Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-21 - بوقت: 18:27

گجرات فسادات پر ناناوتی کمیشن کمیشن رپورٹ منظرعام پر لانے سابق ڈی جی پی کا مطالبہ

Comments : 0
گاندھی نگر
آئی اے این ایس
گجرات پولیس کے سابق سربراہ بی سری کمار جنہوں نے2002کے فسادات کے سلسلہ میں اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی سے مخالفت مول لی تھی، آنندی بین پٹیل حکومت سے کہا ہے کہ وہ تشدد سے متعلق انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جی ٹی ناناوتی اور گجرات ہائی کورٹ کے سابق جج اکشے مہتا نے25مرتبہ توسیع کے بعد12سالہ انکوائری کے اختتام پر یہ رپورٹ پیش کی ہے ۔ مودی حکومت نے6مارچ2002ء کو جسٹس ناناوتی اور مہتا کا تقرر کیا تھا تاکہ وہ27فروری کو سابر متی ایکسپریس ٹرین میں آتشزدگی کے واقعہ کا جائزہ لے سکیں جس میں59افراد ہلاک ہوئے تھے اور بعد ازاں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں1169لوگ مارے گئے تھے ۔ کمیشن نے گزشتہ سال چیف منسٹر آنندی بین پٹیل کو اپنی قطعی رپورٹ پیش کی تھی ۔ مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد آنندی بین پٹیل نے ریاست کی باگ ڈور سنبھالی تھی اور ان کے بر سر اقتدار آنے کے فوری بعد یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی ۔سری کمارنے جو ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس( انٹلیجنس) کی حیثیت سے بر سر کار تھے، چیف منسٹر کے نام اپنے ایک مکتوب میں مودی کے ان ریمارکس کا تذکرہ کیا تھا جو انہوں نے فسادات کے فوری بعد کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس پر بے حد افسوس ہے کہ ریاست کے کسی بھی رکن اسمبلی نے کمیشن کی رپورٹ کو جلد منظر عام پر لانے کا مطالبہ نہیں کیا ہے ۔ سری کمار کا مکتوب مورخہ18نومبر جس کی ایک نقل آئی اے این ایس کے پاس ہے ، اس میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ یہ کسی بھی رکن اسمبلی کو حاصل مراعات کی حکومت کی جانب سے خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کمیشنس آف انکوائری ایکٹ1952ء میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ عوامی نمائندوں کے ایوان یا پھر قانون ساز اسمبلی میں پیش کی جائے اور اس کے ساتھ عمل در آمد رپورٹ بھی پیش کی جائے ۔ یہ کام تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے داخل کئے جانے کے6 ماہ کے اندر کیاجانا چاہئے ۔ واضح رہے کہ کمیشن نے25مرتبہ توسیع حاصل کرنے کے بعد14نومبر 2014ء کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔

Ex-Gujarat DGP wants 2002 Nanavati riot report released

0 comments:

Post a Comment