی نائب صدر جوبائیڈن، وزیر خارجہ جان کاری، وزیر دفاع ایشٹن کارٹر اور دیگر سینئر عہدیداروں سے ملاقات کی تھی ۔ باجوا نے کہا کہ فوجی سربراہ کی ملاقاتیں۔ پاک ۔ امریکہ تعلقات فوج ، سے فوج کے تعلقات ، علاقائی سلامتی اور افغانستان کی صورت حال پر مرکوز تھیں ۔ باجوا کے حوالے سے ڈان نے کہا کہ ان ملاقاتوں نے ہمیں پاکستانی نظریہ کو واضح طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا اور ہم نے اسے بخوبی پیش کیا اور ہم نے محسوس کیا کہ اسے سراہا گیا ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکیوں نے بھی ان ملاقاتوں میں جوہری مسئلہ اٹھایا تو باجوا نے کہا کہ جوہری مسئلہ پر پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے ۔ ایک مخصوص خطرہ کے تصور پر ملاقات میں توجہ دی گئی۔مشرقی وسطی میں داعش کو کچلنے عظیم فوجی اتحاد کا حصہ بننے امریکہ کے دباؤ کی اطلاعات کے درمیان پاکستانی فوج نے کہا کہ وہ خطہ سے باہر کسی مشن پر اپنی افواج روانہ نہیں کرے گی ۔ فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاشم سلیم باجوا نے کہا کہ ہم نے افغان سرحد پر پہلے ہی182,000افواج تعینات کررکھی ہے ۔ خطہ کے باہر افواج کی تعیناتی کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ امریکہ داعش کے خلاف ایک عظیم اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے جس نے عراق اور شام کے بیشتر علاقوں میں قبضہ کررکھا ہے ۔ ڈان نے باجوا کے حوالے سے کہا کہ داعش ایک عالمی خطرہ ہے ، جس کا مرجز مشرق وسطی میں ہے ۔ اس کے خلاف عالمی رد عمل کی ضرورت ہے ۔ قسمت سے داعش کے ہمدرد اس وقت پاکستان آئے جب عوام شدت پسندوں سے نالاں ہوچکے ہیں ، لہذا یہ نظریہ پاکستان میں مکمل طور پر مسترد کردیا گیا ۔ باجوا اس وفد کا حصہ تھے جس نے15تا20نومبر امریکہ کا دورہ کیا تھا اور جس کی قیادت فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے کی تھی۔ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے یمن جنگ میں سعودی عرب زیر قیادت اتحاد کے لئے اپنی افواج روانہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔

Gen Raheel, Kerry talk regional security, Kashmir, Inter-Services Public Relations (Ispra) Lt Gen Asim Saleem Bajwa

0 comments:

Post a Comment