Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-10-29 - بوقت: 19:49

کیرالا بھون دہلی کے کینٹین مینو میں بیف بحال

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
ہندو سینا کے سربراہ وشنو گپتا کو چہار شنبہ کے دن تحویل میں لے لیا گیا کیونکہ اس نے کیرالا بھون میں بیف پر وسنے کی جھوٹی شکایت درج کرائی تھی ۔ گپتا کو پوچھ تاچھ کے لئے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن لے جایا گیا ۔ ایک پولیس عہدیدار نے آئی اے این ایس کو یہ بات بتائی۔ عہدیدار نے کہا کہ کئی کیس میں وہ ہماری نظر میں ہے۔ وہ سابق عام آدمی پارٹی قائد اور وکیل پرشانت بھوشن پر حملہ کا ملزم بھی ہے۔ کمشنر دہلی پولیس بی ایس بسی نے بتایا کہ ہم اس کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ182کے تحت کارروائی پر غور کررہے ہیں ۔ یہ دفعہ کسی سرکاری ملازم کے جائز اختیار کے ذریعہ کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے غلط جانکاری دینے سے متعلق ہے۔ پیر کے دن گپتا نے پولیس میں شکایت کی تھی کہ کیرالا بھون میں بیف اس کی دانست میں گائے کا گوشت پروسا جارہا ہے ۔ اس کی شکایت پر پولیس نے کیرالا بھون پر دھاوا کیاتھا جس پر سخت تنقید ہوئی تھی کیونکہ وہاں کی کینٹین میں صرف بھینس کا گوشت پروسا جاتا ہے ۔ اسی دوران کیرالا بھون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہم نے چہار شنبہ سےCarabeef(بھینس کا گوشت) اپنے مینو میں بحال کردیا ہے۔
کوچی سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب کیرالا ہاؤز میں بیف پر تنازعہ کی مذمت کرتے ہوئے وشو ا ہندو پریشد نے آج کہا کہ سنگھ پریوار تنظیمیں حکومت کیرالا کے سرکاری گیسٹ ہاؤز یا ریاست بھر کی ہوٹلوں کے مینو میں بیف کی شمولیت کی مخالف نہیں ہے ۔ کیرالا بھون پر دہلی پولیس کے مبینہ دھاوے پر تنازعہ کے ایک دن بعد صدر وی ایچ پی کیرالا یونٹ ایس جے آر کمار نے الزام عائد کیا کہ ہندو سینا اور رام سینا جیسی تنظیمیں، مختلف مسائل بشمول کھانے پینے کی عادتوں پر اپنی بات تھوپتے ہوئے نریند ر مودی حکومت کی امیج مسخ کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیرالا بھون میں بیف پروسنے کے مخالف نہیں ہیں ۔ ہندو سینا جیسی تنظیمیں، سنگھ پریوار کا حصہ نہیں ہیں ۔ سنگھ پریوار تنظیمیں، مودی حکومت کی امیج خراب کرنے کی کوشش کبھی نہیں کرتیں ۔

'Beef' Back on Kerala House Menu After Day of Protests Over Delhi Police 'Raid'

0 comments:

Post a Comment