Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-25 - بوقت: 23:44

ملک میں بڑھتی عدم رواداری سے متعلق عامر خان کے بیان پر تنازعہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
عدم رواداری کے مسئلہ پر بڑھتی تشویش کے دوران راہول گاندھی نے آج کہا کہ حکومت کے لئے یہ بہتر ہوگا کہ وہ دھونس جمانا ، دھمکانا اور نامناسب برتاؤ کرنا بند کردے اور اس کے بجائے عوام تک پہنچے۔ کانگریس کے نائب صدر نے یکے بعد دیگر ے ٹوئٹر پیامات میں کہا کہ حکومت اور مودی جی پر انگلی اٹحانے والوں کو ملک دشمن یا محرکات پر مبنی قرار دینے کے بجائے یہ بہتر ہوگا کہ حکومت، عوام تک پہنچے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ انہیں کیا چیز پریشان کررہی ہے ۔ ہندوستان میں مسائل کو حل کرنے کا یہی طریقہ ہے ۔ دھونس جمانا، دھمکی دینا یا نا مناسب برتاؤ کرنا نہیں ۔ اداکار عامر خان نے کل شام قومی دارالحکومت میں ایک ایوارڈ تقریب کے دوران کہا تھا کہ وہ ملک میں رونما ہونے والے متعدد واقعات پر فکر مند ہیں اور ان کی اہلیہ کرن راؤ نے تو ملک چھوڑ دینے کی بات تک کہی تھی۔ علیحدہ اطلاع کے مطابق کانگریس نے آج عامر خان کی تائید میں آگے آتے ہوئے کہا کہ ادکار جو کہہ رہے ہیں ساری دنیا وہی بات کہہ رہی ہے اور حکومت سے کہا کہ وہ اس پیام پر دھیان دے ۔ کانگریس ترجمان ابھیشک مانو سنگھوی نے یہاں کہا کہ ایک انتہائی قابل احترام اداکار عامر خان نے کئی سینئر بی جے پی قائدین کی موجودگی میں جو کچھ کہا ہے وہی بات ساری دنیا کہہ رہی ہے اور سارا ہندوستان کہہ رہا ہے ، سارے ہم خیال لوگ کہہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عامر خان نے کل ایوارڈ واپس کرنے والوں کی تائید بھی کی تھی اور کہا تھا کہ تخلیق کاروں کے لئے اپنے عدم اطمینان یا مایوسی ظاہر کرنے کا یہ ایک طریقہ ہے کہ وہ اپنے ایوارڈ واپس کردیں۔ بی جے پی کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے سنگھوی نے کہا کہ عدم رواداری کا مسئلہ اٹھانے پر عامر خان کو کانگریسی قرار نہیں دینا چاہئے ۔ رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ مجھے صرف یہ امید اور بھروسہ ہے کہ انہیں کانگریسی قرار نہیں دیاجائے گا اور ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ نہیں کہے جائیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ضمیر آواز دے رہا ہے ۔ انہیں نشانہ تنقید بنانے کے بجائے ان کے پیام پر دھیان دیں ۔ ایک اور اطلاع کے مطابق عام آدمی پارٹی کنوینر اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے ملک میں بڑھتی عدم رواداری اور عدم سلامتی کے خلاف آواز اٹھانے پر عامر خان کی ستائش کی اور ان کی تائید میں آگے آئے ۔ انہوں نے مرکز سے کہا کہ وہ عوام میں احساس سلامتی پیدا کرنے اقدامات کرے ۔ کجریوال نے ٹوئٹر پر کہا عامر خان کا کہا گیا ہر لفظ بے حد صحیح ہے ۔ میں آواز اٹھانے پر ان کی ستائش کرتا ہوں ۔ کجریوال نے بی جے پی پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کردیتی ہے، مرکز سے کہا کہ وہ عوام میں احساس سلامتی پید اکرنے اقدامات کرے ۔
ممبئی سے موصولہ علیحدہ اطلاع کے مطابق بالی ووڈ اداکار عامر خان کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے بی جے پی لیڈ ر شاہنواز حسین نے آج کہا کہ کانگریس، عدم رواداری کے موجودہ ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو بدنام کرنے کی گہری سازش رچ رہی ہے ۔ راہول گاندھی کی جانب سے اداکار کے تبصرہ کی تائید کے بعد انہوں نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کل کئے گئے اداکار کے تبصرہ پر تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آخر عامر خان اور ان کا خاندان ہندوستان چھوڑ کر کہاں جائیں گے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ہندوستان سے بہتر کوئی اور ملک نہیں اور کسی ہندو سے بہتر کوئی پڑوسی نہیں ۔ مسلم ممالک اور یوروپ کی کیا صورتحال ہے؟ ہر جگہ عدم رواداری ہے ۔ بی جے پی کے قومی ترجمان نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان سب سے زیادہ سیکولر ملک ہے ، جہاں مسلمانوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں ۔ ہمارے ملک میں کسی فنکار کے بارے میں اس کی ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ اس کے فن کی بنیاد پر فیصلہ کیاجاتا ہے۔ شاہنواز حسین نے کہا کہ اگر عامر خان یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں صورتحال اتنی خراب ہے اور وہ ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں تو انہیں ہمیں قائل کرنا چاہئے ۔ ہم بحث کرنے تیار ہیں ۔ انہوں نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں کون اداکار کو مشورے دے رہا ہے ۔ حسین نے عامر خان کی تائید کرنے پر کانگریس کے نائب صدر کو بھی نشانہ تنقید بنایا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس بھی ملک وک بدنام کرنے کی مہم میں شامل ہے ۔ کانگریس، ایک منتخبہ حکومت اور مقبول وزیر اعظم کو برداشت نہیں کرپارہی ہے ۔ ایک ایسے وقت جب ملک نریندر مودی کی زیر قیادت ترقی کررہا ہے ، کانگریس ملک کو بدنام کرنے کا ماحول پیدا کررہی ہے ۔ کانگریس، سکھوں کے قتل عام اور کئی فرقہ وارانہ فسادات کی ذمہ دار ہے ۔ پارٹی کو رواداری اور عدم رواداری کے بارے میں ملک کو سبق نہیں دینا چاہئے ۔ عامر خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ناقابل یقین اور “ اتولیہ بھارت” ہے اور ہمیں اس کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوئی حرکت نہیں کرنی چاہئے ۔ عامر خان کو تمام ہندوستانیوں کی محبت اور احترام کی وجہ سے دولت، شہرت اور عزت ملی ہے ۔ جب آپ اداکار بن جاتے ہیں تو آپ کے تبصرے آپ کو سر خیوں میں لاسکتے ہیں اور اچھا کوریج دلا سکتے ہیں ، لیکن انہیں ملک دشمنوں کی جانب سے ملک کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔ حسین نے کہا کہ عامر کے تبصرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں ، بلکہ دوسروں کو خوفزدہ کررہے ہیں اور بی جے پی اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ ایک اور اطلاع کے مطابق حکومت نے آج بڑھتی عدم رواداری پر سوپر اسٹار عامر خان کے تبصرہ کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات سے ملک اور وزیرا عظم نریندر مودی کی بدنامی ہوتی ہے ۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے یہاں ایک تقریب کے وقفوں کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا کہ عدم رواداری سے متعلق ان کا تبصرہ مکمل طورپر غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ایسے تبصروں سے ملک کی شبیہ متاثر ہوتی ہے اور وزیر اعظم بھی بدنام ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مئی2014ء میں مودی حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں کمی آئی ہے۔ وزارت داخلہ کے اعدا د و شمار کے مطابق جاریہ سال اکتوبر تک مختلف فرقہ وارانہ واقعات میں86افراد ہلاک ہوئے ، جب کہ2014ء میں اسی عرصہ کے دوران ملک میں90اموات ہوئی تھیں۔

Centre disputes Aamir's statement on intolerance

0 comments:

Post a Comment