Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-24 - بوقت: 23:28

دو سال میں پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا بر سر اقتدار آنا طئے - کجریوال

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
عام آدمی پارٹی (ا ے اے پی) کی نظریں2019ء کے لوک سبھا انتخابات پر مرکوز نہیں ہیں لیکن وہ پنجاب میں2017ء میں بر سر اقتدار آنے کے تعلق سے پر اعتماد ہے ۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے پیر کے دن یہ بات کہی ۔ نئی دہلی میں اپنی پارٹی کے قومی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ لالو پرساد کے بد عنوان ماضی اور گھرانہ شاہی سیاست کے ہنوز مخالف ہیں۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو شاندار جیت سے ہمکنار کرنے کے9ماہ بعد کجریوال نے کہا کہ ملک کی اس نئی سیاسی جماعت کا ابھرنا خود ایک کرشمہ ہے ۔ انہوں نے بند کمرہ اجلاس میں مندوبین سے کہا کہ ہم یہاں اقتدار کی سیاست کے لئے نہیں ہیں ۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ2019ء کی ریس میں ہوکیا؟ وہ اگلے لوک سبھا الیکشن کا حوالہ دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی ریس میں نہیں ہیں۔ دہلی کی جیت کرشمہ ہے ۔ ہمیں دیانتداری کے ساتھ سخت محنت کرتے رہنا ہوگا ۔ الیکشن کے پیچھے بھاگنا نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ2014ء کے لوگ سبھا انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے چار ارکان کو پارلیمنٹ بھیجنے والی ریاست پنجاب اس سے مستثنیٰ ہوگی جہاں دو سال میں اسمبلی الیکشن ہونے والا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام اشارے ہیں کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو ویسا ہی موقع ملنے والا ہے جیسا کہ دہلی میں ملا تھا۔ کجریوال نے 20نومبر کو پٹنہ میں چیف منسٹر بہار نتیش کمار کی حلف برداری میں لالو پرساد یادو کو گلے لگانے پر مختلف گوشوں سے کی گئی تنقید کے تعلق سے کہا کہ لالو پرساد اسٹیج پر تھے انہوںنے ہاتھ ملایا، مجھے اپنی طرف کھینچا اور گلے لگا لیا ۔ میرا ہاتھ پکڑا اور اسے بلند کیا۔ ہم نے آر جے ڈی سے اتحاد نہیں کیا ہے ۔ ہم لالو پرساد کے کرپشن کے ریکارڈ کے خلاف ہیں اور ہمیشہ خلاف رہیں گے ۔ ہم گھرانہ شاہی سیاست کے بھی مخالف ہیں ۔ لالو جی کے2لڑکے وزیر ہیں ۔ ہم اس کے بھی خلاف ہیں ۔ کجریوال نے مزید کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ لوگ سوال کررہے ہیں کیونکہ عوام کو عام آدمی پارٹی سے اس لئے امید ہے کہ وہ اسے دوسری جماعتوں سے مختلف مانتے ہیں ۔ دوسرے قائدین کے لالو جی کے گلے لگنے پر کوئی سوال نہیں کرتا، یہ ہمارے لئے اچھا ہے ۔ عام آدمی پارٹی قائد نے نتیش کمار کو اپنی تائید کی مدافعت کی اور کہا کہ نتیش بابو اچھے آدمی ہیں ۔ عوام نے ہم سے کہا ہے کہ انہوں نے اچھا کام کیا ہے ۔ ہم نے بہار میں بی جے پی کے خلاف کام کیا اور نتیش کمار کی تائید کی ۔ انکم ٹیکس کمشنر سے کارکن اور کارکن سے سیاستداں بنے اروند کجریوال نے کہا کہ چار سال قبل انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ الیکشن لڑیں گے ۔ یہ تین سال کا سفر خود ایک کرشمہ ہے ۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ ہم کررہے ہیں تو یہ غلط ہوگا ۔ یہ ایک خدائی اسکیم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ10ماہ میں عام آدمی پارٹی کی کارکردگی پچھلی شیلا دکشت حکومت سے بہتر رہی ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی طنز کیا اور کہا کہ انکے ہاتھ میں پورا ملک ہے لیکن انہوں نے اتنا کام بھی نہیں کیا جتنا عام آدمی پارٹی نے دہلی میں کیا ہے۔ کرپشن کے حوالہ سے کجریوال نے کہا کہ ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی حکومت نے کرپشن میں ملوث پائے جانے پر خود اپنے وزیر کو برطرف کیاہو۔ ہم نے کرپشن کیسس کو بالخصوص اپنے وزراء کے خلاف معاملات کو قالین کے نیچے دبادینے والی حکومتوں کو دیکھا ہے لیکن ہماری حکومت کے معاملہ میں کسی نے واٹس اپ پر کلپ بھیجی۔ ہم نے اس کا تجزیہ کیا ، متعلقہ وزیر کو بلایا اور ان سے باز پرس کی اور ایک گھنٹے میں انہیں ہٹا دیا ۔ وہ برطرف وزیر عاصم احمد خان کا حوالہ دے رہے تھے ۔ پی ٹی آئی کے بموجب کجریوال نے کہا کہ ابتداء میں ہمارے دو مقاصد تھے کرپشن سے نمٹنا اور جن لوک پال و سوراج لانا۔ گزشتہ دس ماہ میں ہم نے اتنی محنت کی ہے کہ میں چیلنج کرسکتا ہوں کہ شیلا دکشت حکومت نے پندرہ برس میں اتنا کام نہیں کیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھ میں پورا ملک ہے لیکن انہوں نے بھی ہمارے برابر کام نہیں کیا ، جن لوک پال بل، دہلی اسمبلی کے جاریہ سرمائی اجلاس میں منظور ہوجائے گا۔ لوک پال بل اسی سیشن میں منظور ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی پرانا بل ہے تاہم اس مین سٹیزن چارٹر اور ویجلنس نہیں ہوں گے ۔ ہم ویجلنس کا پہلو روبہ عمل لاچکے ہیں ۔ سٹیزن چارٹر آج پیش ہورہا ہے ، لہذا بی جے پی اور کانگریس کے ساتھ احتجاج کے لئے کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا ۔ عام آدمی پارٹی حکومت کی کامیابیاں بیان کرتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ ہم نے فلائی اوور مقررہ تاریخ سے قبل مکمل کیا۔ میٹرو پراجکٹ بھی اس کی طئے تاریخ سے پہلے مکمل ہوا لیکن فرق کیا ہے ؟ فرق یہ ہے کہ ہم نے100کروڑ روپے بچائے۔ نیشنل کونسل، عام آدمی پارٹی کے بانی ارکان کی تنظیم ہے جبکہ قومی عاملہ، پارٹی کا دوسرا اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے ۔ کونسل پارٹی کے تمام فیصلوں کی توثیق کرتی ہے ۔

AAP not eyeing 2019 polls, will win Punjab: Kejriwal

0 comments:

Post a Comment