Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-25 - بوقت: 23:56

ادیبوں کے موجودہ احتجاج کا جاری رہنا ضروری ہے

Comments : 0
india-writers-protest
قلمکاروں کے شدید احتجاج اور یکے بعد دیگر ایوارڈ لوٹانے نیز عہدوں سے مستعفیٰ ہونے کے لا متناہی سلسلے نے بالآخر ساہتیہ اکیڈمی کو اس بات کے لئے مجبور کردیا کہ وہ اپنی ہنگامی میٹنگ طلب کرے، ادیبوں اور قلمکاروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرے اور حکومت سے نہ صرف ادیبوں کے تحفظ کا مطالبہ کرے بلکہ آزادی اظہار رائے کی بھر پور حمایت کا اعلان بھی کرے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ ساہتیہ اکیڈمی جو ایک خود مختار ادارہ ہے اور جس کا وجود ہی آئین میں فراہم کردہ آزادی اظہار رائے کی ضمانت کا مرہون منت ہے ، نے اپنی پوزیشن ایسی بناڈالی کہ اسے یہ اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ وہ آزادی اظہار رائے کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ جمعہ کو ہونے والی اس میٹنگ میں اکیڈیمی نے ان مصنفین کے قتل کی مذمت تو کی جنہیں صرف اس لئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا کہ انہوں نے سیکولر ہندوستان میں اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کی جرات کی تھی مگر وہ ملک کی مجموعی صورتحال پر ادیبوں کی فکر مندی کی ترجمانی نہ کرسکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف اکیڈیمی کلبرگی اوردیگر مصنفین کے قتل کی مذمت کررہی تھی تو دوسری طرف کرناٹک سے دو خبریں آرہی تھیں۔ پہلی خبر ایک جواں سال دلت ادیب23؍ سالہ ہوشنگی پرسادپر حملے کی اور ہندو مذہب کے خلاف لکھنے پر انگلیان کاٹ دینے کی دھمکی کی تھی تو دوسری طرف ایک خاتون مصنفہ کے تعلق سے تھی ۔ چیتنا تیرتھ پلی نامی مذکورہ خاتون جو معروف قلمکار ، فلم ساز اور اسکرپٹ رائٹر ہیں کو بیف پر پابندی کے خلاف لکھنے پر آبروریزی اور تیزاب پھینک کر چہرا خراب کردینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ فیس بک پر نہ صرف انہیں مسلسل دھمکایا اور ڈرایا جارہاہے بلکہ ان کے16؍سالہ بیٹے سے انجان افراد رابطہ کر کے اناپ شناپ باتیں کررہے ہیں ۔چیتنا سے برہمی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہندو ہوکرایک مسلم ادارہ کے لئے لکھتی ہیں ۔ 23, سالہ ہوشنگی پرساد جوجرنلزم کے طالب علم ہیں اور حملے کے وقت ایس سی ایس ٹی ہوسٹل میں مقیم تھے جا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ذات پات کے اس نظام کے خلاف کتاب لکھنے کی جرات کی جسے آئین ہند نہ صرف مسترد کرچکا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد قانوناً قابل تعزیر جرم بھی ہے ۔ اس سے حملہ آوروں کے حوصلوں کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے اور یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کے دل میں آئین کی کیا اہمیت ہے۔ حملہ آوروں نے پرساد کو زدوکوب کرنے کے ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انہوںنے ہندو دھرم کے خلاف لکھنا بند نہیں کیا تو ان کی انگلیان کاٹ دی جائیں گی ۔ یہ دونوں واقعات ملک میں عدم تحمل کے اس ماحول کو مزید واضح کردیتے ہیں جو کبھی دابھولکر، پانسرے اور کلبرگی کے قتل کا باعث بنتا ہے تو کبھی دادری میں محمد اخلاق کی ہلاکت اور فرید آباد میں دو دلت بچوں کو زندہ جلا دینے کی ناجائز وجہ فراہم کردیتا ہے ۔ ایوارڈ لوٹانے والے ادیبوں کے احتجاج کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے کہ اکیڈیمی طوعا و کرہا مذمتی قرار داد پاس کردے اور وہ اپنا احتجاج واپس لے لیں ۔ اکیڈیمی نے چونکہ مذمتی قرار دادکے ساتھ ہی مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے ذریعہ کاغذی بغاوت کے مجرم قرار دئیے گئے ادیبوں سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ اب وہ اپنا احتجاج واپس لے لیں، ایوارڈ اپنے پاس رکھیں اور جنہوں نے اکیڈمی سے خود کو الگ کرلیا ہے وہ پھر اس سے منسلک ہوجائیں ، اس لئے یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا ادیبوں کو لوٹائے ہوئے اپنے ایوارڈ واپس لے لینے چاہئیں؟ اس کا جواب حالانکہ اوپر ذکرکئے گئے دونوں واقعات سے مل جاتا ہے مگر یہاں یہ دیکھ لینا زیادہ بہتر ہے کہ خود ادیب کیا کہتے ہیں۔ تیلگو کے معروف مصنف بھوپال ریڈی کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اکیڈیمی نے مصنفین سے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔ بنیادی طور پر ملک میں جو حالات ہیں ان کے لئے حکومت ذمہ دارہے ۔ میں اپنا ایوارڈ واپس نہیں لوں گا ، میں نے اسے لوٹا دیااوریہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔ ملیالم قلمکار سارہ جوزف بھی انہیں نظریات کی حامل ہیں ۔ ان کے مطابق اکیڈمی کے مذکورہ بیان کے باوجود بڑے مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں ۔ انہوں نے بھی ایوارڈ واپس لینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا ہے کہ ریزولیوشن محض شرمندگی سے بچنے کی کوشش ہے جکہ بڑے موضوعات ابھی بھی جوں کے توں ہیں اس لئے میرا فیصلہ اٹل ہے ، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ ملیالم ادیب پی کے پراکڈو جنہوں نے اکیڈمی کی رکنیت ترک کردی ہے کے مطابق ملک مشکل دورسے گزر رہا ہے اس لئے محض ریزولیوشن سے کچھ نہیں ہوگا ۔ میں اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کروں گا ۔ گجراتی شاعر نے جمعہ کوہی دو ٹوک انداز میں یہ کہہ کر اپنے فیصلے پر اٹل رہنے کا اعلان کردیاکہ نفرت کا ماحول اب بھی برقرار ہے ۔ اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ ایوارڈ بھلے ہی ساہتیہ اکیڈمی کے لوٹائے گئے تھے مگر بنیادی طور پر احتجاج ملک کی مسموم فضا کے خلاف تھا جو دادری جیسے سانحات کا باعث بن رہی ہے اور جس نے ساہتیہ اکیڈمی کی زبان پر تالے لگادئیے تھے ۔ ابھی ساہتیہ اکیڈیمی کی زبان کا تالا ہی کھلا ہے مگر فضا کا زہریلا پن ابھی دور نہیں ہوا ۔ وہ اس وقت دور ہوگا جب مرکزی حکومت چاہے گی اور تب تک ادیبوں کے اس احتجاج کا جاری رہنا ضروری ہے ۔

یہ احتجاج وقت کا تقاضا ہے - ڈاکٹر عبدالحق، دہلی یونیورسٹی
ملک میں نفرت کا جو ماحول پید اکیاجارہا ہے اس کے خلاف ادیب ہی کیا ، ہر باضمیر شخص کو احتجاج کرنا چاہئے ۔ ادیب چونکہ زیادہ حساس اور نبض شناس ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ جلدی بیدار ہوتا ہے اور احتجاج کی قیادت کرتا ہے ۔ یہ انسانی ضمیر کا تقاضا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔ ظلم کے خلاف احتجاج نہ صرفایک اچھے سماج کی تشکیل کے لئے ضروری ہے بلکہ اچھی حکومتوں کے لئے بھی ضروری ہے ۔ یہ ادباء شعرائء ہی ہیں جو سماج کی نمائندگی کرتے ہیں اور حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ حکومتیں اگر توجہ دے لیں تو انہیں کا بھلا ہوگا ورنہ خمیازہ بھی انہیں ہی بھگتنا ہوگا۔

ادیبوں کا ایوارڈ لوٹانا حق بجانب ہے - خلیل مامون، شاعر اور سابق اعلیٰ پولیس افسر
پروفیسر کلبرگی کے قتل کے ساتھ آزادی اظہار رکھنے والے ادیبوں اور سماجی کارکنوں کی تثلیث ابھی پوری ہوئی تھی کہ اخلاق احمد کا بہیمانہ قتل عمل میں آگیا ۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی جموں، ہماچل پردیش، رانچی اور کرناٹک کے پانچ علاقوں میں فرقہ وارانہ واقعات پیش آئے ۔ یہ واقعات ہندوستان کی تاریخ کے بالکل الگ نوعیت کے تھے ۔ اس میں صرف ایک فرقہ وارانہ تنظیم کام کررہی تھی ، یہ بات ہم سے زیادہ بر سر اقتدار حکام کو معلوم ہوگی اور یقینا معلوم ہوگی ۔ اس پس منظر میں ادبا کے ایوارڈ لوٹانے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اس صورت حال کو کمیونسٹوں اور کانگریس کا پروگرام قرار دینا سراسر غلط ہے ۔ حکومت اپنے چیلوں کو رٹے رٹائے جملے ازبرکراکر برقی میڈیا میں بھیج رہی ہے ۔ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ مکالمات، دراصل بر سر اقتدارجماعت ہی کی ایما پر ٹی وی کے مختلف چینلوں میں منعقد کئے جارہے ہیں ۔ بہر حال ادیبوں کا ایوارڈ لوٹانا حق بجانب ہے ۔18 ؍ اکتوبر کو منور رانا نے ایک ٹی وی چینل کے اہل کاروں کو اپنا ایوارڈ لوٹایا تھا۔ یہ محض ایک پبلسٹی اسٹنٹ تھا کیونکہ انہیں ایورڈ ساہتیہ اکیڈیمی کے عہدیداروں کو لوٹانا تھا۔ ان کا یہ عمل محض ایک ڈراما تھا ، اس کے بعدانہوںنے22اکتوبر تک نہ جانے کتنے دعوے مسلم اقلیت کی محبت میں کرڈالے اور اب یہ کہہ رہے کہ اگر وزیر اعظم کہیں تو وہ اپنا ایوارڈ واپس لے لیں گے ۔ یہی نہیں وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کی جوتیاں اپنے سر پر رکھ لیں گے ۔ ان باتوں سے ان کے کردار کی ضلالت سامنے آتی ہے ۔ ان کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

حکومت کے حرکت میں آنے تک احتجاج جاری رہنا چاہئے - پروفیسر یونس اگاسکر، سابق صدرشعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی
ساہتیہ اکیڈیمی کو جوکرنا تھا اس نے کیا لیکن اس احتجاج کو یہاں رکنا نہیں چاہئے کیونکہ ادیبوں کا یہ احتجاج ساہتیہ اکیڈیمی کے خلاف نہیں ہے ۔ یہ احتجاج تو ملک میں پیدا کئے جانے والے اس ماحول کے خلاف ہے جس میں تشدد کو راہ مل رہی ہے ، اس کی حمایت کی جارہی ہے اور کسی نہ کسی طرح اس کا جواز پید اکرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جو ہورہا ہے وہ درست ہے۔ ملک کی فضا اتنی غیر معتدل کبھی نہیں تھی جیسی کہ ابھی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شمال سے لے کر جنوب تک فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہیں لہذا وہ جو چاہتے ہیں کر گزر تے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اسے کسی نہ کسی سطح پر سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے، جسے ہر کوئی محسوس کررہا ہے ۔ اس لئے ماحول کی تبدیلی تک یا کم از کم حکومت کے پوری طرح سے حرکت میں آنے تک اس احتجاج کو جاری و ساری رکھنا چاہئے۔

اس تحریک کو مزید موثربنانے کی ضرورت ہے - مدحت الاختر، معروف شاعر
احتجاج کے رکنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ حالات ابھی بھی خراب ہیں اور بد سے بدتر ہونے کی جانب گامزن ہیں ۔ فرقہ پرستوں کے حوصلے اس قدر بلند نظر آتے ہیں کہ اب تو جمہوریت اور آئین کی بنیادوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ان حالات میں نہ صرف اس احتجاج میں شدت پید اکرنے کی ضرورتہے بلکہ آپس میں اتحاد و اتفاق کی بھی ضرور ت محسوس کی جارہی ہے تاکہ آگے کا لائحہ عمل ترتیب دیاجاسکے ۔ بلا شبہ ادیبوں اور شاعروں کی بات سنی جاتی ہے اورموجودہ حکومت نے بھی تھوڑا سا ہی سہی لیکن نوٹس تو لیا ہے اس لئے اس تحریک کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔

The current protest of writers must continue

0 comments:

Post a Comment