Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-09 - بوقت: 23:48

کانگریس ہیڈ کوارٹر پر جشن کا ماحول اور بی جے پی ہیڈ کورٹر میں ویرانہ

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
بہار اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو، آر جے ڈی اور کانگریس پر مشتمل عظیم اتحاد کی عظیم کامیابی کے نتائج کے ساتھ ہی کانگریس ہیڈ کوارٹر پر جشن کا ماحول دیکھا گیا کہ ہزاروں پارٹی کارکنان نے پٹاخے جلاتے ہوئے اورباجا بجاتے ہوئے امنڈ پڑے ۔ آنند شرما، رندیپ سورج والا اور آر پی این سنگھ کے بشمول متعدد قائدین نے ان پارٹی کارکنان کی مسرت میں شرکت کی ۔ دریں اثناء پارٹی دفتر کے روبرو سواریوں کے ساتھ کارکنوں کی آمد کی بنا پر دہلی کی اکبر روڈ ٹریفک مسدود رہی۔ دوسری جانب بی جے پی ہیڈ کوارٹرپر ویرانہ اور نحوست کی پرچھائیاں طاری رہیں کیونکہ اپنی شکست فاش کے جواز پیش کرتے ہوئے پارٹی دفتر پر چند ایک ترجمان اور بعض مقامی قائدین کو ہی دیکھا گیا اور پارٹی کا کوئی بھی سینئر قائد موجود نہ تھا ۔ ایک مقامی پارٹی کارکن پروین سنگھ نے کہا کہ صبح میں دفتر پر متعدد پارٹی قائدین کی آمد رہی لیکن جیسے جیسے نتائج منظر عام پر آتے رہے وہ دفتر سے کھسک لئے ۔ دریں اثناء بہار میں عظیم اتحاد کی جانب سے حکومت تشکیل دینے کے رجحانات دکھائی دینے کے بعد شکست خوردہ بی جے پی نے آج لڈوؤں اور پٹاخوں کے لئے دئیے گئے آرڈرس منسوخ کیا، کیوں کہ پارٹی کو بہت کم تعداد کے ساتھ دوسرا مقام حاصل ہورہاتھا ۔ بی جے پی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ صبح کے اوقات میں ابتدائی رجحانات کا پتہ چلنے پر لڈوؤں اور پٹاخوں کے آرڈر دئیے گئے تھے ، تاہم رجحانات میں تبدیلی کے بعد انہیں منسوخ کردیا گیا۔ بی جے پی کے پارٹی آفس کے باہر لگائے گئے اسٹالوں پر پارٹی کے پرچم اور پٹاخے فروخت نہ ہوسکے ۔ ایک دکاندار روشن شاہ نے بتایا کہ اس نے دس ہزار روپے مالیتی پٹاخے اور بی جے پی کے پرچم فروخت کے لئے لایا تھا، لیکن پارٹی کی شکست کے سبب کوئی بھی انہیں نہیں خرید رہا ہے ۔ روشن نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ وہ جنتادل یو اور آر جے ڈی کے پرچم فروخت کے لئے لاتا، جیسا کہ اس کے چھوٹے بھائی نے کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ وہ پٹاخوں کی فروخت کے لئے وہ جے ڈی یو کے آفس کو جارہا ہے ۔

Celebrations Erupt at Congress Headquarters After Bihar Poll Results

0 comments:

Post a Comment