Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-28 - بوقت: 22:40

مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ - فاروق عبداللہ

Comments : 0
جموں
پی ٹی آئی
سابق چیف منسٹر فاروق عبداللہ نے آج کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ، پاکستان کا حصہ ہے ۔ اور اسی کے پاس رہے گا جب کہ ہندوستان جموں و کشمیر کا اپنا حصہ بدستور اپنے کنٹرول میں رکھے گا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو یہ تجویز پیش کی تھی ۔ عبداللہ نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اٹل بہاری واجپائی جب لاہور گئے تھے تو انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ انہوں نے مشرف کو تجویز کیا تھا کہ وہ اس حصہ کو اپنے پاس رکھیں اور ہمارا حصہ ہمارے پاس رہنے دیں۔ سرحد کی ان لکیروں کو ٹھیک کردیاجائے تاکہ لوگ آسانی سے آجاسکیں اور تجارت پھلے پھولے لیکن پاکستان آمادہ نہیں ہوا ۔ عبداللہ نے کہا کہ آج پاکستان اسے قبول کرنے کے لئے آمادہ ہے لیکن ہمیں بات چیت شروع کرنی چاہئے ۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ( پی او کے) کے ہندوستان میں شمولیت کے مطالبہ کے بارے میں پوچھنے پر عبداللہ نے کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوگا ۔ ممالک اپنا حصہ اپنے کنٹرول میں رکھیں گے ۔ نیشنل کانفرنس قائد نے ایک تقریب کے حاشیہ پر جموںمیں اخباری نمائندوں سے کہا کہ مقبوضہ کشمیر، پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا ۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے اور ہندوستان کا حصہ رہے گا ۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا ۔و احد راستہ یہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان بات چیت شروع کریں اور بات چیت کے ذریعہ کوئی راہ نکالیں ۔ ہم کتنے سال کہتے رہین گے کہ مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے ۔ ہم نے تا حال کیا کیا ہے۔ کیا ہم نے اسے دوبارہ حاصل کرلیا۔ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی صورتحال ایسی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو سیریز کی میزبانی کے لئے تیسرا ملک ڈھونڈنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کوئی مسئلہ حل نہیں کرے گی۔ ہم تین جنگیں پہلے ہی لڑ چکے ہیں ۔ کسی کو کچھ نہیں ملا ۔ صرف دونوں جانب لوگ مارے گئے ۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے تعلق سے عبداللہ کے ریمارکس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی قائد اور ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ یہ بیان دستور کے خلاف ہے اور ملک اسے قبول نہیں کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ1994ء میں پارلیمنٹ متفقہ قرار داد منظور کرچکی ہے کہ پاکستان کے تعلق سے کوئی دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے تو وہ جموں و کشمیر کے ان علاقوں کے تعلق سے ہے جس پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مقبوضہ کشمیر واپس لینا چاہئے ۔ اگر کوئی اس سے ہٹ کر کچھ کہتا ہے تو وہ دستور کے مطابق نہیں ہے ۔ اسی دوران سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے ٹوئٹر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے تعلق سے میرے والد کی رائے کوٹی وی چیانلس ایسے دکھا رہے ہیں جیسے انہوں نے اس سے پہلے یہ بات کبھی نہ کہی ہو ۔ ہنودستانی سمت آئی ایس آئی کے حملوں کے منصوبوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایسے حملے ناکام بنانا حکومت کا کام ہے ۔ حکومت نے ایسا نہیں کیا تو عام لوگ متاثر ہوں گے ۔ نیشنل کانفرنس قائد نے کہا کہ دہشت گردی نسل انسانی کی بقاء کے لئے خطرہ ہے ۔ دہشت گردی سے لڑنا ہے تو ہمیں مل جل کر لڑنا ہوگا۔ یہ لڑائی تنہا نہیں لڑی جاسکتی۔ نہ تو ہندوستان تنہا لڑ سکتا ہے اور نہ کوئی دوسرا ملک۔ تمام ممالک کو متحد ہوکر لڑنا ہوگا ۔ ایسا کرنے پر ہی نسل انسانی کی بقاء ممکن ہوگی۔
نیشنل کانفرنس قائد فاروق عبداللہ نے آج یہ کہتے ہوئے عامر خان کی مدفاعت کی کہ اداکار کے تعلق سے تنازعہ پر وپیگنڈہ ہے ۔ اداکار نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ وہ ملک چھوڑنا چاہتا ہے۔ عبداللہ نے آج یہاں اخباری نمائندوں سے کہا کہ عامر نے ملک چھوڑنے کی بات کب کہی؟ میں خود وہاں موجود تھا ۔ یہ غلط پروپیگنڈہ ہے ۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ہندوستان چھوڑنا چاہتا ہے ۔ عامر نے کہا کہ ہندوستان میرا ملک ہے ۔ میں یہاں پیدا ہوا ہوں اور یہیں مروں گا ۔ عبداللہ نے کہا کہ عامر کے ملک چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ اس نے ایسا کبھی کہا ہی نہیں۔ نیشنل کانفرنس قائد نے میڈیا کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ فلم اسٹار کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستانی ہونے پر فخر ہے ، اور کوئی بھی پاکستان جانا نہیں چاہتا۔ آپ کو گورنر آسام سے پوچھنا چاہئے جو وہاں بیٹھ کر ایسے بیانات دے رہے ہیں ۔ یہاں سے پاکستان جانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ ہم ہندوستانی مسلمان ہیں اور ہندوستانی مسلمان کسی سے کم نہیں ہے کیونکہ ہمیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خدا لوگوں سے نہیں پوچھتا کہ تم کہاں پیدا ہونا چاہتے ہو ، لہذا ہمیں یہاں جنم لینے والے سبھی کو بلا لحاظ مذہب و ملت قبول کرلینا چاہئے ۔ ہمیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے ۔اگر میں جواہر لال نہرو کے گھر میں پیدا ہوتا اور اندرا گاندھی ، شیخ عبداللہ کے گھر میں پیدا ہوئی ہوتیں تو لیکن خدا ہر گز نہیں پوچھتا کہ ہم کہاں پیدا ہونا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں لوگ مختلف معاشروں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عبداللہ نے کہا کہ تفریق برتنے والے ہم کون ہوتے ہیں لیکن ان دنوں ہم ایسا کررہے ہیں ۔ ہم سبھی ہندوستانی ہیں ۔ ہمیں ہندوستان میں رہنا ہے اور اس ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹانا ہے ۔ یہ ملک، کسی فرد واحد کا نہیں سبھی کا ہے ۔ ہمارا مذہب بھی یہی کہتا ہے کہ اگر آپ اپنے ملک سے محبت نہیں کرپائے تو اللہ سے بھی محبت نہیں کرپائیں گے ۔ ہاں ایسے کئی لوگ ہیں جو عجیب بیانات دیتے ہیں لیکن یہ اس ملک کو توڑ نہیں پائیں گے ۔ ہندوستان بے حد مضبوط ملک ہے کیونکہ اس کی جڑیں مضبوط ہیں اور کوئی انہیں کاٹ نہیں سکتا ۔ عبداللہ نے کہا کہ اختلافات اس ملک کو توڑ دیں گے ۔ ہمیں ان سے خود کو بچانا ہوگا ۔ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو بچائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان، بیرونی جارحیت سے نمٹنے کا اہل ہے لیکن اسے اندرونی خطرات لاحق ہیں ۔ ان دنوں جو نفرت پھیلائی جارہی ہے وہ خطرہ ہے ۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ بعض لوگ اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں ۔ انہیں احتیاط برتنی چاہئے ۔ بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کو تحمل برتنا چاہئے کیونکہ اس کا بڑا اثر ہوتا ہے ۔

Pakistan Occupied Kashmir Will Remain With Pakistan: Farooq Abdullah

0 comments:

Post a Comment