Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-08 - بوقت: 23:36

کثرت ازدواج پر گجرات ہائیکورٹ کے احساسات کا خیر مقدم - سابق صدر قومی اقلیتی کمیشن

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
قومی اقلیتی کمیشن کے سابق صدر نشیں طاہر محمود نے کثرت ازدواج کے بارے میں گجرات ہائی کورٹ کے احساسات کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ عدالت نے اسلامی شریعت میں ایک سے زائد شادی کے حقیقی موقف کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے دوسری شادی کرنے والے ایک شخص کے معاملہ میں ایک انتہائی سخت الفاظ پر مشتمل تبصرہ میں کہا کہ قرآن نے یہ نہیں کہا ہے کہ ایک مسلمان اپنی زوجہ سے ظالمانہ سلوک کرسکتا ہے اور پہلا نکاح قانونی طور پر منسوخ کئے بغیر دوسری شادی کرسکتا ہے ۔ قرآن کی چند مسلم افراد نے غلط تشریح کی ہے تاکہ ایک سے زائد شادی کرسکیں ۔عدالت نے جمعرات کو کئے گئے اپنے تبصرہ میںکہا کہ قرآن منصفانہ وجوہات کی بنا پر کثرت ازدواج کی اجازت دیتا ہے جب کہ موجودہ دور میں مرد حضرات ذاتی مفاد کے لئے اس سہولت کو استعمال کررہے ہیں ۔ جسٹس جے بی پاردی والا نے بھاؤ نگر کے ساکن جعفر عباس مرچنٹ کی ایک درخواست پر یہ سخت تبصرہ کیا ۔ جن کی بیوی نے شوہر کی دوسری شادی کے خلاف ان پر مقدمہ درج کردیا ہے ۔ طاہر محمود نے عدالتی رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی قرآنی قانون کی یقینا مسلمانوں نے غلط تشریح کی ہے اور ان کی تشریحات کی بنیاد پر غیر مسلم حضرات کی جانب سے اس کا بد دیانتی کے ساتھ غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم حضرات نے یہ سمجھ لیا کہ اسلام قبول کرتے ہوئے خواہ فرضی ہی کیوں نہ ہو، وہ کثرت ازدواج کے لئے غیر مشروط طور پر حق دار ہوجائیں گے ۔ جج نے جو کچھ کہا وہ قانونی زبان ہے ، سچائی ہے، کامل سچائی ہے اور سچ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ڈاکٹر محمود نے تاہم کہا کہ ان کے خیال میں فاضل جج کو قرآن مجید کے حوالے دینے اور اس کی تشریح کی زحمت کے بجائے بیشتر مسلم ممالک میں نافذ عصری قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے تحت کثرت ازدواج کو منسوخ کردیا گیا یا سخت پابند بنایا گیا ، اپنا نقطہ نظر بیان کرنا چاہئے تھا۔

Eminent Muslim scholar welcomes Guj HC on polygamy

0 comments:

Post a Comment