Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-27 - بوقت: 23:51

ملک میں غیر معلنہ ایمر جنسی - مدراس ہائی کورٹ جج

Comments : 0
مدورائی
پی ٹی آئی
مدراس ہائی کورٹ کے ایک جج نے عدم رواداری سے متعلق ریمارکس پر بالی ووڈ اداکار عامر خان کی تائید کی اور کہا کہ اداکارکا اپنی بیوی کرن راؤ کے ساتھ ہوئی گفتگو سے عوام کو واقف کروانا کوئی غلط بات نہیں ہے ۔ وکلاء فورم برائے سماجی انصاف کی جانب سے کل رات منعقدہ ایک سیمینار بعنوان عدم رواداری اوراظہار رائے و تقریر کی آزادی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ڈی ہری پرنتنم نے کہا کہ اداکار نے صرف حیرت و صدمہ کا اظہار کیا جب اس کی بیوی نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے سبب کسی اور ملک کو چلے جانے کی ضرورت کا خیال ظاہر کیا۔ عامر خان ان دنوں عدم رواداری سے متعلق اپنے ریمارکس پر سیاسی و فلمی شخصیات کے درمیان بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں اور سماجی ، پرنٹ و الکٹرانک میڈیا پر بھی اسی کے چرچے ہیں ۔ خان نے کہا تھا کہ ان کی بیوی کرن راؤ اور وہ ہندوستان میں تمام زندگی رہتے آرہے ہیں لیکن پہلی مرتبہ کرن نے عدم رواداری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیا انہیں ہندوستان سے کسی اور ملک کو منتقل ہونا پڑے گا ۔ وہ اپنے بچوں کے بارے میں فکر مند ہیں ۔ جسٹس ہری پرنتنم نے کہا کہ جب حکمراں مذہب سے دوری اختیار نہ کریں تو بیف کھانے کے شبہ میں ایک شخص کو مار مار کر ہلاک کردینے اور آزاد خیال افراد کے قتل جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔ ملک میں ایک طرح سے غیر معلنہ ایمرجنسی ہے۔ جج نے دستور کی دفعہ48کی آخری سطر حذف کرنے کے لئے اس میں ترمیم کی بھی تجویز دی جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستیں گائے، بچھڑے اور دیگر مویشیوں کے ذبیحہ پر امتناع کے لئے اقدامات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ عدم رواداری اور ظلم و جارحیت کے خلاف صرف سماج ہی مضبوطی سے کھڑا رہ سکتا ہے ۔ جج نے کہا کہ کئی فیصلے ظلم کے خلاف آرہے ہیں ۔ چنانچہ مظلوم افراد کو چاہئے کہ اپنے حقوق کے لئے لڑیں ۔ اعلیٰ عدلیہ میں تحفظات کے مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ مدراس ہائی کورٹ کی153سالہ تاریخ میں درج فہرست طبقہ کے صرف9وکلاء کو جج کی حیثیت سے ترقی دی گئی اور صرف چھ ججس آزادی کے بعد سے اب تک سپریم کورٹ کے جج بن پائے ۔

Intolerance row: Madras High Court judge comes out in support of Aamir Khan

0 comments:

Post a Comment