Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-28 - بوقت: 23:51

کیرالہ ہاؤس میں بیف سپلائی پر دہلی پولیس کا دھاوا - وزیراعلیٰ کیرالہ کا سخت احتجاج

Comments : 0
قومی دارالحکومت کے قلب میں واقع کیرالا حکومت کا گیسٹ ہاؤس آج بیف تنازعہ میں گھرگیا جب کہ اس کے کینٹن میں بیف کی سپلائی سے متعلق ہندو سینا کی شکایت پر پولیس نے وہاں کے عملہ سے پوچھ تاچھ کی ۔ عملہ نے وضاحت کی کہ سربراہ کیاجانے والا گوشت بھینس کاتھا ۔ کیرالا ہاؤز میں گڑ بڑ کل شام اس وقت شروع ہوئی جب ہندو سینا کے کارکنوں نے ہنگامہ مچایا جس کے بعد پولیس کو طلب کرلیا گیا ۔ پولیس نے آج امن کو درہم برہم ہونے سے روکنے غیر معمولی چوکسی اختیار کی تاہم چیف منسٹر کیرالا اومن چنڈی اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال ، عاپ اور کمیونسٹ قائدین نے پولیس کی مذمت کی۔ کیرالا ہاؤز کے عہدیداروں نے عمارت پر پولیس کے دھاوے کے خلاف سخت احتجاج درج کروایا لیکن پولیس نے اپنے اقدام کو قانونی بتاتے ہوئے اس کی پرزور مدافعت کی ۔ بیف کی سپلائی پر کیرالا ہاؤز میں دہلی پولیس کے دھاوے کی مذمت کرتے ہوئے چنڈی نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو کسی بھی عمارت پر دھاوے سے قبل احتیاط برتنا چاہئے ۔ کیرالا ہاؤز خانگی ہوٹل نہیں بلکہ ریاستی حکومت کا گیسٹ ہاؤز ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلات حاصل کرنے کے بعد مزید اقدام کیا جائے گا ۔ دھاوے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے پولیٹ بیورو رکن پی و جین نے الزام لگایا کہ تفرقہ پسند طاقتیں جو دادری ہلاکت کی پشت پر ہیں اس دھاوے میں ملوث تھی۔ کیرالا ہاؤز میں دہلی پولیس کے داخلہ پر سخت احتجاج درج کرواتے ہوئے کیرالا کے عہدیداروں نے آج کہاکہ وہ اس مسئلہ پر دہلی پولیس میں با ضابطہ شکایت درج کروائی ۔ کیرالا کے چیف سکریٹری تھامسن نے کہا کہ کیرالا ہاؤز کے ریزنڈنٹ کمشنر گیانیش کمار، ڈپٹی کمشنر آف پولیس دہلی سے کل کی پولیس کارروائی کے خلاف با ضابطہ طور پر شکایت کریں گے ۔ انہوں نے کیرالا ہاؤز میں بیف سے متعلق میڈیا اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بھینس کا گوشت تھا اور پولیس کو اس مسئلہ پر صبر وت تحمل کرنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندو سینا کے کارکنوں کو احتجاج کا حق ہے تو یہی حقوق ہمیں بھی حاصل ہے ۔ وہ گائے کا نہیں بھینس کا گوشت تھا ۔ دہلی پولیس کی ایک ٹیم نے ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کی شکایت پر کیرالا ہاؤز میں داخل ہوکر وہاں کے عملہ سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کی تھی۔ کجریوال نے کہا کہ کیرالا ہاؤزمیں داخل ہونا دہلی پولیس کا کام نہیں تھا، یہ وفاقی ڈھانچہ پر حملہ ہے ۔ دہلی پولیس بی جے پی سینا کی طرح کام کررہی ہے ۔ چیف منسٹر دہلی نے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیاپولیس کسی دن کسی ریاست کے بھون میں چیف منسٹر کو گرفتار کرلے گی اگر انہیں شبہ ہو کہ چیف منسٹر نے وہ کھایا ہے جو بی جے پی اور مودی جی کو پسند نہیں۔ اسی دوران کمشنر پولیس دہلی بی ایس بسی نے اپنی فورس کی بھرپور مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ کیرالا ہاؤس پر دھاوا نہیں کیا گیا صرف قانونی کارروائی کی گئی ، ہمیں ایک شکایت ملی اور ہمارا کام ہے کہ اس بارے میں پوچھ کرنا ۔ ہم نے معیاری طریقہ کے مطابق کام کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیرالا ہاؤز میں بیف سربراہ نہیں کیا جارہا تھا ۔ صحافیوں نے جب پوچھا کہ آیا پولیس کے پہنچنے سے قبل گیسٹ ہاؤز کے مینو سے بیف کری نکال دیا گیا ؟ تو بسی نے کہا کہ وہ اس سے واقف نہیں ہے۔ عملہ نے یہ بتایا کہ ان کی فہرست میں بیف کا کوئی آئٹم شامل نہیں ہے ۔اسی دوران کانگریس نے یہاں کیرالا بھون پر دہلی پولیس کی کارروائی کو غلط قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ دارالحکومت میں جرائم اور عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے لیکن پولیس اس پر توجہ دینے کے بجائے اس طرح کے کام کررہی ہے ۔ کانگریس جنرل سکریٹری دگ وجئے سنگھ نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی پولیس کے پاس کسی ریاستی حکومت کے ذریعہ منظم عمارت میں اس طرح کی تلاشی لینے کا حق نہیں ہے ۔ پولیس نے اپنے اختیارات کی حد سے باہر جاکر یہ کارروائی کی ہے جو پوری طرح غلط کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بیرون ملک جاکر سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں حالانکہ اب تک کوئی سرمایہ کاری نہیں آئی ہے اور اس سلسلہ میں دہلی میں افریقی کانفرنر بھی ہورہی ہے ۔ ایسے وقت یہ کارروائی ٹھیک نہیں ہے ۔ اس سے ملک میں آنے والی سرمایہ کاری متاثر ہوگی ۔ اس دوران کیرالا حکومت نے کہا ہے کہ کینٹین میں گائے کا گوشت پیش کئے جانے کی خبر غلط ہے اور پولیس کی کل کی گئی کاروائی کے خلاف دہلی پولیس کمشنر کے پاس شکایت درج کرائی جائے گی۔

Political storm hits New Delhi after cops 'raid' Kerala House over 'beef fry'

0 comments:

Post a Comment