Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-23 - بوقت: 23:55

ساہتیہ اکیڈیمی کا آج ہنگامی اجلاس - موجودہ حالات پر قابو پانے کے ٹھوس اقدامات

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
ساہتیہ اکیڈیمی ، ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے حالیہ واقعات اور معاشرہ پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے اور صورتحال پر تبادلہ خیال کے لئے کل ایک ہنگامی اجلاس کا اہتمام کرے گی ۔ کنڑ مصنف و ادیب ایم ایم کلبرگی کے قتل اور دادری میں ایک مسلم محمد اخلاق کی زدوکوب سے موت جیسے واقعات کا خصوصی طور پر احاطہ کیاجائے گا۔ حالیہ واقعات کے خلاف احتجاج کے طور پر اب تک50سے زیادہ مصنفین ، ادباء شعراء نے اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لوٹا دیا ہے ۔ اجلاس پر ملک کے تمام مصنفین اور قلمکاروں کی توجہ مرکوز رہے گی ۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت بھی اجلاس کے دوران کارروائیوں پر نگاہ مرکوز رکھے گی ۔ قلمکاروں نے اس موقع پر اپنے مطالبات سے حکومت کو آگاہ کرانے اور ان کی یکسوئی کے لئے ایک خاموش احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا ہے ۔ دریں اثناء انگریزی کے مشہور مصنف اور سوٹیبل بوائے کی عرفیت سے مشہور وکرم سیٹھ نے بھی کہا کہا گر اجلاس میں ٹھوس اور قابل اعتبار فیصلہ نہ ہو ا تو وہ بھی اپنا ایوارڈ لوٹادیں گے ۔ ہندی کے بھی متعد د مصنفین و شعراء بھی اس پر غور کررہے ہیں کہ آیا انہیں بھی ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ لوٹا دینا چاہئے ، اکیڈیمی ذرائع کے مطابق کلبرگی کے قتل کے بعد قلمکاروں میں عدم تحفظ کا احساس عام ہے جو آزادی اظہار کو پابند سلاسل کئے جانے سے پریشان ہیں اور ان کے لبوں کو مقفل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد سے عدم رواداری میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کل کے اجلاس میں قلمکاروں ، فنکاروں ، شعراء اور ادباء کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور موجودہ حالات پر قابو پانے کے اقدامات پر غور ہوگا ۔ توقع ہے کہ ہنگامی اجلاس کے دوران کلبرگی کے قتل کے حوالہ سے ایک سنسر تحریک بھی منظور کی جائے گی ۔ وزیر ثقافت مہش شرما اور ان کی وزارت کی بھی نگاہ اجلاس کی کارروائیوں پر مرکوز رہے گی ۔ دریں اثناء ڈاکٹر شرما نے اکیڈیمی کے صد ڈاکٹر وشواناتھ پرساد تیواری کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی ۔ وزارت ثقافت کے سکریٹریز اور اکیڈیمی کے عہدیداروں کے درمیان بھی گفتگو کا سلسلہ قائم ہوا ۔ وزارت نے ایوارڈ لوٹائے جانے سے متعلق حالات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسی دوران مشہور مصنف کرشنا سوبتی نے موجودہ منظر نامہ کے حوالہ سے اکیڈیمی کے صدر نشین کے استعفی کا مطالبہ کیا تاہم اکیڈیمی ذرائع نے اسے مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ڈاکٹر تیواری کے استعفیٰ کا مطالبہ غیر منصفانہ ہے ۔ اکیڈیمی کا سالانہ اجلاس دسمبر میں ہوتا ہے اور اہی دنوں ایوارڈ س کا اعلان بھی ہوتا ہے ۔ جنرل کونسل کا اجلاس بھی دسمبر میں ہی منعقد ہوتا ہے ۔ اجلاس میں ڈاکٹر تیواری کے علاوہ اکیڈیمی کے نائب صدر چندر شیکھر کامبار اور24ہندوستانی زبانوں کی کمیٹی کے ارکان و منتظمن بھی شریک ہوں گے ۔ ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ لوٹانے کا سلسلہ ہندی افسانہ نگار ادئے پرکاش سے شروع ہوا تھا ۔4ستمبر کے اس واقعہ کے بعد سے اب تک50سے زائد قلمکاروں نے اپنے ایوارڈ لوٹادئیے ہیں ۔ اس تحریک کو اب عالمی تائید حاصل ہے اور عالمی مصنفین کی76بین الاقوامی انجمنوں نے ہندوستان کے موجودہ منظر نامہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

Under pressure, Sahitya Akademi calls meeting today to discuss

0 comments:

Post a Comment