Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-13 - بوقت: 16:53

دیوالی پر دہلی کی فضائی آلودگی میں 23 فیصد اضافہ

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
قومی دارالحکومت نئی دہلی میں دیوالی کے موقع پر فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا تھا ۔ دیوالی کی رات دہلی کے آنند وہار علاقہ میں فضائی آلودگی کی سطح معمول کی سطح سے23گنا زیادہ خراب ہوچکی تھی ۔ رئیل ٹائم ایر کوالٹی کنٹرول کمیٹی کے بموجب دہلی کی فضا میں تنفس کو مسدود کرنے والے ذرات جن سے راست پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں کی سطح23درجہ بڑھ گئی تھی ۔ اس طرح دیوالی کے موقع پر آتشبازی اور پٹاخے چھوڑنے میں احتیاط برتنے کی مرکز ار ریاستی حکومتوں کی تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس بار دیوالی کی رات قومی دارالحکومت دہلی کی فضائی آلودگی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے ۔ دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح پر نگرانی رکھنے والے آلودگی کنٹرول کمیٹی( ڈی پی سی سی) کی اعداد و شمار کے مطابق رات9بجے کے بعد جیسے ہی پٹاخے چھوڑنے کی سر گرمیوں میں تیزی آنے لگی تو ہوا مین آلودگی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور رات کے11بجے تک یہ معیاری سطح سے10گنا زیادہ بڑھ چکی تھی۔ جنوبی دہلی میں 12بجے رات کو یہ سطح1320مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر پر تھی جب کہ دیگر زہریلی گیسوں کی سطح بھی734مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکی تھی جو قومی معیاری سلامتی سطح سے12گنا زیادہ تھی ۔ مندر مارگ ، آنند وہار اور سیول لائن کی حالت تو اور بھی خراب رہی ۔ یہاں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی سطح2ہزار مائکرو گرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکی تھی ، جو متعینہ محفوظ معیار سے20گنا زیادہ ہے ۔ فضائی آلودگی کی سطح میں اس قدر اضافہ ہوگیا ہے کہ ڈی پی سی سی کی رئیل ٹائم ایئر کوالٹی کی معلومات دینے والی ویب سائٹ نے رات12بجے کے بعد کام کرنا ہی بند کردیا۔ سلفر ڈائی آکسائڈ سے متاثر فضا انسانی صحت کے لئے انتہائی ضرر رساں ہوتی ہے۔ اس سے الزائمر نیز آنکھوں اور پھیپھڑوں میں خطرناک انفیکشن جیسی شکایت ہوسکتی ہے ۔ عموما دہلی میں تیزابیت کی سطح محفوظ سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن اس بار دیوالی کے دن یہ سطح شہر کے زیادہ تر علاقوں میں رات کے11بجے ہی دو گنا سے زیادہ253مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ چکی تھی۔ واضح رہے کہ پٹاخے گندھک سمیت متعدد زہریلے مواد کے مرکب سے بنائے جاتے ہیں ۔ ان میں سلفر( گندھک) کی مقدار سب سے زیادہ رہتی ہے لہذا جتنا پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں ہوا میں تیزابیت کی سطح بھی اتنا ہی بڑھتی جاتی ہے ۔ پٹاخوں سے صرف ہوا ہی آلودہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے صوتی آلودگی بھی پیدا ہوتی ہے ۔ صوتی آلودگی کی پیمائش کرنے والے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی ویب سائٹ کے مطابق دیوالی کے دن پٹاخوں کے شوروغل سے اس بار دارالحکومت میں صوتی آلودگی70ڈیسیبل کے محفوظ معیاری سطح سے کافی اوپر پہنچ گئی ہے ۔ وزارت برائے ارضیاتی سائنس کے تحت کام کرنے والے ادارے، ایس اے ایف اے آر کے مطابق دیوالی کے ایک روز بعد دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح مزید خراب ہوسکتی ہے اور فضا اور بھی آلودہ دکھائی دے سکتی ہے۔ گزشتہ دیوالی کے مقابلہ میں اس بار دیوالی پر موسم زیادہ ٹھنڈا رہنے سے آلودگی کے ذرات ہوا کی نچلی سطح پر ہی ٹکے ہوئے ہیں جس سے آلودگی کا اثر زیادہ ہورہا ہے ۔

Delhi: Air quality worsens on Diwali, pollution levels 23 times higher

0 comments:

Post a Comment