Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-02 - بوقت: 23:41

تلنگانہ میں اساتذہ کی کمی پر عدالت عظمی کا اظہار تشویش

Comments : 0
سپریم کورٹ نے تلنگانہ میں اساتذہ کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اساتذہ کے بغیر تعلیم ٹھیک اسی طرح ناقابل تصور ہے جیسے ماحول میں آکسیجن کے بغیر انسان کا وجود۔ جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس پی سی پنت کی بنچ نے تلنگانہ حکومت کے حلف نامے کا جائزہ لینے کے بعد انہی الفاظ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ بنچ نے کہا کہ ہماری یہ پر اعتماد رائے ہے کہ اساتذہ کے بغیر اسکول کی تعلیم ختم ہوجائے گی اور طالب علموں کو اسکول آکر کھیلنے کا لالچ دینا اور کچھ نہیں بلکہ تعلیم کے تئیں ناقابل قبول معافی ہوگی۔ بنچ نے کہا ہم ایسا اس لئے کہہ رہے ہیں کہ کیونکہ اساتذہ کے بغیر تعلیم کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ تو ویسا ہی ہے جیسے ماحول میں آکسیجن کے بغیر وجود ناقابل تصور ہے۔ تلنگانہ ریاست کے چیف سکریٹری نے اس حلف نامے میں کہا ہے کہ ریاست کے کچھ اسکول تو بغیر اساتذہ کے ہی چل رہے ہیں ۔کیونکہ استاد صرف شہری اور بہتر رابطہ والے دیہات کی طرف ہی جارہے ہیں۔ حلف نامے کے مطابق اس صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی استاد کا تبادلہ کرتے وقت اگر کوئی اسکول ٹیچر کے بغیر ہے ، ضلع تعلیم افسر اس سلسلے میں ضروری حکم جاری کریں گے کہ سب سے جونئیر استاد واپس آئے گا اور متبادل انتظام ہونے تک اس اسکول میں کام کرے گا جہاں سے ٹرانسفر کیا گیا ہے ۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں طالب علموں کے تازہ رجسٹریشن کے اعدا د و شمار کے مشاہدے کے بعد ریاستی حکومت نے اساتذہ کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے تعلیمی رضاکاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ کام تمام اسکولوں می مکمل کر لیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں بنچ نے تبصرہ کیا ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ ہم اس پر دیے گئے بیان سے حیران ہیں لیکن ہم یہ کہنے سے گریز نہیں کرسکتے کہ یہ مکمل طور پر حیرت انگیز ہے کہ حکومت ایسے ایڈ ہاک طریقے سے تعلیم فراہم کرنے کے بارے میں غور کررہی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ چھ ماہ کی مدت کے لئے ان کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ۔ یہ عارضی خانہ پری کا رویہ ہے جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی ہے ۔ اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ تین ہفتے کے اندر اندر پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری کا عمل شروع کیاجائے ۔ عدالت نے تلنگانہ حکومت کے سکریٹری( ابتدائی تعلیم) کو تقرری کا عمل شروع کرنے میں ہوئی پیش رفت کے بارے میں حلف نامے داخلہ کرنے کی ہدایت دی ۔ اس حلف نامے میں یہ بھی اشارہ دینا ہوگا کہ اساتذہ کے خالی عہدوں کو بھرنے میں کتنا وقت لگے گا ۔ عدالت عظمیٰ نے جے کے راجو کی عرضی پر سماعت کے دوران یہ تبصرے کئے ۔ اس درخواست میں ریاست کے اسکولوں میں بیت الخلاء اور پینے کے پانی کی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت دینے کی دخواست کی گئی ہے ۔

Supreme Court voices displeasure over lack of teachers in Telangana

0 comments:

Post a Comment