Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2014-11-30 - بوقت: 23:58

جنس کا جغرافیہ - قسط:23

Comments : 4

season-of-sex

مباشرت ، زماں و مکاں کی قید سے بالکل آزاد ہے ، ہر موسم ، مباشرت کا موسم ہوتا ہے ۔ ہر گھڑی جنسی ملاپ کی گھڑی ہوتی ہے۔ ہر لمحہ، لمحۂ وصل ہوتا ہے ۔ صبح کا سر منی اجالا ہو کہ شام کا چمپنی اندھیرا، ہر وقت اس کے لئے بھلا ہے ۔ دوپہر کی گرمی میں بستر وصل پر پسینہ میں شرابور ہونے میں کچھ اور ہی لطف ہے ۔ جانور، جنسی ملاپ کے معاملے میں موسم کے پابند ہیں ۔ انسان اور جانور میں یہی تو سب سے بڑا امتیاز ہے کہ سال کے بارہ مہینوں میں، دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں، کسی وقت بھی وہ اس متبرک فعل میں مشغول ہوسکتا ہے ، گرمی کے موسم میں، چاندنی رات اور ٹھنڈی ہوا ، برسات میں، رم جھم پھوہار اور جاڑوں میں کڑاکے کی سردی سب یکساں اور مفید ہیں۔
مباشرت ایک جسمانی اور دماغی فعل ہے ، جس میں پانچوں حواس محظوظ ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے حلقہ خیال پر خوشبوئیات کا بہت نمایاں اثر ہوتا ہے ۔ خوشبو سے مرد کے مقابلے میں عورت بہت جلد متاثر ہوجاتی ہے ۔ شہوت پسند عورتوں اور مردوں پر خوشبو اور شوخ رنگ کا بڑا گہرا اثر ہوتا ہے ۔

جنسیات کی دنیا میں موسیقی کو اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ اس کی سحر کاری اور تاثری سے کسے انکار ہوسکتا ہے۔ موسیقی کا اثر صرف انسان پر ہی نہیں بلکہ ہر ذی روح اس سے محظوظ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ آگ کا لگنا اور پانی کا برسنا بھی موسیقی کے معجزات میں شامل ہے ، ماہرین موسیقی اپنے کمال سے جانوروں کو اپنے بس میں کرلیتے ہیں ۔ سپیرے سانپوں کو مسحور کرلیتے ہیں ۔ ایسی صورت میں وہ انسان جس کے اعصاب پر جنس سوار ہو شعر و نغمہ سے کیونکر لطف انداز نہ ہوگا؟ ایسے خوب صورت اشعار جن میں وصل کا نقشہ کھینچا گیا ہو ۔ جب دل موہ لینے والی آواز میں گائے جاتے ہیں تو ہر صحت مند شوہر اور بیوی کو یقیناًمباشرت کی طرف مائل کرتے ہیں ، اس لئے کہ موسیقی میں زبردست کشش ہے ۔ مرد کی آواز عورت کے لئے اور اسی طرح عورت کی آواز مرد کے لئے مقناطیس کا کام کرتی ہے ۔ بعض دفعہ عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے پیار بھرے الفاظ سننے سے ہی جسم میں گرمی، گدگدی ہونے لگتی ہے اور جنسی جذبات میں ہیجان پیدا ہوتا ہے ۔ بعض مردوں میں عورت کی صرف آواز سن کر تحریک ہونے لگتی ہے اور اسی طرح بعض عورتوں میں مرد کی آواز کان کے پردے سے ٹکراتے ہی جسم میں جھر جھری سی ہونے لگتی ہے ۔ کیونکہ بعض عورتوں اور مردوں کی آواز میں غضب کی جنسی کشش ہوتی ہے ۔

مباشر ت سے پہلے شوہر اور بیوی کا نیم عریاں یا عریاں ہونا بڑا فن ہے ۔ جسے اگر ہوشیاری سے کام میں لایاجائے تو دونوں کی جنسی تحریک پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ چند کپڑوں کا اتارنا گو بظاہر ایک معمولی کام معلوم ہوتا ہے لیکن یہ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ بیوی کا یکے بعد دیگرے دھیرے دھیرے ، ایک ایک کپڑا اتارنا ،شوہر کی قوت باہ پر اثر ڈال سکتا ہے ۔ یہ ایک ایسا فن ہے جس کی مدد سے شوہر کو لبھایاجاسکتا ہے اور اس کی شہوت میں مزید اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ بعض دفعہ کپڑوں کے اتارنے میں عورت کی طرف سے مزاحمت بھی مرد کے لئے شہوت انگیز ہوسکتی ہے اور ہر عورت کے لئے یہی انتہائے شوق ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ کبھی کبھی شوہر اسے بازوؤں میں بھینچ کر زبردستی اس کے جسم کے کپڑے علیحدہ کرے ۔ایسی شکست سے وہ خاصی لطف اندوز ہوتی ہے اور اس سے مرد کے جذبہ فتح یابی کی بھی تسکین ہوتی ہے ۔ چھینا جھپٹی کے اس لطیف اور نازک کھیل کے بغیر محبت کا پھول مرجھاجاتا ہے ۔ اس قسم کی چھیڑ چھاڑ بہت ضروری ہے بلکہ لوازمۂ مباشرت ہے ۔
لوازمات مباشرت میں عورت کے سنگھار کی بھی خاص اہمیت ہوتی ہے، ایک بیوی کے لئے اپنی نفاست پسندی کا ثبوت دینے کا یہی تو بہترین موقع ہوتا ہے ۔ یہی تو وہ وقت ہوتا ہے جب سولہ سنگھار کرکے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر بننے کی کوشش کرے ۔ اکثر یہ دیکھاجاتا ہے کہ جب عورتیں شادی بیاہ یا کسی تہوار میں شریک ہوتی ہیں تو خوب بن سنور کر جاتی ہیں ، لیکن بستر وصل پر نہایت سادہ گھریلو کپڑوں میں پہنچ جاتی ہیں ، وہ ہرگز یہ نہیں سمجھتیں کہ ان کی نمائش حسن کی سب سے زیادہ ضرورت تو ان کے شوہروں کو ہے ۔ دراصل ان کا سارا بناؤ سنگھار اپنے شوہروں کو لبھانے اور ریجھانے کے لئے ہونا چاہئے ۔ مردوں کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ وہ صاف ستھرے اور دیدہ زیب کپڑے پہنیں ۔

مباشرت میں شوہر اور بیوی کے لئے نہ صرف کپڑوں کی صفائی ضروری ہے بلکہ جسمانی صفائی کی بھی کافی اہمیت ہے۔ خصوصاً عورت اپنے اعضائے مخصوص کی صفائی کی طرف خاص دھیان دے کیونکہ بعض مردوں کی نفاست پسندی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ذرا سی گندگی بھی جنسی فعل میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور اسی طرح غلاظت کا خیال مباشرت میں عورتوں کو ستاتا رہتا ہے۔ جب ہم مباشرت کو ایک متبرک اور مقدس فعل تصور کرتے ہیں تو پھر کیوں نہ صرف جسم اور کپڑے بلکہ سارے ماحول کو پاک و صاف رکھیں ۔ ایسے کمرے کو "حجرۂ وصل" بنائیں جو بہت پر سکون ہو اور جہاں کسی مداخلت کا خدشہ نہ ہو ورنہ سارا مزہ کرکرا ہوجاتا ہے ۔
ڈرائنگ روم سے زیادہ حجرہ وصل کی اہمیت ہے ۔ اس لئے اسے کافی سجاسجایا ہونا چاہئے۔ یعنی جنسی خواہش کے ماحول کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہو ۔ ہلکی ہلکی روشنی خواہ برقی کی ہو یا مٹی کے دئیے کی۔ صاف ستھرا نرم بستر خواہ ربر کا ہو یا گھاس پھوس کا۔ کمرے کی روغنی یا لپی پتی دیواروں پر اپنی پسند کی چند تصویریں۔

مباشرت کی تفصیلات جاننے سے پہلے اس راز سے واقفیت بے حد ضروری ہے کہ عورت اور مرد کے انفرادی نقطہ نظر سے مباشرت کا کیا مطلب ہے؟ عورت اور مرد کی جنسی تسکین کی نوعیت بالکل جدا گانہ ہے ۔ دونوں کی جنسی تسکین کا بنیادی فرق یہ ہے کہ مرد کے لئے منی کا ذکر سے خارج ہونا نہایت ضروری ہے ۔ جب کہ عورت کی جنسی تسکین کا حاملہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ عورت کے جسم سے کسی ایسے مادہ کا اخراج نہیں ہوتا جس سے حمل قرار پائے ۔ یعنی عورت کی جنسی تسکین کے بغیر بھی مرد کی منی کے جراثیم اور عورت کے پختہ بیضہ کے ملاپ کی وجہ سے حمل قرار پا سکتا ہے ۔اس طرح عورت اور مرد کے انزال میں یہ بنیادی فرق ہے کہ مرد کے انزال کے لئے منی کا خارج ہونا ضروری ہے جب کہ عورت کے انزال میں منی جیسی کوئی چیز خارج نہیں ہوتی اور اس کا انزال افزائش نسل پر کس طرح اثر انداز نہیں ہوتا۔ مطلب یہ کہ اس کی جنسی آسودگی ہو یا نہ ہو بہر حال حمل قرار پاتا ہے ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مرد کی منی عورت کی فرج میں داخل ہو اور منی کے جراثیم کا ملاپ عورت کے بیضے سے ہو مرد کا انزال قرار حمل کے لئے نہایت ضڑوری ہے جب کہ عورت کا انزال کا حمل قرار پانے سے کوئی تعلق نہیں ، اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر عورت کا انزال کیا ہے ؟ اس کا جواب اتنا آسان نہیں ، جوعورتیں انزال کے تجربے سے نہ گزری ہوں ، ان کو سمجھانے کے لئے چھینک کی مثال دی جاسکتی ہے ۔ گوانزال میں چھینک سے کئی گنازیادہ راحت، تسکین و سرور اور لذت ملتی ہے، بلکہ یو ں کہئے کہ اس مزے دار"مزہ" کے آگے دنیا کے سارے مزہ ہیچ ہیں ، اس میں شک نہیں کہ انزال کی سچی تصویر یا صحیح کیفیت کا اظہار الفاظ میں مشکل ہے۔ کیونکہ یہ بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کسی اندھے کو رنگ کے معنی بتلائے جائیں ۔ عورت کے انزال میں اور چھینک میں چار باتیں مشترک ہیں، پہلے تویہ کہ چھینک صرف ناک میں آتی ہے اور اس کا وجود ناک سے باہر کہیں نہیں ہوتا ۔ دوسرے یہ کہ چھینک سے پہلے ناک میں ایک قسم کا تناؤ، ایک طرح کے کھنچاؤ کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب ضرور کچھ ہونے والا ہے ۔ تیسرے یہ کہ چھینک اس تناؤ اور کھنچاؤ کے فوری بعد اتی ہے اور اس کی نوعیت یا کیفیت کسی پٹاخے کے پھٹ پڑنے کی سی ہوتی ہے۔ چوتھے کہ جب چھینک ختم ہوجاتی ہے تو راحت کا زبردست احساس ہوتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بلا سر سے ٹل گئی اور اس کے چند لمحے بعد یہ یاد بھی نہیں رہتا کہ کچھ دیر پہلے ناک میں کسی قدر تناؤ کی کیفیت تھی ۔ یہی چار باتیں عورت کے انزال کی صورت میں بھی کم و بیش پیش آتی ہیں۔ چھینک کی طرح انزال کا احساس بالکل مقامی ہوتا ہے ۔ یعنی اندرونی طور پر فرج کی نالی میں اور بیرونی سطح میں دانہ تک محدود ہوتا ہے ۔ انزال سے پہلے ان جگہوں میں بے چینی محسوس ہوتی ہے ۔ جس کی کیفیت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی کہ چھینک سے پہلے ناک میں ہوتی ہے۔ انزال کی ابتداء میں تناؤ اور کھینچاؤ کا احساس ہوتا ہے اور خاتمہ بالخیر یعنی راحت بخش ہوتا ہے ۔ انزال خود لذت کی انتہا ہوتی ہے ۔ گویہ مختصر وقت کے لئے ہوتا ہے ۔ انزال کے بعد مکمل سکون کا احساس ہوتا ہے ، جیسے کہ طوفان کے بعد خاموشی ، وہی حصہ جو چند لمحے پہلے کافی حساس ہوگیا تھا ، پھول کر سخت ہوگیا تھا ، گرم ہوگیا تھا ، اب سرد اور پرسکون ہوجوتا ہے اور اپنی اصلی حالت پر آجاتا ہے ۔ دانہ چونکہ مرد کے ذکر کا زنانہ روپے ہے ، اس لئے عورت انزال کے وقت کافی لطف اندوز ہوتی ہے ۔ یہاں پھر یہ واضح کردینا نہایت ضروری ہے کہ انزال کی صورت میں عورت کی فرج سے مرد کی منی طرح کوئی مادہ خارج نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ مرد کے بہ نسبت عورت یکے بعددیگرے مباشرت میں مشغول ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ ہر مباشرت میں مرد کے انتہا کے لئے منی کا خارج ہونا ضروری ہے جب کہ قدرت نے طرفداری سے کام لے کر عورت کو اس صرفے سے بچائے رکھا ہے ۔
عورت اور مرد کے انزال کے فرق کو سمجھنے کے لئے مرد کے انزال کے بارے میں بھی مختصر اً جاننا ضروری ہے ۔ مرد کی منی جب پیشاب کی نالی کے آخری سرے سے باہر نکل پڑتی ہے تو انزال ہوجاتا ہے ۔ یہ لمحات گو بہت مختصر ہوتے ہیں لیکن بڑے پرلطف ہوتے ہیں ، مرد کے انزال کے وقت جسم میں بہت سی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ سانس کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ۔ جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن بڑ ھ جاتی ہے ، گردن کے پٹھوں کے سکڑنے کی وجہ سے دماغ میں عارضی تعطل سا پید ا ہوجاتا ہے اور انزال کیو قت عارضی بے ہوشی کا سا عالم ہوجاتا ہے ۔ آنکھیں لال اور بے حس ہوجاتی ہیں، کچھ لوگوں میں سانس کی آواز تیز ہوجاتی ہے ، اور اکثر منہ سے فرط مسرت سے بے اختیار جملے نکل جاتے ہیں ۔ انزال کے یہ لمحے بہت پرلطف ، راحت بخش اور روح افزاہوتے ہیں ۔
انزال کے وقت منی کی تھیلیاں سکڑ جاتی ہیں اور منی کو مثانہ میں ڈھکیل دیتی ہیں، جہاں یہ پیشاب ی نالی کے بیرونی حصے میں پہنچ جاتی ہے ، اس مقام پر پھولے ہوئے پٹھے اسے فوارے کی شکل میں انتہائی زور سے باہر پھینکتے ہیں ، اگر عورت کی فرج راہ میں حائل نہ ہو تو یہ تقریباً چار فٹ کے فاصلے پر اس سے بھی دو ر جاگرے گی ۔
ایک صحت مند مرد کے ایک وقت کے انزال میں کروڑوں جراثیم ہوتے ہیں ، اسی لئے کہاجاتا ہے کہ مرد کے ایک وقت کے انزال میں جو منی خارج ہوتی ہے اس سے دنیا کی ساری بالغ عورتیں حاملہ ہوسکتی ہیں ، نظریاتی طور پر یہ بات شاید اپنی جگہ درست ہو لیکن عملی طور پر کتنی مضحکہ خیز ہے ۔

The Geography of sex -episode:23

4 comments:

  1. براے مہربانی اسے مکمل کیجیے۔

    ReplyDelete
  2. please continue it.

    ReplyDelete
  3. باقی بھی پوسٹ کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز

    ReplyDelete