Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-24 - بوقت: 23:20

ساہتیہ اکیڈیمی نے آخرکار قلمکاروں کی ہلاکت کی مذمت کی - نئی دہلی میں ہنگامی اجلاس

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
ساہتیہ اکیڈیمی نے آج پہلی مرتبہ قلمکاروں کی ہلاکت کی مذمت کی اور ادیبوں سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ پر اکیڈیمی کی تا حال خاموشی پر لوٹائے گئے اپنے ایوارڈس واپس لے لیں ۔ اکیڈیمی کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد یہ اپیل جاری کی گئی۔ رکن اکیڈیمی وٹامل اسکالر کرشنا سوامی ناچی متھو نے یہاں میڈیا کو یہ بات بتائی۔ ایم ایم کلبرگی جیسے ادیبوں اور مفکرین پر بعض ہندو توا گروپس کے حالیہ حملوں کے خلاف احتجاج درج کرانے100 سے زائد ادیبوں نے اپنے اکیڈیمی ایوارڈ س لوٹا دئیے تھے۔ انہوں نے اتر پردیش میں بیف کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کی ہلاکت کو بھی ملک میں بڑھتی عدم رواداری کی مثال قرار دیا تھا اور جمعہ کے دن انہوں نے پر امن مارچ نکالا ۔ پی ٹی آئی کے بموجب بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے ادیبوں اور ان کے حامیوں نے ساہتیہ اکیڈیمی کے ہنگامی اجلاس سے قبل یہاں اظہار یگانگت کے لئے مارچ نکالا۔ مختلف زبانوں کے قلمکار، خاموش مارچ نکالنے کے لئے صفدر ہاشمی مارگ کے سری رام سنٹر پر اکٹھا ہوئے۔ انہوں نے بڑے بیانروں کے ساتھ ساہتیہ اکیڈیمی بلڈنگ تک مارچ کیا جہاں اکیڈیمی کو یادداشت پیش کی گئی کہ وہ اظہار رائے کی آزادی اور اختلاف رائے کے حق کے تحفظ کے لئے سخت اقدامات کرنے کا عہد کرے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں35سے زائد ادیبوں نے اپنے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس لوٹانے کا اعلان کیاتھا۔ صدر نشین اکیڈیمی وشوا ناتھ پرساد تیواری نے یادداشت قبول کی اور کہا کہ اجلاس میں اس پر غور ہوگا۔ یادداشت میں کہا گیا کہ اکیڈیمی کی مجلس عاملہ قرار داد منظور کرے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی اور ادیبوں کے اختلاف رائے کے حق کے تحفظ کے لئے سخت اقدامات کرے گی ۔ احتجاجیوں نے تیواری کے حالیہ بیان پر بھی تنقید کی جس میں انہوں نے کئی ادیبوں کے ایوارڈس لوٹانے کے اقدام کو غیر منطقی قرار دیا تھا۔ انہوں نے تیواری سے تحریری معذرت کابھی مطالبہ کیا۔ ہندی اور اردو کے13قلمکاروں کے وفد نے16ستمبر کو اکیڈیمی کے نمائندوں سے ملاقات میں شوک بھا کا مطالبہ کیا تھا لیکن اکیڈیمی نے اس سے انکار کیا۔ ادیبوں نے کہا کہ اکیڈیمی نے دہلی میں کلبرگی کا تعزیتی اجلاس منعقد نہیں کیا تو وہ تیواری کے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے۔ احتجاجی مارچ کی اپیل پانچ گروپس جن وادی لیکھک سنگھ، پرگتی شیل لیکھک سنگھ، جن سنسکرتی منچ ، دلت لیکھک سنگھ اور ساہتیہ سنواد نے کی تھی۔ ممتاز قلمکار کیکی این دارووالا، گیتا ہری ہرن، انورادھا کپور( سابق ڈائرکٹر نیشنل اسکول آف ڈرامہ) شیکھر جوشی اور جاوید ولی کے علاوہ دیگر نے احتجاج میں حصہ لیا۔
دریں اثنا نئی دہلی سے پی ٹی آئی کی ایک علیحدہ اطلاع کے بموجب ساہتیہ اکیڈیمی کے خلاف قلمکاروں کے خاموش مارچ کے خلاف دوسرے گروپ نے آج یہاں جوابی مظاہرہ کیا۔ اس کا الزام ہے کہ ایوارڈس لوٹانے کی ادیبوں کی مہم میں ان کا مفاد چھپا ہوا ہے اور ادبی ادارہ کو ان کے دباؤ میں نہیں آنا چاہئے ۔ جوائنٹ ایکشن گروپ آف نیشنسلٹ مائنڈ یڈ آرٹسٹس اینڈ کھنگرس( جنمت) کی زیر قیادت احتجاجیوں نے اکیڈیمی کو یادداشت بھی پیش کی ۔ اس نے ادیبوں کی منشا پر سوال اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے سابق میں رائے دہندوں سے اپیل کی تھی کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ووٹ نہ دیں ۔ بی جے پی کی طلبا تنظیم اے بی وی پی کے کارکنوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا جو مختلف زبانوں کے قلمکاروں کے سری رام سنٹر صفدر ہاشمی مارگ تا ساہتیہ اکیڈیمی بلڈنگ خاموش جلوس کے دوران کی اگیا ۔ جنمت نے کہا کہ ہم ساہتیہ اکیڈیمی سے اپیل کرنا چاہیں گے کہ وہ اپنا خود اختیار کردار برقرار رکھے اور ایسے قلمکاروں کے دباؤ میں نہ آئیں جنہوں نے سابق میں وزیر اعظم نریندر مودی کوووٹ نہ دینے کی اپیل کی تھی ۔ ان ادیبوں کی حرکتیں، غیر جمہوری ہیں یہ لوگ کس بات پر ناراضگی ظاہر کررہے ہیں؟ سچائی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا شاعر ہے جس نے ساہتیہ اکیڈیمی کے عہدہ کے لئے مقابلہ کیا تھا اور ناکام رہا تھا ۔ اس نے اس وقت کہا تھا کہ صدر کا عہدہ الیکشن کے بجائے حکومت کی جانب سے راست تقرر کے ذریعہ پر کیاجائے۔ یادداشت میں کہا گیا کہ حکومت کے خلاف احتجاج نظریاتی نہیں مفادات حاصلہ پر مبنی ہے ۔ جوابی احتجاج کی ایک رکن مالنی اوستھی نے جو سنگیت ناٹک اکیڈیمی کی رکن عاملہ ہیں ، کہا کہ مجھے ان ادیبوں کی اجتماعی یادداشت پر حیرت ہے ۔ وہ دیگر بدبختانہ واقعات پر سہولت کی نیند کیوں سوجاتے ہیں ۔ ان میں کتنوں نے کشمیری پنڈتوں ، صفدر ہاشمی یا مظفر نگر فسادات پر قلم اٹھایا؟ میں نے انہیں اتر پردیش یا دیگر ریاستوں کو جاکر احتجاج کرتے نہیں دیکھا ۔ آج وہ کسی بھی صحیح سوچ والے کو موافق بی جے پی یا سنگھی قرار دیتے ہیں۔ جنمت کے احتجاج میں تقریبا پچاس افراد نے حصہ لیا۔

Post meeting, Sahitya Akademi condemns Kalburgi's killing, urges writers to take back awards

0 comments:

Post a Comment